(باخبر سوات ڈاٹ کام)سوات یونیورسٹی میں طالبات اور خواتین لیکچرارز کی جنسی ہراسانی کی خبریں اور بعد ازاں ویڈیوز آنے کے بعد یونیورسٹی انتظامیہ نے تمام کلاس روموں میں سی سی ٹی وی کمیرے نصب کرنے اور کلاس روموں کے دروازوں میں شیشے لگانے کا کام شروع کردیا ہے، جس کے بعد یونیورسٹی انتظامیہ کی جانب سے یونیورسٹی میں جنسی ہراسانی کی تصدیق ہوگئی۔ یونیورسٹی میں جنسی ہرا سانی کی خبروں اور پھر یونیورسٹی میں نازیبا حرکات کی ویڈیوز وائرل ہونے کے بعد جمعرات کی رات سے رات بھر یونیورسٹی کی کلاس روموں میں کیمروں کی تنصیب کا کام شروع کردیا گیا۔ ساتھ میں کلاس روموں کے دروازوں میں شیشے لگانے کا کام بھی شروع کردیا گیا۔ سوات یونیورسٹی کی ایک طالبہ نے نام شائع نہ کرنے کی شرط پر یونیورسٹی میں جنسی ہراسانی کی تصدیق کی اور کہا کہ جب تک کالج ٹیچرز کے پاس انٹرنل مارکس کا آپشن موجود ہوگا، تو اُس وقت کسی بھی کالج اور یونیورسٹی میں جنسی ہراسانی کا خاتمہ ممکن نہیں۔ انہوں نے ہائر ایجوکیشن اتھارٹی سے مطالبہ کیا کہ درسگاہوں میں انٹرنل مارکس کا خاتمہ کیا جائے اور اس کو میٹرک یا انٹر میڈیٹ بورڈ کی طرح سیکرسی میں کیا جائے۔
Swat
