(باخبر سوات ڈاٹ کام) سوات کی تحصیل کبل کے علاقہ گالوچ میں گورنمنٹ پرائمری سکول ٹانگئی چینہ کے ایک سو سے زائد طلبا و طالبات کو 34سال بعد بھی سکول کی عمارت نہ مل سکی اور سکول کے بچے پھٹے پرانے خیراتی خیموں میں زیور تعلیم سے آراستہ ہورہے ہیں۔ کھلے میدان کے اس سکول میں نہ تو بچوں کے لیے پانی ہے نہ ہی لیٹرین اور نہ دیگر سہولیات ۔ اہل علاقہ کے مطابق 34سال پہلے مکتب سکول سے آغاز کرنے والے اس سکول میں اس وقت180طلبہ و طالبات زیر تعلیم ہیں۔ پہلے تو سکول کے بچے سخت سردی اور سخت گرمی میں کھلے آسمان تلے زیور تعلیم سے آراستہ ہو رہے تھے لیکن کچھ سال پہلے کسی این جی او نے سکول کے بچوں کے لئے خیمے دیے جو بارش اوور دھوپ کی وجہ سے پھٹے پرانے ہو چکے ہیں۔ اب 180طلبہ و طالبات ان پھٹے ہوئے خیموں میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ سکول کے بچوں اور اہل علاقہ نے صوبائی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ تعلیمی ایمرجنسی پروگرام میں اس سکول کو تعمیر کریں یا بچوں کے لئے کرایہ پر عمارت حاصل کریں، تاکہ مستقبل کے معمار سایہ میں تعلیم حاصل کر سکیں۔
Swat
