
بہار کی آمد آمد تھی۔ ہر طرف رنگ برنگے پھول کھلے تھے۔ پھول ہوا کے جھونکوں کے ساتھ لہلا رہے تھے۔ ہوا میں عجیب سی تر و تازگی تھی۔ ہم مسجد کی طرف بھاگے جارہے تھے۔ جمعہ کا دن جو تھا۔ مسجد میں داخل ہوکر خاموشی سے ایک طرف بیٹھ گئے۔ بہار کی تازہ ہوا ہمارے ساتھ اٹکھیلیوں میں مصروف تھی۔ نماز ختم ہونے کے ساتھ مسجد کے منتظم نے کھڑے ہوکر محلے کے عقب میں رہنے والے مٹی کے لیپ شدہ کچے گھر میں رہنے والے دلبر خان کاکا کے لیے چندے کا اعلان کیا۔ اُن کو دل کا عارضہ لاحق تھا، لیکن معاشی تنگ دستی کی وجہ سے علاج سے قاصر تھا۔ مسجد والوں نے دل کھول کر مدد کی۔ فیروز خان دادا کے کندھے کا سفید چادر رنگ برنگے نوٹوں سے بھر گیا۔ میرا دل بیٹھے بیٹھے اُداس ہوگیا۔ بہار کی وہ مسحور کن ہوائیں مانف پڑگئیں…… اور سوچتے سوچتے مسجد سے اُٹھ گیا۔
یہ میرے بچپن کی کہانی ہے۔ مسجد میں کئی دفعہ ایسی مہلک بیماریوں کے لیے میں نے چندہ اکھٹا کرنا دیکھا ہے اور ایک مریض کے لیے بار بار چندہ اکھٹا کرنا بھی دیکھا ہے۔ وہ تو خدا بھلا کرے پی ٹی آئی حکومت کا کہ ان کی کوششوں سے لوگوں کو صحت کارڈ کے نام سے تحفہ دیا۔ صحت کارڈ کے بعد مَیں نے کبھی کسی مجبور مریض کو سرِ راہ یا مسجد میں اجتماعی چندے کے لیے کھڑے ہوتے ہوئے نہیں دیکھا۔ آپ خود سوچیں کہ مجبور شخص اگر بیمار ہوجائے، تو اُس پر کیا گزرتی ہوگی؟ آپ نے کھیت کھلیاں کو، گائے بھینس کو بیماری کے لیے فروخت کرتے ہوئے بہت سنا ہوگا لیکن صحت کارڈ پروگرام کے بعد ایسے واقعات میں نمایاں کمی آئی ہے۔ ایسے پروگرام یقینا انقلابی ہوتے ہیں۔
مَیں چوں کہ خود شعبۂ صحت سے منسلک ہوں اور خود بھی ایک ہسپتال چلاتا ہوں۔ اس پروگرام میں موجود خامیوں کے بارے میں لکھ چکا ہوں اور اعلا افسران کو وقتاً فوقتاً آگاہ بھی کرچکا ہوں۔ گذشتہ دنوں صحت کارڈ کو اچانک بند کر دیا گیا اور پھر عوامی حلقوں کی طرف سے آنے والے ردِعمل کی وجہ سے اسے دوبارہ کھولا گیا۔ مَیں آپ کو بتاتا چلوں کہ یہ پروگرام (جیسا کہ یہ موجودہ چل رہا ہے) زیادہ دیر تک نہیں چل سکتا اور نہ چاہتے ہوئے بھی یہ بند ہو جائے گا۔
میری دانست میں اس پروگرام کی مزید بہتری کے لیے اور زیادہ دیر تک چلنے کے لیے درجِ ذیل تجاویز کار آمد ہیں:
٭ صحت کارڈ کے دائرہ کار کو کم وسیلہ اور معاشرے کے کم زور طبقوں کے لیے محدود کرنا چاہیے۔ اس وقت صحت کارڈ پر ہر کوئی علاج کرسکتا ہے، چاہے امیر ہو یا غریب۔ پچھلے دنوں ایک بہت بڑے سرکاری آفیسر نے اپنا علاج صحت کارڈ سے کروایا اور پھر میرے آفس آکر کہنے لگا کہ مجھے رسیدیں دے دیں۔ تاکہ یہ پیسے حکومت سے نکلوا سکوں۔ مَیں نے کہا کہ ایک تو آپ سرکاری ملازم ہیں۔ علاج صحت کارڈ سے کروایا۔ ہیلتھ الاؤنس الگ سے ملتا ہے اور فیک رسیدوں کا مطالبہ بھی کر رہے ہیں۔ میرے انکار پر وہ برا مان گئے اور اب مجھے مختلف حیلوں بہانوں سے تنگ بھی کرتے ہیں۔
٭ سرکاری ملازمین کو یا تو ہیلتھ الاؤنس دیا جائے، یا ان کو صحت کارڈ پر علاج تک رسائی دی جائے۔ دونوں سہولیات کا بیک وقت حصول اس ڈیفالٹ زدہ ملک کے ساتھ زیادتی ہے۔
٭ صحت کارڈ پر علاج کا دائرہ کار مہلک اور جان لیوا امراض تک محدود ہونا چاہیے۔ مثال کے طور پر دل کے امراض، گردوں کے امراض وغیرہ۔ صحت کارڈ پر اب اگر بچے کی پیدایش ہو، تو وہ مکمل طور پر مفت ہوتا ہے۔ آپ کو معلوم ہونا چاہیے کہ اس وقت دنیا میں پاکستان آبادی کے لحاظ سے پانچواں بڑا ملک ہے۔ یہ بے ہنگم آبادی ہی ترقی کی راہ میں سب سے بڑی دشواری ہے۔ اب حکومت کی ایسی پالیسیاں آبادی میں اضافے کی حوصلہ افزائی کرنا ہے۔ اس کا حل یہ ہے کہ ہر جوڑے کے پہلے دو بچوں کو صحت کارڈ کے تحت مفت علاج جب کہ مزید بچوں کو یہ سہولت نہیں دینی چاہیے۔
٭ صحت کارڈ پر پرائیویٹ ہسپتالوں میں بھی ایک عجیب صورتِ حال ہے اور کئی پرائیویٹ ہسپتالوں میں یہ سرکاری وسائل کے استحصال کا سبب بن رہا ہے۔ پرائیویٹ ہسپتالوں میں وسائل کے مطابق سرجریز کا کوٹا ہونا چاہیے۔ مثال کے طور پر بعض پرائیویٹ ہسپتالوں میں ایک لیپرو سکوپ ہوتا ہے اور وہ ایک دن میں 20، 30 آپریشن کرتا ہے جو کہ مریضوں کے ساتھ ظلم ہے…… اور کئی قسم کے انفیکشن کا سبب بنتا ہے۔ صحت کارڈ کے بعد ہیپاٹائٹس کے امراض میں خطرناک حد تک اضافہ ہوا ہے اور اس کی بنیادی وجہ کم سہولیات میں زیادہ آپریشن کرنے ہیں۔
مَیں نے ایک دفعہ ایک ہسپتال کا دورہ کیا۔ وہاں پر گلے کے آپریشن کے جراحی کا ایک عدد سیٹ موجود تھا…… اور وہاں پر دن میں دو ڈاکٹرز مجموعی طور پر چھے سے آٹھ آپریشن کر رہے تھے۔ اب ایک سیٹ کو سیٹرلایزیشن کا پروٹوکول کیا تھا۔ مَیں یہاں پر بیان نہیں کرسکتا۔ اسی طرح ہسپتال میں آپریشن تھیٹر اگر دو یا تین ہیں، تو ایک دن میں وہاں پر 15، 20 آپریشن کیسے ہوسکتے ہیں؟
٭ پرائیویٹ ہسپتالوں میں انفیکشن کنٹرول کی روک تھام کے لیے باقاعدہ طور پر مانیٹرنگ ٹیمیں ہونی چاہئیں۔ کچھ ہسپتال تو باقاعدہ طور پر امراض بانٹ رہے ہیں۔ ایسے ہسپتال بھی ہیں، جہاں پر ڈاکٹر اور سٹاف آپریشن تھیٹر کا مخصوص لباس نہیں پہنتے اور روزمرہ استعمال کے کپڑوں میں مریضوں کا آپریشن کرتے ہیں، جو کہ ایک بہت خطرناک بات ہے۔ صحت کارڈ کی مد میں پیسے بچانے کے لیے کچھ ہسپتال ٹرینڈ اور سند یافتہ سٹاف کی بجا ئے طلبہ اور صحت کے شعبہ سے وابستہ غیر سند یافتہ لوگوں (خالہ) سے کام چلاتے ہیں جو کہ نہ صرف اموات کا سبب بنتا ہے، بلکہ مریضوں کو کئی اور نقصان بھی اُٹھانا پڑتے ہیں۔ کئی ہسپتالوں میں غیر معیاری ادویہ کا بازار گرم ہے جب کہ جراحی میں استعمال کے لیے بعض آلات کو دوبارہ استعمال کیا جاتا ہے۔
اس طرح بعض ڈاکٹرز جو کہ کوالیفایڈ نہیں ہوتے، مریض کو کوالیفایڈ ڈاکٹر کے نام پر داخل کرتے ہیں اور آپریشن بعد میں خود کرتے ہیں۔ اس سسٹم میں مریض کو اپنے سرجن کے بارے میں کم علم ہوتا ہے اور باقاعدہ طور پر اس کا استحصال ہوتا ہے ۔
ان عوامل کی روک تھام کے لیے باقاعدہ طور پر مانیٹرنگ کمیٹیاں ہونی چاہئیں، جو کہ کارکردگی کی بنیاد پر ہسپتالوں کی رینکنگ کریں اور اسی رینکنگ کو عوام کے لیے پبلک کریں، تاکہ لوگ اپنے علاج کے لیے بہترین ہسپتال کا انتخاب کریں۔
٭ سرکاری ہسپتالوں سے یا تو صحت کارڈ کو ختم کریں اور یا صحت کی مد میں فنڈ دینا بند کردیں۔ اس ہائبرڈ سسٹم میں اس ملک کے عوام کے ٹیکس کا پیسا یوں برباد ہو رہا ہے جو کہ آپ کی سوچ سے بھی باہر ہے۔ سرکاری ہسپتالوں میں کام کرنے والے ڈاکٹرز اور دوسرے عملہ کو اپنے کام کی اجرت میں تنخواہ ملتی ہے اور اوپر سے صحت کارڈ کی مد میں اپنا حصہ (Share) ملتا ہے۔ یوں ایک کام کرنے کا عوض دو صورتوں میں ملتا ہے۔
٭ صحت کارڈ کا ٹھیکا سٹیٹ لائف انشورنس کمپنی کو دیا گیا ہے۔ حکومت اس کمپنی کو پیسے دیتی ہے اور یہ کمپنی ہسپتالوں کو علاج کے بعد دیتی ہے۔ ہونا تو یہ چاہیے کہ حکومت اس ٹھیکے کے لیے باقاعدہ طور پر ٹینڈر کراتی اور زیادہ فائدہ مند کمپنی کو یہ ٹھیکا دیا جاتا۔ اس پروگرام پر ایک قسم سے سٹیٹ لائف کی اجارہ داری نہیں ہوتی اور کمپنیوں کے درمیان مقابلے کا رجحان ہوتا۔
٭ حکومت کے آپریشن کے لیے مروجہ قیمتیں بہت کم متعین ہوئی ہیں، جس میں ہسپتال کو بہت کم پیسے بچتے ہیں اور ڈاکٹر بھی متاثر ہوتا ہے۔ پیسے بچانے کے چکر میں صحت کارڈ پر مہیا کیا جانے والا علاج اکثر غیر معیاری ہوتا ہے اور مریض کو الٹا فائدہ کی جگہ نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔ مثال کے طور پر آنکھوں کے پردے کے آپریشن کے لیے صحت کارڈ پر 14 ہزار روپے دیے جاتے ہیں جب کہ اس آپریشن میں استعمال ہونے والے معیاری لینز کی قیمت 22 ہزار روپے ہے۔ مجبوراً اس آپریشن میں انڈیا اور پاکستان کا کم زور لینز استعمال کیا جاتا ہے، تاکہ پورے آپریشن کے بجٹ کو 14 ہزار تک محدود رکھا جاسکے۔ نتیجتاً مریض کو آپریشن کے وہ ثمرات نہیں ملتے۔
٭ حکومت کو ہسپتالوں کو معیار اور موجود سہولیات کے مطابق پیکیج دینا چاہیے۔ اگر کوئی ہسپتال معیار کا واقعی خیال رکھ رہا ہو، تو ان کے ریٹ دوسرے ہسپتالوں کے مقابلے میں خاطرخواہ حد تک ہونے چاہئیں۔
٭ سٹیٹ لائف ہسپتال والوں کو علاج کے بعد ایک ماہ کے دوران میں پیسے دینے کا پابند ہے۔ بدقسمتی سے ہسپتالوں کو پیسے اکثر 4 اور 5 ماہ کے بعد قسطوں میں ملتے ہیں، جس کی وجہ سے سارا بوجھ ہسپتال پر پڑتا ہے۔
٭ ملک میں مہنگائی میں ہوش رُبا اضافے کے باوجود صحت کارڈ کے پیکیج میں اضافہ نہیں ہوا …… جس کی وجہ سے ہسپتالوں کے لیے معیار کو قائم رکھنا ایک بہت بڑا چیلنج ہے۔
٭ صحت کارڈ پروگرام کی ترویج بہت غلط طریقے سے کی گئی ہے۔ عام آدمی کے لیے صحت کارڈ پر ہر قسم کے علاج کی سہولت موجود ہے۔ حالاں کہ ایسا بالکل نہیں۔ اکثر و بیشتر صحت کارڈ پر علاج کرنے والے لوگ ہسپتال کے عملہ کے ساتھ گتھم گھتا ہوتے ہیں کہ ہسپتال والوں نے ہمارے کارڈ سے زیادہ پیسے کاٹے ہیں یا ہسپتال والے ہمیں صحت کارڈ پر فُلاں علاج کی سہولت نہیں دے رہے۔ یہ سارے مسائل غلط پیغام رسانی کا نتیجہ ہیں۔
٭ صحت کارڈ میں شوگر، بلڈ پریشر اور دوسرے ایسے امراض کو شامل کرنا چاہیے جس کا علاج جاری ہوتا ہے اور مریض ماہانہ ہزاروں روپیا اپنے علاج پر خرچ کرتا ہے۔
٭ صحت کارڈ کی مد میں حکومت کا سالانہ اربوں روپے خرچ کرنا پڑتے ہیں…… جو کہ پاکستان جیسے غریب ملک میں زیادہ سالوں تک چلنے والا نہیں۔ حکومت کو چاہیے کہ صاحب وسیلہ اور تنخواہ دار طبقے سے صحت کی مد میں پیسے لیں اور اس کے مطابق پیکیج مہیا کی جائے۔ مثال کے طور پر اگر کوئی اس پروگرام کے تحت زیادہ پیسے دیں، تو ان کو صحت کی بہترین سہولیات بہترین ہسپتالوں میں دی جائیں۔
٭ حکومت کو دوائیوں کی اپنی فارمولری بنانی چاہیے اور دوائیوں کو جینرک ناموں سے بنانا چاہیے۔ اس سے عوام کو معیاری اور سستی ادویہ میسر ہوں گی اور یوں ہسپتالوں اور صحت کارڈ والوں کے لیے بڑی بچت کا سبب بھی بنے گا۔
٭ صحت کارڈ میں لیے گئے اکثر “HFO” سفارش پر لیے گئے ہیں اور کم تعلیم ہونے کی وجہ سے صحت کی اصطلاحات کو نہیں سمجھتے، جس کی وجہ سے یہ کئی پریشانیوں کا سبب بنتے ہیں۔ اسی طرح اس پروگرام میں میڈیکل سے وابستہ اعلا تجربہ کار اور سپیشلائزڈ ڈاکٹروں کی خدمات لینی چائیں جو کہ اس پروگرام کا ازسرنو جائزہ لیں اور اس میں موجود خامیوں کو نکال سکیں۔
وما علینا الا البلاغ……!
بہترین اور قابل عمل تجاویز ہیں، سرکار کی فوری توجہ کی ضرورت ہے۔