(باخبر سوات ڈاٹ کام) مینگورہ شہر میں تیز بارش کے بعد خوڑوں (ندیوں) میں سیلابی ریلے نے تباہی مچادی۔ ایک بچی پانی میں بہہ کر جاں بحق، 8افراد زخمی اور گھروں، دکانوں میں پانی داخل ہونے سے کروڑوں روپے کا نقصان ہوا۔ منگل اور بدھ کی درمیانی شب سے مینگورہ شہر میں تیز بارش کا سلسلہ جاری تھا جو صبح8بجے سے مزید تیز ہوگیا۔ ساڑھے نو بجے کے قریب مینگورہ خوڑ میں کوکارئی، جامبیل کی جانب سے سیلابی ریلہ آیا جس کا پانی کناروں کی آبادی میں داخل ہوتا گیا۔ مینگورہ شہر میں ریلا بنگلہ دیش، لنڈیکس، مکان باغ اور بنگلہ دیش امانکوٹ میں گھروں میں داخل ہوگیا جس میں ایک تین سالہ بچی ثنا پانی میں بہہ گئی۔ بچی کی لاش کو بعد میں بلوگرام کے مقام پر پانی سے نکال لیا گیا۔ سیلابی ریلہ مکان باغ بازار میں جب داخل ہوا تو پانی ہوٹلوں، بنکوں اور دکانوں میں داخل ہوگیا جس سے انتظامیہ کے مطابق کروڑوں روپے کا نقصان ہوا۔ سیلابی ریلے کی وجہ سے شہر میں ٹریفک معطل ہوگیا، تاہم دوپہر کے بعد خوڑ میں پانی کی سطح کم ہونے سے ٹریفک بحال ہوگئی۔ سیلابی ریلے کی وجہ سے متعدد سرکاری و نجی سکولوں میں بچے محصور ہوگئے جس کو بعد میں ریسکیو، سول ڈیفنس اور سول سو سائٹی کے لوگوں نے بحفاظت نکال لیا۔ مکان باغ میں پانی کئی پارکنگوں میں داخل ہوگیا جس کی وجہ سے درجنوں گاڑیاں خراب ہوگئیں۔ ریلے کا پانی سوات پریس کلب اور ہاکی سٹیڈیم میں بھی داخل ہوا جس سے کروڑوں روپے کا نقصان ہوا۔ سیلابی ریلے کی وجہ سے مختلف مقامات پر بجلی کے کھمبے گرنے سے مختلف علاقوں میں صبح سے بجلی بند رہی۔ پیسکو حکام کے مطابق بارش رکنے کے ساتھ مختلف فیڈروں پر بحالی کا کام شروع کیا جائیگا۔ مینگورہ خوڑ میں پانی کی سطح میں کمی کے بعد ”واسا“ کے اہلکاروں نے صفائی کا کام شروع کیا اور شام تک شہر میں زندگی معمول پر آگیا اور ٹریفک کا نظام بحال ہوگیا۔ادھرکمشنر ملاکنڈ ڈویژن شوکت علی یوسف زئی کا کہنا ہے کہ مینگورہ میں سیلابی صورتحال کے دوران اور بعد میں بھی ادارے مکمل متحرک ہیں۔ عوام کی ریلیف اور سہولت کے لئے ہمہ وقت سرگرم عمل ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ سیلابی صورتحال کے بعد ریلیف اقدامات کا آغاز کردیا گیا ہے۔ اس سلسلے میں وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان کے احکامات کی روشنی میں تمام وسائل بروئے کار لائے جارہے ہیں۔ کمشنر ملاکنڈ ڈویژن شوکت علی یوسف زئی کا کہنا تھا کہ وہ تمام انتظامات کی خود نگرانی کررہے ہیں۔”واسا“ سوات کے بیان کے مطابق ڈبیلو ایس ایس کے سیکڑوں اہلکار ایمرجنسی بنیادوں پر امدادی کارروائیاں کرر ہی ہے۔ انجینئر شیدا محمد، ڈبیلو ایس ایس سی کے چیف ایگزیکٹیو آفیسر شیدا محمد نے میڈیا کو بتایا کہ مینگورہ میں سیلاب کی اطلاع ملتے ہی ڈبیلو ایس ایس کے پانچ سو سے زائد اہلکار امدادی کاموں کے لئے پہنچ گئے۔ اس کے ساتھ وہ خود بھی امدادی کاموں کا معائینہ کررہے ہیں۔
Swat
