Swat

ہائی کورٹ میں ججوں، ملزم اور وکلا کے درمیان دلچسپ مکالمہ

(باخبر سوات ڈاٹ کام ) پشاور ہائی کورٹ مینگورہ بنچ کے ڈویژن بنچ میں منشیات فروشی کے ایک کیس میں ججوں، ملزم اور وکلا کے درمیان دلچسپ جملوں کا تبادلہ ہوا۔ جسٹس محمد ابراہیم خان اور جسٹس اشتیاق ابراہیم پر مشتمل ڈویژن بنچ میں ملزم گل یار ولد محمد خان سکنہ خوازہ خیلہ کیس کی سماعت ہوئی۔ ملزم کو خوازہ خیلہ پولیس نے 21 مارچ 2015ء کو 1045گرام چرس رکھنے کے الزام میں گرفتار کیا تھا۔ ماتحت عدالت نے جرم ثابت ہونے پر ملزم کو تین سال قید اور پانچ ہزار روپے جرمانے کی سزا سنائی تھی جس کو بعد میں ہائی کورٹ سے 426CRPC کے تحت ضمانت پر رہائی ملی تھی۔ سماعت کے دوران معزز ججوں نے ملزم سے پوچھا کہ وہ اب بھی چرس فروخت کرتا ہے، جواباًملزم نے کہا کہ نہیں جی وہ صرف پیتا تھا اور پینا بھی چھوڑ دیا ہے۔ جج نے اُس سے پوچھا کہ پولیس نے تو آپ کے خلاف ایک کلو گرام سے زیادہ کی ایف آئی آر درج کی تھی، جواباً ملزم نے کہا کہ پولیس نے ایف آئی آر میں اپنی طرف سے زیادہ چرس لکھا ہے۔ اُس کے پاس صرف پینے کے لئے چرس کی مقدار موجود تھی۔ ججز نے کہا تو پھر پولیس کے پا س اتنی منشیات کہاں سے آتی ہے۔ جواباً ملزم کے وکیل انور علی نے کہا کہ پولیس چرس کی جگہ گوبر وغیرہ مکس کرکے لفافے میں بند کرتی ہے۔ ایک دن ہم نے شریف خان کی عدالت میں جب ایک کیس میں لفافہ کھولا، تو اُس سے گوبر کی بو آرہی تھی۔ وکیل نے کہا کہ تمام ایس ایچ اوز ڈی پی او کو ہفتہ وار کارکردگی رپورٹ دیتے ہیں۔جس ایس ایچ او کی ایف آئی آر کم ہوتی ہیں، تو اس کو دور دراز علاقوں میں ٹرانسفر کیا جاتا ہے۔ سرکاری وکیل بیرسٹر اسد حمید الرحمان نے بنچ کو بتایا کہ ملزم کے خلاف اس سے پہلے بھی چھ ایف آئی آرز درج ہیں۔ یہ سنتے ہیملزم نے کہا کہ پولیس جب ایک دفعہ ایف آئی آر کرتی ہے، تو پھر بار بار بغیر جرم کے اُس شخص کو پکڑ کر اُس کے خلاف مقدمات بناتی ہے۔ اس پر جسٹس اشتیاق ابراہیم نے کہا کہ اگر ابھی ہم آپ کو چھوڑ دیں، تو پولیس تو پھر آپ کو پکڑے گی۔ پولیس سے بچنے کے لئے تو اب آپ کو داڑھی رکھنی پڑے گی اور تبلیغ میں جانا پڑے گا، تاکہ پولیس کو یقین ہو جائے کہ آپ نے چرس پینا چھوڑ دیا ہے۔ جواباًملزم نے کہا کہ اب میں پانچ وقت کی نماز پڑھتا ہوں اور تبلیغ میں جانے کا بھی ارادہ ہے۔ ثبوت کے طور پر ملزم نے جیب سے تسبیح نکالی اور کہا کہ جج صاحب اب میں تسبیح پر ذکر بھی کرتا ہوں۔ ملزم نے عدالت کو بتایا کہ اُن کے گھر میں اُن کی بیوی، بہن اور دو بچے ہیں اور دونوں بچے بیمار ہیں اور وہ توبہ تائب ہوچکا ہے۔ دلائل سننے کے بعد عدالت نے ملزم کی کاٹی ہوئی سزا پر مقدمہ کو ختم کردیا ۔

اشتہار / Advertisement
اس تحریر کو شیئر کریں:

⭐ آپ کو یہ تحریر کیسی لگی؟ (درجہ بندی کریں)

براہ کرم اس تحریر کو 1 سے 5 ستاروں کے درمیان ریٹنگ دیں

اوسط ریٹنگ: 0 / 5 (0 ووٹ)

اپنا تبصرہ تحریر کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کی نشاندہی * سے کی گئی ہے۔