(باخبر سوات ڈاٹ کام) ملاکنڈ ڈویژن، کوہستان، بلوچستان کے اضلاع لور الائی، چمن، دال بدین، مری، بگتی، وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقوں میں لاکھوں کی تعداد میں موجود نان کسٹم پیڈ گاڑیاں اب پانچ سال کے مہمان رہ گئیں۔ 31ویں آئینی ترمیم کے بعد ان تمام علاقوں میں کسٹم ایکٹ نافذ ہو جائے گا جس کے بعد ان علاقوں میں موجود نان کسٹم پیڈ گاڑیاں غیر قانونی ہو جائیں گی۔ تاہم آئینی ترمیم میں پاٹا اور فاٹا کے عوام کو پانچ سال تک ٹیکس سے استثنا کے بعد جون2024ء تک نان کسٹم پیڈ گاڑیوں کو قانونی حیثیت حاصل ہوگی۔اس کے بعد یہ گاڑیاں غیر قانونی ہو جائیں گی۔ قانونی ماہرین کے مطابق 2024ء سے پہلے ان گاڑیوں کو قانون کے دائرے میں لانے کے لئے ’’ایمنسٹی سکیم ‘‘ متعارف کرایا جائے گا جس کے تحت ان گاڑیوں کو خصوصی رعایت کے ذریعے محکمہ ایکسائز کے ساتھ رجسٹرڈ کیا جائے گا۔ جون 2024ء کے بعد نان کسٹم پیڈ گاڑیاں غیر قانونی ہو جائیں گی جس کے بعد افغانستان سے آنے والی نان کسٹم پیڈ گاڑیوں کے اربوں روپے کا غیر قانونی کاروبار ختم ہو جائے گا۔
