(باخبر سوات ڈاٹ کام)عید کے دوسرے روز سوات کے لاپتہ افراد کے رشتہ داروں نے کانجو چوک میں احتجاجی مظاہرہ کیا، جس میں خواتین اور بچوں نے بھی کثیر تعداد میں شرکت کی۔ مظاہرین نے ہاتھوں میں لاپتہ افراد کی تصاویر اٹھا رکھی تھیں۔ اس موقع پر گلناز بی بی نے کہا کہ ان کا بھائی2009ء سے لاپتہ ہے اور کوئی خبر نہیں کہ وہ زندہ ہے یا مرگیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کا بھائی تھرڈ ایئرکا طالب علم تھا اور ایک نجی سکول میں بھی پڑھاتا تھا۔ایک اور خاتون مسما ۃ بہادر خیلہ کا کہنا تھا کہ پندرہ سال سے ان کا شوہر لاپتہ ہے۔ ان کے گھر میں کام کرنے والا کوئی نہیں اور وہ فاقوں پر مجبور ہے۔ ایک خاتون نصیب زادگئی نے بتایا کہ وہ تھک چکی ہیں۔ ان کا شوہر اگر زندہ ہو تو بھی ان کو بتایا جائے اور اگر مر گیا ہو تو بھی بتایا جائے۔ ایک خاتون مسماۃ قریشہ نے کہا کہ ان کے دو بیٹے لاپتہ ہیں۔ ایک غیر شادی شدہ ہے اور ایک شادی شدہ ہے جس کے تین بچے ہیں۔ مظاہرین نے لاپتہ افراد کی بازیابی کے لئے نعرے بازی بھی کی۔
Swat
