(باخبر سوات ڈاٹ کام)سوات کے پولیس تھانوں میں قائم مصالحتی کونسل میں خواتین، خوجہ سرا اور اقلیتی خواتین ممبران کو شامل کیا گیا۔ اس سلسلے میں ڈی پی او آفس میں تقریب منعقد ہوئی جس میں نئے ممبران سے حلف لیا گیا۔ اس موقع پر ڈی پی او سوات شفیع اللہ گنڈا پور نے کہا کہ فریقین کے درمیان بعض تنازعات ایسے ہوتے ہیں، اگر ان میں ایف آئی آر ہوجائے تو پھر فریقین کئی سالوں تک عدالتوں کے چکر لگاتے ہیں اور ان کی دشمنیوں میں اضافہ ہوتا ہے۔ اس لئے زیادہ تر تنازعات مصالحتی کمیٹیاں حل کرتی ہیں جس کی وجہ سے فریقین میں بخوشی راضی نامہ ہوتا ہے۔ مصالحتی کمیٹی میں شامل ہونے والی منہاس یوسفزئی نے باخبر سوات ڈاٹ کام کو بتایا کہ خواتین کے بعض مسائل ایسے ہوتے ہیں جو وہ مردوں کے سامنے بیان نہیں کرسکتیں۔ اب وہ خواتین ممبرز کے سامنے بلا جھجھک بیان کریگی۔ نئے خواجہ سرا ممبر شگفتہ نے باخبر سوات ڈاٹ کام کو بتایا کہ سوات میں ایک ہزار سے زائد خواجہ سرا رہتے ہیں۔ خواجہ سراؤں میں اندرونی اختلافات اور تنازعات آتے ہیں جن کو خواجہ سرا ہی سمجھتی ہیں۔ اس لئے اب خوجہ سرا فریقین کے درمیان تنازعات کو خواجہ سرا ہی مصالحتی کمیٹی میں حل کریں گی۔
Swat
