(باخبر سوات ڈاٹ کام) سوات میں تحریک انصاف کے سابق اراکین اسمبلی اور عہدیداروں کی بدعنوانی کے خلاف محکمہ اینٹی کرپشن نے تحقیقات کا آغاز کردیا۔ موصولہ ابتدائی رپورٹ کے مطابق سوات میں سرکاری نوکریوں اور ترقیاتی کاموں میں بڑے پیمانے پر بدعنوانی کی گئی ہے۔ محکمہ اینٹی کرپشن کی ابتدائی رپورٹ کے مطابق گبین جبہ مٹہ میں وزیر اعلیٰ کے ایک قریبی ساتھی کی60 کنال زمین ہے، جہاں جانے کے لئے راستہ نہیں تھا۔ ان کی زمین تک رسائی کے لئے10 ملین روپے کی لاگت سے کنٹریکٹ روڈ بنایا گیا ہے۔ پھر محکمہئ سیاحت نے اس زمین کو ٹورسٹ ٹینٹ میں تبدیل کرکے خیرات محمد کو بھاری مالی فائدہ پہنچایا ہے۔ رپورٹ کے مطابق کانجو ٹاون شپ میں تحریک انصاف کی ایک خاتون رہنما نے دورانِ حکومت15 ملین روپے کا گھر خریدا ہے اور کانجو چوک میں ایک پلازہ تعمیر کیا ہے، جس کو ایک بینک کو کرایہ پر دیا گیا ہے۔ اس خاتون کا کانجو ٹاون شپ میں ایک گرلز ہاسٹل بھی ہے۔ سابق وزیر اعلیٰ کے بھائی نے مانکیال ٹورسٹ سٹی میں قیمتی زمین بہت کم داموں پر خریدی ہے۔ رپورٹ کے مطابق سابق وفاقی وزیر مراد سعید نے سڑکوں اور بجلی کی مد میں کاموں میں بھاری بدعنوانی کی ہے۔ مراد سعید نے اپنے ایک دوست کے گھر تک تین کلومیٹر سڑک بنائی ہے، جس سے صرف اس کے دوست سردار کو فائدہ ہوا ہے۔اس طرح مراد سعید نے بجلی کی سکیموں میں بھی بڑی مقدار میں بدعنوانی کی ہے۔ محکمہ انٹی کرپشن کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ باقی سابق اراکین اسمبلی نے بھی بڑے پیمانے پر بدعنوانی کی ہے جس کی تحقیقات جاری ہے۔
Swat
