(باخبر سوات ڈاٹ کام)وزیر اعلیٰ کے معاون خصوصی برائے اطلاعات بیرسٹر محمد علی سیف نے کہا ہے کہ سوات کے موجودہ حالات کی نگرانی وزیر اعلیٰ خود کر رہے ہیں۔ وزیر اعلیٰ نے واضح کیا ہے کہ سوات میں امن و امان کی صورتحال پر کوئی سمجھوتا نہیں کیا جائے گا۔ دورہئ سوات میں سوات پریس کلب میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کا ناسور ختم کرنے کے لیے مذاکرات کیے گئے،جب ہماری بات چیت ہوئی، تو سوشل میڈیا پر یہ تاثر دیا گیا کہ کچھ علاقے طالبان کے حوالے کرنے کا معاہدہ کیا گیا ہے جس میں کوئی صداقت نہیں۔مذاکراتی عمل پاکستان کے آئین اور قانون کے دائرہ اختیار کے اندر کیا جس میں اب تک کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا ہے۔ طالبان کے ساتھ کوئی ڈیل نہیں ہوئی۔ حکومت عوام کے ساتھ ہے۔ مذاکرات سے صوبائی حکومت کا کوئی تعلق نہیں۔ مذاکرات وفاقی حکومت کے دائرہ اختیار میں ہے، صوبے کی نہیں۔امن کے لئے جو لوگ نکلے ہیں اس پر خوشی ہے۔ بد امنی کے خلاف احتجاجی مظاہروں میں کچھ سیاسی جماعتوں کے اپنے مقصد تھے۔ سوات کے امن کے لیے وزیر اعلیٰ نے خود کہا ہے کہ پہلے حکومت سینے پر گولی کھائے گی۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ مینگورہ بائی پاس کا واقعہ دہشت گردی کا واقعہ نہیں تھا، یہ ایک کرئمنل کیس ہے جس کی تفتیش پولیس کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ادارے صوبائی حکومت سے تعاون نہیں کررہے۔
Swat
