کالم نگاری

چبھتی باتیں

ڈاکٹر عبید اللہ

✍️ کالم نگار: ڈاکٹر عبید اللہ

اشتہار / Advertisement

اسلام خواتین کے حقوق اور ان کی عزت و احترام کا ضامن ہے۔ اسلام کے علاوہ کوئی بھی نظام خواتین کو حقوق نہیں دے سکا۔ خواتین کے حقوق کے نام پر معاشرے میں مرد وزن کے غیر ضروری اختلاط کے ذریعے خواتین کو غیر شرعی اور غیر قانونی طور پر اپنی خواہشات کی تکمیل کا ذریعہ بنایا گیا۔ بے دین اور آزاد خیال عناصر نے بتدریج خواتین کے حقوق، اس کے بعد مرد وزن کے مساوات اور اس کے بعد خواتین کو بااختیار بنانے کے نام پر خواتین کو اپنی عزت، وقار اور احترام کے مقام سے گرا کر سرِبازار رسوا کر دیا۔ اختیار، حیا، چادر اور چاردیواری کی ملکہ کو ہوس اور بے حیائی کے بازار میں لا کھڑا کرکے ذلت اور بے حیائی کے دریا میں دھکیل دیا گیا اور پھر مرد تماشائی بن کر مزے لینے لگا۔’’ہر میدان میں مردوں کے شانہ بشانہ‘‘ کا خوش کن نعرہ لگاکر خواتین کو بہلاپھسلا کر بے جامشقت میں ڈال دیا گیا۔ دفتر، کاروبار سے لے کر سیاسی میدانوں تک کو خواتین سے مزین کرکے انہیں لوگوں کی توجہ حاصل کرنے کا ذریعہ بنایا جا رہاہے اور بے چاری عورت کو دیکھ لیں جس کو ہوش نہیں، بس استعمال ہوئے جا رہی ہے۔
پاکستانی معاشرے میں آزاد خیالی، روشن خیالی اور حقوقِ نسواں کے ایجنڈے کے نتیجے میں خواتین کے احترام کا بھی حشر نشر روشن خیالوں کے ہی ہاتھوں ہوگیا۔ مسلمانوں کی اعلیٰ اقدار و صفات جو اس نظریاتی ملک کے باشندوں کے ساتھ وابستہ تھیں، آزاد خیالوں اور اسلامی اقدار کے دشمنوں کی وجہ سے ان میں دراڑیں پڑ گئیں۔ اسلامی اقدار و روایات کے خاتمے اور خواتین کو عزت واحترام کے بلند مقام سے گرانے میں پاکستان کے ذرائع ابلاغ اور غیر سرکاری تنظیموں (این جی اوز)کا بہت بڑا ہاتھ ہے۔ لگتا یوں ہے جیسے خصوصاً الیکٹرانک میڈیا تنخواہ دار کا کردار ادا کر رہا ہو، قوم کو اس منصوبے کو سمجھنے اور ناکام بنانے پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔
حال ہی میں چند سیاسی جماعتوں نے حوا کی بیٹی کو جس انداز میں اپنی تشہیر اور لچھے لفنگوں کو اپنی طرف متوجہ کرنے کے لیے آلہ بنا کر استعمال کیا، وہ مفاد پرستی اور جہالت کی ایک بدترین مثال ہے۔ جلسوں کے اندر اوباش نوجوانوں کا حدود پار کرکے لڑکیوں سے چھیڑ خوانی اور بدتمیزیاں معمول بن گئی ہیں۔ کیوں ایسے واقعات رونما نہ ہوں جب جوان لڑکیاں بن سنور کر اپنے جسم کو غیر مردوں کی نظر کا مرکز بنانے کی غرض سے پوری تیاری کے ساتھ شریک پنڈال میں نہ صرف شریک ہوں بلکہ اچھل کود اور ناچ گانے کے ساتھ مزید توجہ کے حصول کی کوشش کرتی پھرتی ہو اور پارٹی قائدین کو شادی کی درخواستیں بھی پیش کرتی ہو۔ بھلا اس سے بڑھ کر بے شرمی اور بے حیائی اور کیا ہوسکتی ہے؟ جب حالات اس نہج تک پہنچ جائیں کہ پردہ حجاب میں عورت اور پگڑی اور داڑھی میں مرد کو جہالت اور پتھر کے زمانے کی علامات قرار دیا جائے، تو پھر جلسوں میں حوا کی بیٹی کو نچایا بھی جائے گا اور اوباش نوجوان اس کے جسم کو نوچ کر اپنے شہوانی جذبات کو تسکین بھی پہنچائیں گے اور اسی طرح خواتین کے اپنے ہاتھوں شرم و حیا کا جنازہ نکلے گا۔ خواتین کو اپنا کھویا ہوا مقام دوبارہ حاصل کرنا اس وقت ممکن ہے جب وہ اسلام کی حدود کے اندر رہ کر اپنی زندگی گزاریں اور اسی میں اپنا وقار سمجھیں ۔

اشتہار / Advertisement
اشتہار / Advertisement
اس تحریر کو شیئر کریں:

⭐ آپ کو یہ تحریر کیسی لگی؟ (درجہ بندی کریں)

براہ کرم اس تحریر کو 1 سے 5 ستاروں کے درمیان ریٹنگ دیں

اوسط ریٹنگ: 0 / 5 (0 ووٹ)

اپنا تبصرہ تحریر کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کی نشاندہی * سے کی گئی ہے۔