(باخبر سوات ڈاٹ کام)سابق وزیراعلیٰ محمود خان اور سابق صوبائی وزیر محب اللہ خان کی جانب سے پرویز خٹک کی نئی پارٹی میں شمولیت کی خبر سوات میں جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی۔ سوات کے لوگوں کے لئے یہ عجیب خبر رہی۔ باوثوق ذرائع نے گذشتہ روز باخبر سوات ڈاٹ کام کو بتایا تھا کہ پرویز خٹک کی جانب سے پارٹی اعلان کے چند دن بعد محمود خان اس پارٹی میں شامل ہوں گے، لیکن اس کے برعکس انہوں نے جلدی اعلان کیا۔ پرویز خٹک گروپ کی جانب سے جاری کردہ سابق اراکین اسمبلی کی فہرست میں شامل سوات سے تحریک انصاف کے سابق ایم پی اے عزیز اللہ گران نے اپنی شمولیت کی تردید کی ہے۔ کارکنوں کے نام اپنے ایک آڈیو پیغام میں کہا ہے کہ میں کینڈا میں ہوں اور آخر دم تک عمران خان کے ساتھ رہوں گا۔ 9 مئی کے بعد سے لاپتا سوات کے سابق ایم این اے سلیم الرحمان نے نامعلوم مقام سے اپنے ایک آڈیو پیغام میں کارکنوں کو کہا ہے کہ وہ عمران خان کے ساتھ ڈٹے رہیں اور ہم عمران خان کے ساتھ رہیں گے۔ سوات سے سابق ایم پی اے حاجی فضل مولا نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ نہ میں پرویز خٹک کے اجلاس میں شریک ہوا اور نہ مستقبل میں سیاست کا ارادہ ہے۔ مینگورہ شہر کے سابق ایم پی اے فضل حکیم خان یوسفزئی کی جانب سے اس بارے خاموشی رہی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ فضل حکیم خان یوسفزئی بھی جلد پرویز خٹک کی پارٹی میں شامل ہو جائیں گے۔
Swat
