Swat

آئینی ترمیم، سات اضلاع کی ’’پاٹا‘‘ حیثیت ختم ہوجائے گی

سوات (باخبر سوات ڈاٹ کام) 31ویں آئینی ترمیم کے بعد ملاکنڈ ڈویژن کے سات اضلاع سوات، شانگلہ، بونیر، ملاکنڈ، دیر لوئیر، دیر اپر اور چترال کی صوبہ کے زیر انتظام قبائلی علاقہ ’’پاٹا‘‘ کی حیثیت ختم ہو جائے گی۔ ملاکنڈ ڈویژن میں بھی وہ تمام قوانین نافذ ہوں گے جو ملک کے باقی علاقوں میں نافذ ہیں۔ قومی اسمبلی اور سینیٹ سے دو تہائی اکثریت سے پاس ہونے والے 31ویں آئینی ترمیم اگلے دو روز میں خیبر پختون خواہ کی صوبائی اسمبلی سے بھی پاس ہونے کا امکان ہے۔ صوبائی اسمبلی سے پاس ہونے اور صدر مملکت کے دستخط کے بعد آئین کی شق 246 سے فاٹا کے ساتھ پاٹا کے الفاظ کو بھی نکال دیا جائے گا جس کے بعد ملاکنڈ ڈویژن میں وہ تمام قوانین جو اس سے پہلے نہیں تھے، نافذ ہو جائیں گے ۔ آئینی ترمیم کے بعد پانچ سال کے لئے ملاکنڈ ڈویژن بھی ٹیکس اور کسٹم فری ہوگا جس کے بعد 2024ء کے بعد ملاکنڈ ڈویژن کے سات اضلاع کے عوام بھی ملک کے باقی حصوں کی طرح ٹیکس دیں گے اور ملاکنڈ ڈویژن میں چلنے والے لاکھوں کی تعداد میں نان کسٹم پیڈ گاڑیوں کی قانونی حیثیت بھی ختم ہو جائے گی۔

تبصرہ کریں