
میں دو دن ’’کیکو‘‘ کے سپر مارٹ نہیں گیا تھا، تاہم آخری دفعہ اس کے چہرے پر پریشانی اور تھکن کے آثار اب بھی میرے ذہن پر نقش تھے۔ اس لئے میں شام کو آئی ہاؤس سے نکلا اور سپر مارٹ کی جانب رُخ کیا۔ آج موسم صاف تھا اور روپونگی اور آذابوجوبان کے درمیانی راستے پر پیدل چلنے والوں کی بھیڑ لگی ہوئی تھی۔ سپر مارٹ پہنچا، تو ’’کیکو‘‘ دکھائی نہیں دے رہی تھی۔ میں نے متلاشی نظروں سے سپر مارٹ کے ہر کونے میں نظر دوڑائی، پر وہ کہیں نظر نہ آئی۔ نتیجتاً میری پریشانی بڑھ گئی۔ سٹور کے اندر باقی تمام کارندے اپنے اپنے کام میں مصروف تھے مگر دلکش ’’کیکو‘‘ کے بنا سب کچھ سنسان دکھائی دے رہا تھا۔ کیکو کی غیر موجودگی سے میرا دل مختلف قسم کے وسوسوں سے بھر گیا۔ کہیں وہ بیمار تو نہیں پڑ گئی۔ خیر، میں جب نکلنے لگا، تو سٹور کے ایک کونے میں دروازہ کھلتے دیکھا جہاں سامان سے لدی ہوئی تین پہیوں والی گاڑی نکل رہی تھی اور اس کے پیچھے پری رُخ ’’کیکو‘‘ گاڑی دکھیلتے ہوئی نمودار ہوئی، اور مجھے دیکھتے ہی مسکرائی۔ اس کی مہین مسکراہٹ نے گویا میرے تنِ مردہ میں جان ڈال دی۔ وہ ایک بڑی الماری کے قریب رُکی اور گاڑی سے سامان اتار کر سلیقہ مندی سے رکھنے لگی۔ میں بھی فوراً اس کے قریب گیا۔’’آپ دو دن سے نظر نہیں آرہے تھے۔ کہاں تھے؟ مجھے بہت یاد آرہے تھے۔‘‘ کیکو نے ایک بڑا کارٹن الماری میں رکھتے ہوئے کہا۔ اس کے منھ سے اس قسم کا جملہ سن کر میرے اندر برقی رو سی دوڑ گئی مگر خود کو سنبھالتے ہوئے پوچھا: ’’اب آپ کیسا محسوس کر رہی ہیں؟‘‘ میں نے بھی سوال کیا جس پر وہ زور زور سے ہنسی اور اس کا چہرہ تازہ گلاب کی طرح کھلتا دکھائی دیا۔ جواباً کہنے لگی کہ ’’پاگل، یہ ہمارا روٹین ہے۔ میں جب روزانہ دس گھنٹے مسلسل کام کرتی ہوں، تو اکثر ایسا محسوس کرتی ہوں۔‘‘ اس نے مشین کی طرح کام جاری رکھتے ہوئے کہا: ’’یہاں روزانہ سیکڑوں گاہک آتے ہیں، پر کسی کے پاس اضافی ایک لفظ کا وقت نہیں ہوتا، پر آپ عجیب ہیں۔ یہاں آتے ہیں، ضرورت کی چیزیں بھی خریدتے ہیں اور مجھ سے حال احوال بھی پوچھتے ہیں۔ پہلے پہل آپ کا یہ انداز مجھے بڑا عجیب لگا تھا، مگر اب محسوس کرنے لگی ہوں۔ میں نے دو دن آپ کا انتظار کیا۔‘‘ کیکو نے زمین پر بیٹھ کر الماری کے نچلے حصے میں سامان کو ترتیب سے رکھتے ہوئے ایک ہی سانس میں ساری بات کہہ ڈالی۔ نازک اندام کیکو کے سراپے کا جائزہ لیتے ہوئے دل ہی دل میں سوچا کہ جاپانیوں کی عورتیں، مردوں سے زیادہ محنتی اور ایماندار ہیں۔ پورا دن چاہے وہ سپر سٹور ہو یا کوئی ریسٹورنٹ جاپانی خواتین مسلسل کھڑے ہوکر کام کرتی ہیں۔ وہ مردوں کی طرح بھاری سامان بھی اٹھاتی ہیں، گاہکوں کو مسکراتے ہوئے خوش آمدید بھی کہتی ہیں اور کام میں کوتاہی بھی نہیں کیا کرتیں۔ میں نے دل ہی دل میں سوچا کہ ’’کیکو‘‘ کی طرح خوبصورت اور نازک لڑکیا ں اگر پاکستان میں ہوتیں، تو کبھی اس طرح کی مزدوری نہ کرتیں۔ سامان اور بوجھ اٹھانے کا تو سوال ہی پیدا نہ ہوتا۔ ہماری خواتین تو جوانی میں بھی درجن بیماریوں کے ساتھ جیتی ہیں۔ ان بیچاروں کے لئے دس گھنٹے مسلسل کھڑے ہوکر کام کرنا تو تقریباً ناممکن سی بات ہے۔ اگر خدانخواستہ ایک دن ان کو مسلسل دس گھنٹے کھڑے ہوکر کام کرنا پڑا، تو اگلے ہی دن بستر پر لیٹ کر جسم کے ہر حصے میں درد کا رونا روئیں گی۔ میں نے ’’کیکو‘‘ سے اجازت لیتے ہوئے کیک کا ایک پیکٹ اور جو س کا ڈبّا اٹھایا۔ کاؤنٹر پر پیسے دئیے اور آئی ہاؤ س کی طرف چلنے لگا۔ کیکو الماری کے پیچھے سے کام کرتے ہوئی مجھے یوں گھور رہی تھی جیسا کہ وہ میرے جانے پر مغموم ہو اور جب میں نے باہر نکلتے سمے پیچھے دیکھا، تو وہ بے اختیار مسکرائی۔
اگلے دن ہمارے ایشیا کے مختلف مسائل اور وسائل پر سیمینار کا سلسلہ ایک بار پھر شروع ہوا۔ کیوٹو یونیورسٹی کے پروفیسر’’ ماریو لوپاز‘‘نے جنوب مشرقی ایشیائی ممالک کے مسائل کو اجا گر کرنے کے لئے ویڈیو ڈاکومینٹری کے حوالے سے سیر حاصل گفتگو کی اور مختلف ویڈیوز جو کہ جنوب مشرقی ایشیائی ممالک کے متعلقہ نوجوانوں نے بنائی تھیں، سیمینار میں دکھائیں۔انہوں نے کہا کہ وہ مختلف ممالک کے جوانوں کو اپنے ممالک کے سماجی، ثقافتی، معاشی حالات پر ڈاکومینٹریز بنانے کا ہدف دیتے ہیں اور پھر یہی ڈاکومینٹریز جاپان میں طلبہ اور دوسرے لوگوں کو دکھاتے ہیں، تاکہ یہاں کے لوگوں کوایشیا کے دوسرے ممالک کے بارے میں علم و آگہی مل سکے۔ انہوں نے کہا کہ ویڈیوز کے ذریعے لوگ باآسانی سمجھتے اور سیکھتے ہیں۔ کیوں کہ کسی بھی ملک کے زیادہ تر لوگ دوسرے ممالک نہیں جا سکتے، اسی لئے ویڈیوز ہی سیکھنے اور سمجھنے کا بہترین نعم البدل ہیں۔ میں نے سوال کیا کہ ویڈیوز کا یہ سلسلہ صرف جنوبی مشرقی ایشیا تک ہی کیو ں محدود ہے، کیوں نہ اس میں جنوبی ایشیا اور وسطی ایشیا کے ممالک شامل کئے جائیں؟ جواباً انہوں نے کہا کہ چوں کہ یہ ایک پراجیکٹ ہے اور فنڈز کی کمی ہے، اسلئے فی الحال دوسرے ممالک تک یہ سلسلہ بڑھانا ممکن نہیں جب کہ مستقبل میں اس پر غور کیا جاسکتاہے۔
اس کے بعد میرے لئے سب سے اہم سیمینار جنوبی ایشیا کے حوالہ سے تھا جس کی وجہ اس خطہ میں پاکستان کا ہونا تھا۔ سیمینار کے لئے ٹوکیو یونیورسٹی کے پروفیسر’’تنابے اکیو‘‘ کو بلایا گیا تھا، جنہوں نے کہا کہ ایشیا مختلف امور یعنی ثقافتی، سیاسی اور سب سے بڑھ کر معاشی سیکٹر میں آگے کی جانب گامزن ہے اور کہا کہ پہلی بار ایشیا معاشی زون بن رہا ہے جہاں چین، ہندوستان، جاپان اور چند دوسرے ممالک معاشی لحاظ سے تیز ی سے ترقی کر رہے ہیں جس کی وجہ سے اب ایشیا ایک صارف نہیں بلکہ پیدا کرنے والا خطہ بن گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایشیا ایک ایسا خطہ ہے جہاں دنیا کے دوسرے ممالک سے زیادہ وسائل ہیں اور یہاں کے لوگ اور ان کی ثقافت متنوع اور ایک دوسرے سے مختلف ہے۔ وقت آگیا ہے کہ ہمیں سنجیدگی سے اپنے وسائل کو بروئے کار لا کر دنیا کے دوسرے خطوں سے سبقت لینی چاہئے۔ مجھے ایک بات بڑی عجیب لگی اور وہ یہ تھی کہ پروفیسر صاحب صرف اور صرف جنوبی ایشیا میں ہندوستان پر ہی بحث کر رہے تھے۔ جب کہ باقی مانندہ ممالک یعنی پاکستان، افغانستان، بنگلہ دیش، بھوٹان، نیپال اور سری لنکا کو یکسر نظر انداز کر رہے تھے۔ یہی نہیں بلکہ یہاں دنیا سے آئے ہوئے ہر میدان کے دانشور اور عالم صرف اور صرف ہندوستان کے بارے میں بات کرتے تھے اور اہمیت دیتے تھے جب کہ پاکستان کا ذکر آٹے میں نمک کے برابر بھی نہیں ہوتا تھا۔ شاید اس کی وجہ یہ بھی تھی کہ ہمارا جھکاؤ چین کی طرف بہت زیاد ہ ہے اور اس بے جا جھکاؤ نے ہمیں ایشیا میں دوسرے ممالک سے اجنبی کرکے رکھ دیا ہے۔ یہاں کسی بھی محفل میں دنیا سے آئے ہوئے ماہرین پاکستان کا نام تب ہی لیتے ہیں جب دہشت گردی یا انتہاپسندی کی مثال دینی ہو۔ میں ہر ملک کے دانشور کو دنیا کے کسی کونے یا اپنے ملک کے کسی واقعہ کی نشاندہی کرتے سنتا اور اس کا تعلق تخریب سے ہوتا، توکہتے کہ جس طرح پاکستان میں ہوتا ہے یا یہ کہتے کہ پاکستان کی خطرناک دہشت گردی کی طرح نہیں۔ پوری دنیا میں دہشت گردی اور انتہا پسندی کا ٹھپا ہم پر لگ چکا ہے جس کے پیچھے وجوہات اور عوامل ہیں، ورنہ ویسے ہی کوئی بدنام نہیں ہوتا۔ مجھے یہ باتیں سن کر ندامت ہوتی کہ کسی زمانے میں پاکستان کو پورے ایشیا میں قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا۔ کیوں کہ پاکستان ایشیا کے تمام ممالک سے بہتر انداز میں ترقی کررہا تھا۔ اب وقت یہ آگیا ہے کہ ہمیں کوئی ملک یا ریاست سمجھتا ہی نہیں۔ شاید پچھلی کئی دہائیوں سے ہماری ناکام خارجہ اور داخلی پالیسیوں نے ہمیں پوری دنیا میں تو نتہا کردیا ہے بلکہ اب تو ایشیا میں بھی ہماری اہمیت نہیں رہی۔
(جاری ہے)
……………………
علم کی شمع نہ بجھنے پائے
اسحاق میاں
لب پہ آتی ہے دعا بن کے تمنا میری
زندگی شمع کی صورت ہو خدایا میری
یہ دعا روزانہ بچے سکول میں اسمبلی کے دوران میں پڑھتے ہیں لیکن یہاں علم کے ساتھ ساتھ زندگی کی شمع کسی بھی لمحے بجھ سکتی ہے۔ دیواروں پر نظر آتی ہوئی دراڑیں، خستہ حال اور بوسیدہ عمارت اور موت کے منتظر ان طلبہ اور سکول کا تعلق خیبر پختون خوا کے ضلع سوات سے ہے۔ تحصیل کبل علاقہ نیک پی خیل جاونڈ میں واقع گورنمنٹ ہائی سکول سویگلی کی عمارت موت کا کنواں ہے۔یہ سکول تین چار سو طلبہ اور بیس سے پچیس اساتذہ و عملہ پر مشتمل ہے۔یہاں کا ایم این اے مراد سعید اور ایم پی اے ڈاکٹر امجد ہے۔ یہ حلقہ پی کے 82 سوات 4 کہلاتا ہے۔ گورنمنٹ ہائی سکول سویگلی ضلع کے مرکزی شاہراہ کے پی ہائی وے (سابقہ شموزی روڈ) پر جاونڈ کے مقام پر آباد ہے۔ اس سکول میں گاؤں ڈڈھرہ، سویگلی، زیارت، جاونڈ، گاڑی، شریف آباد اور زوڑہ سمیت مختلف گاؤں کے بچے علم کی پیاس بجھانے آتے ہیں۔ سوات میں مختلف اوقات میں جہاں ایک طرف زلزلوں اور توپوں کی گھن گرج نے اس پرانی عمارت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ہے، تو دوسری طرف 8 اکتوبر 2005ء کے قیامت خیز زلزلہ نے بھی سکول کی عمارت کو رہنے کے قابل نہیں چھوڑا ہے۔ رہی سہی کسر 26 اکتوبر 2015ء کے زلزلہ نے پورا کی اور سکول کو سب سے زیادہ نقصان پہنچاکر اس کی در و دیوار کو ہلاکر رکھ دیا۔ اب سکول اس قابل ہی نہیں رہا ہے کہ اس میں بچوں کی پڑھائی مزید جاری رکھی جاسکے۔ سکول کے بچے روز موت کے سائے میں بیٹھ کر پڑھنے پر مجبور ہیں۔ یہ بچے جب زندہ سلامت گھروں کو لوٹتے ہیں، تو ان کے چہروں پر عجیب سی خوشی، سکون اور طمانیت کا احساس واضح نظر آتا ہے۔ جب کہ سکول میں درس و تدریس کے موقع پر ان کے سر پر موت کا خطرہ منڈلانے کی وجہ سے ان کے چہرے بجھے بجھے سے رہتے ہیں۔ اسطرح کے ماحول میں ظاہری سی بات ہے، ان بچوں کی پڑھائی بھی متاثر ہو رہی ہے۔ بچوں کے ساتھ ساتھ ان کے والدین اور اساتذہ بھی روز ذہنی اذیت سے دوچار ہوتے ہیں۔ یوں والدین روز دعا کیلئے اپنے ہاتھ بلند کرکے اللہ سے ان کی حفاظت کیلئے دعائیں مانگ رہے ہوتے ہیں کہ کہیں ان پھول وقت سے پہلے مرجھا نہ جائیں اور سکول میں ان کی موجودگی کے دوران میں کہیں کوئی زلزلہ نہ آجائے۔ اساتذہ نے مختلف اوقات میں محکمہ تعلیم اور ممبران صاحبان اور دوسرے علاقائی عمایدین و سیاسی معززین کو اس مسئلے کی طرف متوجہ بھی کیا مگر کوئی خاطرخواہ شنوائی نہیں ہوئی۔ چونکہ پرائمری سیکشن بالکل قابل استعمال نہیں رہا تھا، اسی لئے پرائمری سیکشن کے لڑکوں کو لڑکیوں کے سکول میں سیکنڈ شفٹ میں پڑھایا جانے لگا۔ یوں اساتذہ اور بچے دونوں دونی اذیت سہنے پر مجبور ہوئے۔ یہاں ایک بات بتاتا چلوں کہ علاقے کا شاید یہ واحد سکول ہے جہاں تمام سیاسی پارٹیاں وقتاً فوقتاً اپنے سیاسی جلسے جلوسوں کا اہتمام اسی سکول کے اندر کرتے ہیں جس پر پابندی کی استدعا کی جاتی ہے۔ کیوں کہ سیاسی اکھاڑا ہونے کی وجہ سے اس سکول کی تعمیر تعطل کا شکار ہوگئی ہے۔ یہاں اسی بوسیدہ عمارت کا دورہ ضلعی ناظم محمد علی شاہ، امیر جماعت اسلامی سراج الحق اور ن لیگ کے امیر مقام بھی کرچکے ہیں اور سکول کی حالت زار کا علم ان سب کو بخوبی ہے۔ پھر کچھ یوں ہوا کہ عوامی نیشنل پارٹی کے وقار خان کو یہاں کے مقامی اے این پی کے کسان کونسلر رحیم باچا نے بطورِ خاص بلایا کہ وہ اس سکول کا مسئلہ حل کرنے میں کوئی مدد کریں۔ کیوں کہ سکول کی تعمیر میں تاخیر ہونے کی وجہ سے سیکڑوں بچوں کی زندگیاں خطرے سے دوچار تھیں۔ انہوں نے ایک جرگہ اور پروگرام کا انعقاد کیا جس میں اساتذہ کو بھی مدعو کیاگیا تھا۔ ہر طرف سے مایوس ہوکر اس وقت سکول کے سائنس ماسٹر اقبال نے بھی شرکت کی، جو بعد میں ان کیلئے گلے کی ہڈی ثابت ہوئی اور انکا تبادلہ کہیں اور کیا گیا۔ میری معلومات کے مطابق سائنس ماسٹر اقبال ایک غیر سیاسی شخصیت ہیں مگر بچوں کی خاطر وہ وقار کے پروگرام میں شامل ہوئے تھے۔ وقار خان اور جرگہ میں موجود علاقہ کے دوسرے معززین نے سکول کے قریب ایک گھر کرایہ پر لینے کی تجویز پیش کردی اور گھر کے مالک کو ایک لاکھ روپے سالانہ پر راضی کیا گیا جس میں وقار خان نے اپنی جیب سے تیس ہزار روپے دئیے جبکہ باقی ستر ہزار روپے جرگے میں موجود علاقے کے دوسرے معززین نے میں سے کسی نے پانچ ہزار تو کسی نے دس ہزار روپے دے کر ایک سال کا کرایہ اسی وقت اپنی مدد آپ کے تحت جمع کیا اور مالک مکان نے گھر سکول کے حوالے کیا ۔
معزز ایم پی اے ڈاکٹر امجد کو جب اس جرگے اور پروگرام کا علم ہوا، تو موصوف نے ناراضی کا اظہار کیا۔ حالاں کہ یہ شکایت انہیں کئی بار کی جاچکی تھی اور سکول کی مخدوش عمارت میں بچوں کو پڑھانے سے بھی محکمہ نے منع کیا ہوا تھا۔ ایسی صورتحال میں ’’مرتا کیا نہ کرتا‘‘ کے مصداق مسئلے کے حل کو تلاش کرنا ضروری تھا اور سیاسی پوائنٹ سکورنگ سے زیادہ اہمیت یہاں بچوں کی زندگی کی تھی۔ ڈاکٹر امجد نے اقبال ساینس ماسٹر سے اس سلسلے میں وضاحت طلب کی، تو اس نے کہا کہ علاقے کے عمائدین اور لوگوں نے جرگہ بلایا ہواتھا اور یہ کہ وہ کسی سیاست میں ملوث نہیں ہے۔ خیر، سائنس ماسٹر صاحب کا تو تبادلہ کروا دیا گیا جن کا بچوں کے بہترین تعلیمی معیار برقرار رکھنے میں بہت اہم کردار رہا ہے جبکہ کچھ اساتذہ اب بھی زیرعتاب ہیں اور انہیں کسی بھی وقت تبادلوں کے پروانے مل سکتے ہیں جس کی وجہ سے محترم اساتذۂ کرام میں بے چینی پائی جاتی ہے۔ آج کل مذکورہ اساتذہ ذہنی کوفت کا سامنا کر رہے ہیں۔ سکول کی تعلیمی اور کھیل کی سرگرمیوں میں ان محترم اساتذہ کی محنت اور قابلیت شامل ہے۔ ہماری گزارش ہے کہ انہیں در بہ در نہ کیا جائے۔
قارئین، اسی اثنا میں جب دوسرے سال کا کرایہ مالک مکان کو نہیں ملا، تو اس نے گھر خالی کرنے پر اصرار شروع کیا۔ جس پر سکول کے بچوں نے احتجاج کی دھمکی دے ڈالی اور بات ڈسٹرک کمشنر سوات تک پہنچ گئی۔ ڈسٹرکٹ کمشنر سوات نے اسسٹنٹ کمشنر کبل کو فوری طور پر مسئلہ حل کرنے کی ذمہ داری سونپی۔ اسسٹنٹ کمشنر کبل نے محکمہ تعلیم کے افسران کو بلاکر اس مسئلے کو حل کرنے میں مدد مانگی، تب جاکر محکمہ تعلیم نے کرایہ ادا کرنے کی ذمہ داری قبول کی۔ میں یہاں تمام سیاسی فریقین اور علاقے کے سیاسی و غیر سیاسی مشران سے گزارش کرتا ہوں کہ گورنمنٹ ہائی سکول سویگلی کی تعمیر کو سیاست کی بھینٹ نہ چڑھایا جائے۔ چار سالہ دور حکومت میں اس سکول کی تعمیر بہت پہلے مکمل ہوجانی چاہیے تھی، مگر نہیں ہوئی۔ سیاست اپنی جگہ لیکن خدارا، اس سکول کی تعمیر میں رکاوٹ مت بنیں۔ سیاستدانوں کا دل ہمیشہ بڑا ہونا چاہئے۔ کیونکہ عوام ہی ان سیاستدانوں کو ایوانوں تک پہنچا دیتے ہیں اور آخر میں پھر انہیں عوام کے پاس ہی جانا پڑتا ہے۔ آپس کی سیاسی چپقلش و اختلافات کو دوسروں کی زندگیوں کیلئے اذیت اور خطرہ نہ بنائیں۔ طاقت اور سیاسی اثر و رسوخ کو مثبت استعمال کیجئے؛ کسی کیلئے باعث عذاب نہ بنئے۔ اس طرح کی انتقامی کار روائیاں خود سیاستدانوں کی ساکھ کو نقصان پہنچاتی ہیں۔ ایک مخالف پیدا کرنے کا مطلب ہے ایک ہزار مخالفین پیدا کرنا اور کسی ایک مخالف کو سینے سے لگاکر داد رسی کرنا اور ان کے دل جیت لینا ہی سیاسی بصیرت و شعور رکھنے والوں کا شیوہ ہونا چاہئے۔ عوام وہ ہیں جو سیاست دانوں کو کامیابیوں کی بلندی تک پہنچانے کی طاقت رکھتے ہیں۔
قارئین، ایک غیر حکومتی تنظیم ’’الف اعلان‘‘ کے حالیہ سروے کے مطابق تعلیمی لحاظ سے ڈاکٹر امجد کا حلقہ صوبہ خیبر پختون خواہ میں ٹاپ پر ہے۔ اس طرح گورنمنٹ ہائی سکول سویگلی کے طلبہ پورے خیبر پختونخواہ کے سرکاری سکولوں کی نصابی و غیر نصابی سرگرمیوں میں ٹاپ پر ہیں۔ یہاں کے طلبہ پورے صوبہ خیبر پختون خواہ میں ہر قسم کے کھیل میں سب سے آگے ہیں۔ دوڑ کے مقابلے میں سویگلی سکول کے طلبہ کو ابھی تک کوئی شکست نہیں دے سکا ہے، لیکن پھر بھی یہاں کے طلبہ سکول کی عمارت تعمیر ہونے کے منتظر ہیں۔ اسکول کے پرائمری سیکشن کے صرف ڈی پی سی تک ہی کا نامکمل کام ہوا ہے جسے ایک غیرسرکاری تنظیم ’’پارسا‘‘کا تعاون حاصل تھا اور باقی کام مکمل کرنے سے ٹھیکیدار نے فنڈ نہ ملنے کی وجہ سے انکار کیا ہے۔ وہ حصہ بھی ابھی تک ادھورا پڑا ہوا ہے۔ حالاں کہ ڈاکٹر امجد نے 17 ملین کی خطیرلاگت سے تعمیر ہونے کے سنگ بنیاد کا بورڈ بھی نصب کیا ہوا ہے۔جب یو ایس ایڈ سکول کے ہائی سیکشن کی تعمیر کیلئے تیار ہے، تو مذید تاخیر اور دیر کس بات کی ہے اور کیوں ہے ؟ یہ اعلیٰ حکام جانتے ہیں کہ بس ایک دستخط کی دیر ہے۔
اس تحریر کے ذریعے وزیراعلیٰ خیبر پختون خواہ پرویز خٹک اور صوبائی وزیرتعلیم محمد عاطف سے گورنمنٹ ہائی سکول سویگلی کی جلد از جلد تعمیر کیلئے بلا روک ٹوک اقدامات کی اپیل ہے۔
چوں کہ تعلیمی ایمرجنسی پی ٹی آئی کا انتخابی نعرہ رہا ہے، لہٰذا اس نعرے کی لاج رکھتے ہوئے اور کسی بھی وقت حادثاتی ایمرجنسی سے بچنے کیلئے حکومت ختم ہونے سے پہلے پہلے گورنمنٹ ہائ سکول سویگلی کی تعمیر کو یقینی بناکر یہاں کے عوام اور طلبہ کے دلوں کو جیتنے کا موقع ضائع نہ کیا جائے اور سکول کی عمارت کی تعمیر کو جلد از جلد یقینی بنا دیا جائے ۔