(باخبر سوات ڈاٹ کام)زرعی یونیورسٹی سوات کے وائس چانسلر ڈاکٹر داؤد جان نے ماؤنٹینئس ایگریکلچراور کلائمٹ چینج کو نصاب اور ریسرچ کا حصہ بنانے کا اعلان کرتے ہوئے کہاہے کہ زرعی یونیورسٹی پاکستان کی پہلی یونیورسٹی ہے جس نے یہ اہم قدم اٹھایا ہے۔ زرعی یونیورسٹی نے پہلی بار مستقل طور پر سکالر شپ پروگرام شروع کیا ہے جس سے قابل اور غریب طلبہ کو اعلیٰ تعلیم کے ساتھ ساتھ تحقیق میں بھی مددملے گی۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے زرعی یونیورسٹی تختہ بند کیمپس میں 18 طلبہ میں سکالرشپ پروگرام کے تحت چیک تقسیم کرنے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر یونیورسٹی کے رجسٹرار ابرار خان، پروفیسر ہدایت الرحمان، پروفیسر فرمان، ڈائریکٹر فنانس مسٹر اکبر خان اور زرعی تحقیقاتی ادارہ کے ڈاکٹر فضل مولا اور ڈاکٹر روشن علی سمیت عملے کے دیگر افراد بھی موجود تھے۔ انہوں نے کہاکہ زرعی یونیورسٹی سوات نے فروری 2020ء میں سب کیمپس سے اپنے سفر کا آغاز کیا اور دسمبر 2021ء میں اسے باقاعدہ یونیورسٹی کا درجہ دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہاکہ اس وقت یونیورسٹی کی عارضی عمارت میں دو بیجوں کے 100 طلبہ کو اعلیٰ معیار کی تعلیم دی جارہی ہے۔
Swat
