(باخبر سوات ڈاٹ کام) کالام کے علاقہ مہو ڈنڈ میں سیاح اور ہوٹل ملازم کے درمیان جھگڑے کے کچھ دن بعد سوشل میڈیا کے ذریعے ملازم پر اپنی بیوی کو ہراساں کرنے کا الزام لگا دیا گیا۔ ہوٹل مالک خان جی کے مطابق سیاحوں کا ایک گروپ 18 جون کو مہو ڈنڈ آیا تھا کہ رات کو ایک شخص محمد ارسلان ولد عبدالحمید ساکن لیک سٹی لاہور جو نشہ کی حالت میں تھا، ہوٹل ملازم سے جھگڑا گیا۔اس کے دوران محمد ارسلان کا ہاتھ زخمی ہوگیا۔ وہ جب طبی امداد کے لئے ہسپتال گیا، تو وہاں عملے نے ان کو پولیس رپورٹ کے لئے کہا، لیکن انہوں نے انکار کردیا اور چند روز بعد سوشل میڈیا پر شور مچایا کہ ایک نامعلوم شخص نے ان کے ٹینٹ میں گھسنے اور ان کی بیوی کو ہراساں کرنے کی کوشش کی ہے۔ کالام پولیس نے سوشل میڈیا پر خبر چلنے کے بعد سیاح کو فون کیا اور فون پر ان سے ایف آئی ار لکھوائی، جس کے بعد ہوٹل مالک اور ایک ملازم کو گرفتار کرلیا۔ اس سلسلے میں رابطہ پر سوات ہوٹلز ایسوسی ایشن کے صدر الہاج زاہد خان نے باخبر سوات ڈاٹ کام کو بتایا کہ یہ سوات کے خلاف ایک سازش ہے۔ سوات میں اس سے پہلے اس طرح کا کوئی واقع پیش نہیں آیا۔ مذکورہ سیاح نے چند دن بعد سوات کو بدنام کرنے کے لئے سوشل میڈیا پر شور مچانا شروع کیا۔ دوسری جانب سول سوسائٹی نے پولیس کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہاں لوگ تھانوں میں ایف آئی آر درج کرانے کے لئے جاتے ہیں اور ان کی ایف آئی آر درج نہیں ہوتی۔ ایسا واقعہ جو ہوا ہی نہیں پولیس خود مدعی کو فون کرکے فون کال پر ایف آئی آر کٹواتی ہے۔ایڈیشنل ایس پی سوات نے اس حوالے سے کہا کہ سیاح کی جانب سے کمشنر ملاکنڈ کو ای میل موصول ہوئی جن کی ہدایت پر پولیس نے کارروائی کرکے دو افراد کو گرفتار کیا تھا۔
Swat
