(باخبر سوات ڈاٹ کام) ڈبلیو ایچ اُو ملاکنڈ ڈویژن کے کوآرڈی نیٹر ڈاکٹر خواجہ عرفان اور یونیسیف کی شاداب یونس نے کہا ہے کہ پولیو صرف بچوں کو نہیں بڑی عمر کے لوگوں کو بھی ہوتا ہے، اس لئے اب ہم نے طور خم میں پاک افغان سرحد پر افغانستان سے آنے والے ہر عمر کے افراد کو پولیو کے قطرے پلانا شروع کر دیئے ہیں۔ اس سال پاکستان میں پولیو کا ایک کیس سامنے آیا ہے۔ ہم سب مل کر اپنے وطن کو پولیو جیسے موذی مرض سے پاک کریں گے، تاکہ پاکستان میں کوئی بچہ عمر بھر کی معذوری سے بچ سکے۔ سیدو شریف کے مقامی ہوٹل میں یک روزہ میڈیا ورکشاپ سے اپنے خطاب میں انہوں نے کہا کہ اس وقت دنیا بھر میں صرف دو ممالک پاکستان اور افغانستان ہیں، جہاں پولیو کا وائرس پایا جاتا ہے۔ اپنے ملک کو پولیو سے پاک کرنے کے لئے ہر بار اپنے بچوں کو پولیو کے قطرے پلائے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ پولیو صرف بچوں کو نہیں ہوتا، بڑی عمر کے افراد کو بھی ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملاکنڈ ڈویژن سیاحتی علاقہ ہے۔ انہوں نے تمام داخلی راستوں پر مستقل طور پر پولیو کی ٹیموں کو تعینات کیا ہے، تاکہ آنے والے سیاحوں کے بچوں کو پولیو کے قطرے پلائے جاسکیں۔ اس موقع پر ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر سوات سہیل احمد خان نے کہا کہ ہم جب تک پولیو سے پاک نہیں ہوں گے، اس وقت تک دنیا ہم کو تسلیم نہیں کرے گی۔ اس لئے ہم سب کے لئے ضروری ہے کہ ہم اپنے ملک کو پولیو سے پاک کردیں۔
Swat
