کالم نگاری

بلوچستان سے وابستہ مسائل

حیدر علی یوسف زئی

✍️ کالم نگار: حیدر علی یوسف زئی

اشتہار / Advertisement

بلوچستان جو محلِ وقوع، آب و ہوا اور قدرتی وسائل میں کوئی ثانی نہیں رکھتا اور ملکی معیشت میں اہم کردار ادا کرتا ہے، بدقسمتی سے آزادی سے لے کر اب تک اس میں کوئی خاص تبدیلی دیکھنے کو نہیں ملی بلکہ یہ مزید تاریکی میں ڈوبتا چلا جا رہا ہے۔اس کی کئی اہم وجوہات ہیں جن میں سے بعض کو ذیل میں مختصر بیان کیا گیا ہے۔
* تعلیم کی کمی:۔ بلوچستان کا سب سے بڑا مسئلہ تعلیم کی کمی ہے۔ یہاں خواندگی کی شرح 44 فیصد ہے جس میں سے 55 فیصد مرد جب کہ 25 فیصد خواتین ہیں۔ پرائمری سطح پر 73 فیصد بچے سکول میں داخلہ لیتے ہیں جس میں سے صرف 35 فیصد تک اپنی تعلیم مکمل کر لیتے ہیں۔ مقامی حکومت نے 2015-16ء کے بجٹ کا دوسرا بڑا حصہ تعلیم کے لیے مختص کیا تھا جو کل بجٹ کا 22 فیصد بنتا تھا،لیکن یہ کوشش بھی خواندگی کی شرح میں کوئی خاطر خواہ نتائج نہ دے سکی جس کے بعد آنے والے دو سالوں میں اسے دوسری ترجیح سے نیچے لاکر تیسری ترجیح کا درجہ دیا گیا۔ یوں بجٹ کا صرف 18.9 فیصد حصہ تعلیم کے لیے مختص کیا گیا جو اس مسئلے سے نکلنے کی بجائے اسے مزید گھمبیر بنانے کی طرف اشارہ ہے۔
* دہشت گردی:۔ بلوچستان کا دوسرا بڑا مسئلہ دہشت گردی ہے جو قیمتی جانوں کے ضیاع کے ساتھ ساتھ مالی نقصان اور ملکی معیشت پر بھی بری طرح اثر انداز ہوتا ہے۔ یہاں دہشت گردی، اغوا برائے تاوان، ٹارگٹ کلنگ، بم بلاسٹ اور خودکش دھماکوں نے ماحول کو حبس زدہ کر رکھا ہے۔ پچھلی حکومت کی نسبت موجودہ حکومت نے دہشت گردی میں کمی لانے کی کوشش تو کی ہے، لیکن اس میں باقی ملک کی نسبت واضح کمی نہیں لائی جا سکی۔ ملکی معیشت کا انحصار سی پیک پر ہے۔ یہ خطہ سی پیک کی کامیابی کی کنجی ہے۔ سی پیک منصوبہ نہ صرف اس خطے بلکہ پورے ملک کی تقدیر بدلنے کی صلاحیت رکھتا ہے، لیکن بدقسمتی سے اس طرف بھی جتنی چاہیے اتنی توجہ نہیں دی جا رہی۔
* سیاسی جماعتوں کا کردار:۔ بلوچستان کی سیاست اور سیاستدانوں میں بھی کوئی خاص شفافیت دیکھنے کو نہیں ملتی اور ہر سیاسی جماعت بس حکمرانی کے لیے سیاست میں آتی ہے اور اپنا دورِ حکومت اور جیبیں بھرتی ہے۔ اس کے علاوہ وہ خطے کو مسائل سے پاک کرنے کو زیادہ ترجیح نہیں دیتے جو بلوچستان کی تاریکی کی وجوہات میں سے ہے۔
* حکومت کی عدم توجہی:۔ ان سب مسائل کو مدِنظر رکھ کر حکومت کوئی خاص کام نہیں کرتی، بلکہ ہوتا وہی ہے جس میں حکومتی کارندوں کو اپنا فائدہ نظر آتا ہو، نہ کہ عوام کا، جن کے ووٹ کی بدولت وہ اس مقام پر بلند بانگ وعدوں کے ساتھ آتے ہیں کہ اقتدار میں آکر آپ لوگوں کی ہی خدمت کریں گے۔ جب کہ اقتدار میں آنے کے بعد پھر الٹی گنگا بہتی ہے اور عوام کو زحمت دینے میں قطعی نہیں کتراتے۔
* وسائل سے فائدہ نہ اٹھانا:۔ ان سب مسائل کو ایک طرف رکھ کر بلوچستان کا سب سے بڑا مسئلہ یہاں کی معدنیات سے کماحقہ مستفید نہ ہونا ہے۔ یہاں کی معدنیات سے کوئی خاص فائدہ نہیں لیا جا رہا، حالاں کہ یہ ملکی معدنیات کا تقریباً 80 فیصد حصہ ہیں، جو ملکی خزانے میں اربوں روپوں کا اضافہ کرتی رہتی ہیں۔ اگر ان کو صحیح توجہ دی گئی، تو شاید پھر باہر سے قرض لینے کی نوبت ہی نہ آئے۔
ایسا ناممکن تو نہیں لیکن آسان بھی نہیں کہ ان سب مسائل سے ایک ساتھ اور کم وقت میں نمٹا جائے لیکن وقت کی اہم ضرورت ہے کہ اس طرف توجہ دی جائے اور جتنا جلد ہوسکے، ان مسائل کو ختم کرنے کے لیے بھرپور حکمت عملی اپنائی جائے، تاکہ نہ صرف بلوچستان بلکہ پاکستان بھی خود کفیل ممالک کی صف میں کھڑا ہو سکے۔

اشتہار / Advertisement
اشتہار / Advertisement
اس تحریر کو شیئر کریں:

⭐ آپ کو یہ تحریر کیسی لگی؟ (درجہ بندی کریں)

براہ کرم اس تحریر کو 1 سے 5 ستاروں کے درمیان ریٹنگ دیں

اوسط ریٹنگ: 0 / 5 (0 ووٹ)

اپنا تبصرہ تحریر کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کی نشاندہی * سے کی گئی ہے۔