Swat

سوات، شاہی محل تنازع جرگہ کے ذریعے ختم کر دیا گیا

(باخبر سوات ڈاٹ کام)ریاست سوات کے آخری بادشاہ والی سوات کے شاہی محل پر شاہی خاندان اور صوبائی وزیر فضل حکیم خان یوسفزئی کا تنازع حل ہوگیا۔ جرگہ نے فیصلہ سناتے ہوئے صوبائی وزیر کو تمام زمین اور صوبائی وزیر کا گھر شاہی خاندان کو واپس کرنے کا حکم دیا ہے۔ فریقین نے جرگہ کے فیصلے کو تسلیم کرلیا۔ جرگہ سربراہ عبدالرحیم نے دیگر ممبران ڈاکٹر خالد محمود خالد، فیاض ظفر، حاجی محمد علی، افرین خان کے ہمراہ فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ فریقین بالا کے درمیان رائل کیمپس میں فروخت شدہ زمین اور مکان پر شاہی خاندان کی شہزادی بیگم زیب النسا کی لوگوں کی آمد و رفت پر تنازع پیدا ہوگیا۔ 25 جولائی 2025ء کو یہ اہم تنازع سوشل میڈیا پر بہت شیئر ہوا۔ ممبران جرگہ نے ایک دوسرے سے رابطہ کرکے تنازع کو حل کرنے کے لئے رابطہ کیا۔ ممبران کے اتفاق سے تمام ممبران جائے تنازع پہنچ گئے اور فریقین کو اشتعال کے راستے کو ترک کرنے اور افہام و تفہیم کے راستے پر چلنے کی درخواست کی۔ فریقین نے جرگے کی درخواست قبول کرکے جرگے کو فیصلہ کرنے کا تحریری اختیار دے دیا۔ اس لئے جرگہ ممبران نے فیصلہ کیا ہے کہ فریق ارشد علی اپنی ملکیتی زمین شاہی خاندان کے ہاتھ واپس فروخت کریگا اور والدہ ارشد علی اپنا ملکیتی مکان بھی شاہی خاندان کے ہاتھ فروخت کرے گی۔ زمین کی قیمت جرگہ نے فی مربع فٹ 9816 روپے مقرر کی ہے جبکہ زوجہ فضل حکیم خان یوسفزئی کے گھر کی قیمت فریقین کے مقرر کردہ انجینئر یا ماہر افراد طے کریں گے۔ رقم کی ادائیگی اور قبضہ دینے کے لئے وقت اور طریقہ جرگہ بعد میں طے کرے گا۔ رقم کی ادائیگی اور قبضہ ملنے تک فریقین کے صرف خاندان کے افراد مرکزی گیٹ استعمال کرسکیں گے اور دیگر افراد کو مرکزی گیٹ استعمال کرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔

اشتہار / Advertisement
اس تحریر کو شیئر کریں:

⭐ آپ کو یہ تحریر کیسی لگی؟ (درجہ بندی کریں)

براہ کرم اس تحریر کو 1 سے 5 ستاروں کے درمیان ریٹنگ دیں

اوسط ریٹنگ: 0 / 5 (0 ووٹ)

اپنا تبصرہ تحریر کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کی نشاندہی * سے کی گئی ہے۔