Swat

لویہ جرگہ نے ملاکنڈ ڈویژن کی آئینی حیثیت دوبارہ بحال کرنے اور 10سال تک ٹیکس استثنیٰ میں توسیع کا مطالبہ کردیا

(باخبر سوات ڈاٹ کام) سوات میں جماعت اسلامی کے زیر اہتمام ہونے والے لویہ جرگہ نے ملاکنڈ ڈویژن کی آئینی حیثیت دوبارہ بحال کرنے اور 10سال تک ٹیکس استثنیٰ میں توسیع کا مطالبہ کردیا۔ سوات اور ملاکنڈ ڈویژن کے عوام مزید بدامنی اور آپریشنوں کے متحمل نہیں ہوسکتے۔ جنگلات کی بے دریغ کٹائی کرنے والوں اور دریاؤں کا حسن ماند کرنے والوں کے خلاف بلا امتیاز کارروائی کی جائے۔ ملاکنڈڈویژن کے لئے خصوصی پیکیج کا اعلان کیا جائے اورفارسٹ آرڈیننس کا ظالمانہ قانون واپس لیا جائے۔ سیلاب سے متاثر ہ افراد کی آبادکاری کے لئے اقدامات کئے جائیں۔ بصورت دیگر تمام سیاسی جماعتیں اور سماجی تنظیمیں سول سوسائٹی کے ہمراہ احتجاجی تحریک شروع کرنے پر مجبور ہوں گی۔ اس حوالے سے جماعت اسلامی سوات کے المرکزاسلامی سنگوٹہ میں لویہ جرگہ منعقد ہوا۔ جس کی صدارت جماعت اسلامی کے صوبائی نائب امیر اور رکن صوبائی اسمبلی عنایت خان نے کی۔ اجلاس میں تمام سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں سمیت وکلا، تاجر برداری، سول سوسائٹی، مختلف مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے رہنماؤں اور عمائدین نے شرکت کی اور ملاکنڈڈویژن کو درپیش گو ناگوں مسائل اور عوامی مشکلات پر تفصیلی بحث کی۔ اجلاس کے بعد مشترکہ اعلامیہ میں کہاگیاکہ 1969ء تک خودمختار ریاستیں ہونے کے باوجود ڈویژن کے عوام نے پاکستان کی بقا اور سلامتی کے لئے جنگیں لڑیں اور 1969ء میں ادغام کو قبول کرکے بدلے میں یہاں کے عوام کو آرٹیکل246-247کے تحت جداگانہ حیثیت دیکر ٹیکس فری زون قراردیا گیا، لیکن علاقے کے عوام اور نمائندوں کو اعتماد میں لئے بغیر ملاکنڈڈویژن کی جداگانہ آئینی حیثیت کو ختم کردیا گیا، جو ہمیں کسی صورت قبول نہیں۔ ہمارا مطالبہ ہے کہ ملاکنڈ ڈویژن کو آئندہ 10سالوں تک ٹیکس فری زون قراردیا جائے۔ اعلامیہ میں کہاگیا ہے کہ ملاکنڈڈویژن میں 312میگاواٹ بجلی پیدا ہورہی جبکہ 318میگاواٹ کے منصوبوں پر کام جاری اور مزید 1500میگاواٹ بجلی پیداہوسکتی ہے اور 100فیصدادائیگی ہونے کے باوجود لوڈشیڈنگ ہورہی ہے، جو ہمیں قبول نہیں۔ انہوں نے کہاکہ فارسٹ ایکٹ2022ء کے تحت یہاں کے عوام کو مالکانہ حقوق سے محروم کیا گیا ہے جو ہمیں کسی صورت منظور نہیں۔ اعلامیہ میں مزید کہاگیا ہے کہ ملاکنڈ ڈویژن کے عوام سیلاب،زلزلہ اور بدامنی سمیت آپریشن سے متاثرہیں اور ہم مزید آپریشن اور بدامنی کے متحمل نہیں ہوسکتے۔ اس لئے حکومت امن عامہ کو بہر صورت یقینی بنائے اور ملاکنڈ ڈویژن کے لئے خصوصی پیکج کا اعلان کرے۔ اعلامیہ میں واضح کیا گیا ہے کہ اگر حکومت نے لویہ جرگہ کے مطالبات کو تسلیم نہ کیا تو پھر بھرپور احتجاجی تحریک چلائی جائے گی اور پھر حالات کی سنگینی کی تمام تر ذمے داری حکومت پر عائد ہوگی۔

اشتہار / Advertisement
اس تحریر کو شیئر کریں:

⭐ آپ کو یہ تحریر کیسی لگی؟ (درجہ بندی کریں)

براہ کرم اس تحریر کو 1 سے 5 ستاروں کے درمیان ریٹنگ دیں

اوسط ریٹنگ: 0 / 5 (0 ووٹ)

اپنا تبصرہ تحریر کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کی نشاندہی * سے کی گئی ہے۔