(باخبر سوات ڈاٹ کام)دنیا اور پاکستان میں لوگوں کی خواہش ہوتی ہے کہ وہ سوات کے برف پوش اور حسین علاقہ ملم جبہ میں جائیں اور وہاں کے قدرتی نظاروں سے لطف اندوز ہوں۔ اس علاقے میں بچے خوف کی وجہ سے سکول جانے سے گھبراتے ہیں۔ملم جبہ میں گورنمنٹ پرائمری سکول سور ڈھیرئی کی عمارت اس قدر خستہ حال ہوچکی ہے کہ اب اس عمارت میں بچے جانے سے گھبراتے ہیں۔ 1984ء میں تعمیر ہونے والے اس سکول میں دو سو سے زائد طلبہ و طالبات پڑھتے ہیں۔ عمارت کی چھت ٹوٹ چکی ہے اور دیواریں گرنے والی ہیں۔ انتظامیہ نے آگاہ ہونے پر سکول کے بچوں کے لئے سیلاب زدگان کے خیمے بھیجے، جن میں اب وہ بچے تعلیم حاصل کرنے پر مجبور ہیں۔ چوتھی جماعت کے ایک طالب علم فواد خان نے باخبر سوات ڈاٹ کام کو بتایا کہ بارش ہونے کے بعد خیموں میں پانی داخل ہو جاتا ہے، جس کی وجہ سے پھر خیموں میں بیٹھنا مشکل ہو جاتا ہے۔ پرائمری سکول سور ڈھیرئی ملم جبہ کی ایک طالبہ سہانہ نے باخبر سوات ڈاٹ کام کو بتایا کہ ان کے گاؤں میں یہی ایک سکول ہے اور ان کے ساتھ پڑھنے والی اکثر طالبات نے سکول چھوڑ دیا ہے۔ تمام بچے اس خوف میں مبتلا ہیں کہ کہیں سکول کی عمارت اُن پر گر نہ جائے۔ علاقہ کے ایک شخص نعیم الحق نے باخبر سوات ڈاٹ کام کو بتایا کہ علاقہ کے عوام کی امید تھی کہ حکومت اُن کے علاقے میں مڈل اور پھر ہائی سکول تعمیر کریگی، لیکن یہاں تو یہ حال ہے کہ سخت سردی ہو، گرمی ہو، بارش ہو یا پھر برف باری، یہ بچے خیموں میں تعلیم حاصل کرنے پر مجبور ہیں۔ علاقہ کے لوگوں کا کہنا ہے کہ سکول کی عمارت اتنی خستہ حال ہے کہ حالیہ بارشوں میں عمارت کا ایک حصہ گر گیا تھا، جس میں بچے معجزانہ طور پر بچ گئے تھے۔ اس سلسلے میں ڈپٹی کمشنر سوات ڈاکٹر محمد قاسم نے رابطہ پر باخبر سوات ڈاٹ کام کو بتایا کہ عمارت واقعی خستہ حال ہے۔ جیسے ہی انتظامیہ کو اس بارے علم ہوا تو انہوں نے فوری طور پر بچوں کے لئے خیموں کا انتظام کیا تاکہ بچے کھلے آسمان تلے نہ بیٹھیں۔
Swat
