کالم نگاری

اختلاف رائے اور کھٹور پن

شبیر بونیری

✍️ کالم نگار: شبیر بونیری

اشتہار / Advertisement

دنیا میں کوئی بھی انسان مکمل نہیں ہے۔ شخصیت کی خامیاں ہی انسان کو مزید جینے پر مجبور کر دیتی ہیں اور انہی خامیوں کو خوبیوں میں بدلنے کی خاطر انسان دن رات مسلسل کوشش میں لگا رہتا ہے۔ یہ انسانی کاوش ہر وقت جاری رہتی ہے، تب ہی تو دوسرے انسانوں کے ساتھ بات چیت، نظریات کا تبادلہ اور فکر و خیال پر ڈسکشن ہوتی رہتی ہے۔ اس کوشش، بات چیت، نظریات اور فکر و خیال پر ڈسکشن ہی میں بسا اوقات اختلاف رائے جنم لیتا ہے۔ یہ اختلاف رائے انسانوں ہی میں ہوتا ہے اور دنیا کی تمام قوموں میں افراد کے درمیان زندگی میں پھلنے پھولنے کا ایک بہترین ذریعہ بھی ہوتا ہے۔ جن معاشروں میں مائنڈ سیٹ اَپ تعلیمی بنیادوں پر پروان چڑھا ہو، وہاں اختلاف رائے کو انتہائی اہمیت حاصل ہوتی ہے۔ کیوں کہ وہاں یہ اختلاف رائے ہی ہوتا ہے جو افراد کے درمیان ایک بہترین ’’انڈرسٹینڈنگ‘‘ ڈیولپ کرتا ہے اور جس کی وجہ سے وہ آسانی ایک دوسرے کو سمجھ پاتے ہیں۔ اس کو انسانی زندگی میں بہت اہمیت حاصل ہے اور یہی وجہ ہے کہ بعض نے تو اس کو جمہوریت کا حسن بھی قرار دیا ہے ۔
انسانی دماغ ہی وہ واحد چیز ہے جو زندگی کے تمام اتار چڑھاو کا تعین کرتا ہے اور اختلاف رائے کا بھی براہِ راست تعلق انسانی دماغ ہی سے ہوتا ہے۔ جن معاشروں میں افراد مثبت کاموں میں مصروف ہوں، وہاں اختلاف رائے ترقی ہی کو جنم دیتا ہے اور جہاں منفی اور اوچے ہتھکنڈوں پر اترنے والے افراد بہ کثرت موجود ہوں، وہاں اختلاف رائے ہی تباہی کا سبب بنتا ہے۔ قومیں جب ترقی کی راہ پر گامزن ہوں، تو وہاں بادشاہِ وقت کے ساتھ بھی رائے میں اختلاف ہوسکتا ہے، لیکن جب جمود، ترقی کی راہ میں رکاوٹ بن جائے اور معاشروں میں زندگی دم گھٹنا شروع کر دے، تو وہاں گلی گوچوں میں چلنے پھرنے والے عام انسان بھی ایک دوسرے کا سر تک پھوڑ دیتے ہیں، جب اختلاف رائے بیچ میں آجاتا ہے۔ ایسے معاشروں میں اختلاف رائے ذاتی بغض و عناد، کینہ پروری اور ہٹ دھرمی ہی کی وجہ سے ہوتا ہے۔
قارئین، ہم اگر جائزہ لیں کہ جس چیز کو اعلیٰ ظرف قوموں نے ترقی کا ذریعہ ’’ڈی کلیئر‘‘ کیا ہے، اس کو ہمارے ملک میں کیا مقام حاصل ہے؟ تو ہم حیران رہ جائیں گے کہ جو چیز دوسروں کے لیے ترقی کی راہیں ہموار کر رہی ہے، وہی چیز ہمیں تباہی و بربادی کے بھنور میں دھکیل رہی ہے، تو غلط نہ ہوگا۔ ہم اختلاف رائے کو سمجھنے سے عاری قوم ہیں اور یہی وجہ ہے کہ ہم اختلاف رائے اور اس سے پیدا ہونے والے مسائل میں الجھنے والی قوم بن گئے ہیں ۔
قارئین! ہم اگراپنے ملک کے باسیوں کا بغور مشاہدہ کرلیں، تو حیرت سے آنکھیں پھٹی کی پٹھی رہ جائیں گی کہ یہاں ہسپتالوں میں، گلی کوچوں اور محلوں میں، مسجدوں میں، سکولوں میں، کالجوں میں، یونیورسٹیوں میں، دفاتر میں، کھیل کے میدانوں میں، یہاں تک کہ دینی مدرسوں میں ہر تیسرا فرد یہ محسوس کرتا ہے کہ اس کی ہر بات ٹھیک ہے۔ وہ اس کوشش میں لگا رہتا ہے کہ من و عن اس کی ہر بات کو تسلیم کیا جائے۔ کوئی اس کی بات اور رائے کو تسلیم نہ کرے تو نتیجتاً اس کو ’’کھٹور پن‘‘ کی بیماری لگ جاتی ہے اور ہم مانیں یا نا مانیں لیکن یہ ایک اٹل حقیقت ہے کہ پاکستان دنیا کا شائد وہ واحد ملک ہے جہاں ’’کھٹور پن‘‘ کے شکار اور اس بیماری میں مبتلا انسان ہر جگہ باآسانی مل جاتے ہیں۔ یہ کھٹور پن ہی ہوتا ہے جو زندگی کی تمام رونقوں کو دیمک کی طرح چاٹ جاتا ہے۔ ہم اگر آج کل کسی سے ازراہِ مذاق بھی پوچھ لیں کہ زندگی کیسی گزر رہی ہے، تو جواب مایوسی کے سوا کچھ نہیں ہوگا۔ رویوں میں تلخی، آنکھوں میں نفرت، چہروں پر غصے کے آثار، مسکراہٹوں کا فقدان اور شخصیت میں احساسِ کمتری یہاں ہر تیسرے فرد کا کل متاع ہے۔ وجہ صرف یہ ہے کہ اس کو ایسا لگتا ہے کہ بس وہ ہی ٹھیک ہے اور باقی سب غلط ۔
اس ملک کے زیادہ تر اساتذہ، عالم، سیاست دان، صحافی، ڈاکٹرز اور بیوروکریٹس بھی کھٹور پن کا شکار ہوچکے ہیں۔ روز آپ کو لاکھوں ایسے ملیں گے جن کی کوشش ہوتی ہے کہ اپنے مخالف کو چاروں شانے چت کر دے۔ کیا ہمارے روٹین میں کبھی ایسا سننے میں آیا ہے کہ کسی ایک فرد نے اپنے مخالف فرد کی عزت افزائی کی ہو؟ ایسا بہت کم شائد سننے اور دیکھنے کو ملے۔ کیوں کہ ہمارے معاشرے میں اختلاف رائے ذاتی پسند و ناپسند کی وجہ سے ہوتا ہے۔
ہمارا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ ہم تحقیق کے میدان میں بہت پیچھے رہنے والوں میں شمار ہوتے ہیں۔ مسلکی بنیادوں پر اختلاف ہو، سیاسی بنیادوں پر ہو یا معاشرتی بنیادوں پر، ہم بہت کم کوشش کرتے ہیں کہ جو ہمارا مخالف ہے یا جن کو ہم مخالف گردانتے ہیں، اس کی سوچ اور نظریے کا بغور جائزہ لیں یا اس کا مطالعہ کریں۔ دلیل کا براہِ راست تعلق مطالعے اور تحقیق سے ہے ،جہاں دلیل اور تحقیق کی کمی ہو، لازمی بات ہے وہاں پر دو مسلکوں سے تعلق رکھنے والے عالم بھی بیٹھیں گے، تو باتوں میں تکرار ہوگی اور تکرار کی طوالت پر لڑائی ہوگی۔ اس کا سب سے بڑا نقصان ہم دیکھ رہے ہیں کہ مناظروں کی شکل میں روز دینِ اسلام کے نام لیواؤں کی لڑائیاں ہو رہی ہیں۔ یہ دلیل اور تحقیق اگر سیاست کے میدان میں بھی نہ ہو، تو وہاں پر بھی گالم گلوچ ہی کا کلچر پروان چڑھے گا اور یہی وجہ ہے کہ ہمارے ملک میں سب سے زیادہ گالیاں وہی لوگ دیتے ہیں، جن کو ببانگِ دہل عوام اپنا نمائندہ منتخب کرتے ہیں۔ میں نے اپنی پوری زندگی میں آج تک کسی ایک بھی سیاستدان کو نہیں دیکھا جس نے اپنے مخالف سیاستدان کے بارے میں عزت کے دو بول کہے ہوں۔
بدقسمتی سے ہماری قوم میں اختلاف رائے کو صحیح معنوں میں آج تک کسی نے سمجھنے کی کوشش ہی نہیں کی ہے، جہاں بھی اختلافِ رائے ہو، وہاں پورے ڈسکشن کا اختتام یا تو دشمنی پر ہوتا ہے یا کچھ ایسے حالات پر جن میں رشتے ہمیشہ کے لیے ختم ہوجاتے ہیں۔ یہ اختلافِ رائے سیاسی ہو، معاشرتی ہو، یا مذہبی لیکن ہر ایک کی یہی کوشش ہوتی ہے کہ مخالف کو چھیر پھاڑ کر رکھ دے۔ اس کا ایک بہت بڑا نقصان یہ ہوتا ہے کہ انفرادی طور پر ہر ایک اپنے نقطۂ نظر کو ٹھیک سمجھنے لگتا ہے اور مخالف کے نقطہ نظر پر تحقیق کی بجائے تنقید ہی شروع کر دیتا ہے۔ ہمارا سب سے بڑا مسئلہ بھی یہ ہے کہ ہم سب کو اپنا ہی نقطۂ نظر ٹھیک لگتا ہے اور دوسروں کا غلط ۔
اسلام میں اختلافِ رائے کو بہت اہمیت حاصل ہے اور اسلام اس کو بہت قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔ ہم اگر اختلافِ رائے کے اسلامی آداب کو پڑھیں، تو اس کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہوگا کہ ہم میں ایک دوسرے کو برداشت کرنے کا مادہ پیدا ہوجائے گا۔ یہ برداشت کی کمی نہیں تو اور کیا ہے کہ چھوٹی چھوٹی باتوں پر خون کی ندیاں بہائی جا رہی ہیں۔ انفرادی اور اجتماعی سطح پر ہم میں برادشت کی کمی انتہائی زیادہ ہے۔
اختلافِ رائے کو غلط سمت لے جانے کی وجہ سے نفرت بھی پیدا ہوجاتی ہے۔ یہ نفرتوں کے بیج باہر سے آکر کسی نے نہیں بوئے بلکہ خود ہم نے ہی بوئے ہیں۔ تھوڑا سا اختلاف ہم برداشت نہیں کر پاتے جس کی وجہ سے نفرت سے پیدا ہونے والی خلیج اور بھی وسیع ہوجاتی ہے۔ ہم روز دیکھتے ہیں کہ یہاں کوئی کسی سے بھی راضی نہیں۔ وجہ صاف ظاہر ہے یہاں ہر ایک کو یہ غلط فہمی لاحق ہوگئی ہے کہ جو وہ سوچتا ہے،جو وہ کہتا ہے اور جو وہ کرتا ہے، بس وہی ٹھیک ہے ۔ میرا نہیں خیال کہ ہمارے تمام مسائل اتنے بڑے ہیں جن کو حل نہیں کیا جاسکتا۔ ہمارے بڑے بڑے مسائل ہمارے اپنے ہی پیدا کردہ ہیں اور ان کا حل بھی ہمارے پاس ہی موجود ہے۔ ان مسائل میں ایک بڑا مسئلہ اختلافِ رائے کو منفی انداز سے لینا ہے۔ ہم اگر اختلافِ رائے کو مینج کرنا سیکھ لیں، تو ہمارے اندر چھپا ’’کھٹور پن‘‘ ختم ہوگا اور جیسے ہی یہ ختم ہوگا، زندگی کی تمام رونقیں ہم محسوس کرسکیں گے۔ ہم اگر آج سے یہ عہد کرلیں کہ اختلافِ رائے کو مثبت انداز میں مینج کریں گے، تو کوئی شک نہیں کہ زندگی صحیح ٹریک پر آجائے۔ یہ کام آسان ہے، بس برداشت کی ضرورت ہے اور وہ بھی چند لمحے برداشت کی۔
کیا واقعی ہم یہ نہیں چاہتے کہ ہماری زندگی کا ہر لمحہ خوشیوں میں گزرے؟

اشتہار / Advertisement
اشتہار / Advertisement
اس تحریر کو شیئر کریں:

⭐ آپ کو یہ تحریر کیسی لگی؟ (درجہ بندی کریں)

براہ کرم اس تحریر کو 1 سے 5 ستاروں کے درمیان ریٹنگ دیں

اوسط ریٹنگ: 0 / 5 (0 ووٹ)

اپنا تبصرہ تحریر کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کی نشاندہی * سے کی گئی ہے۔