Swat

سوات ،پی ٹی آئی حکومت کی تعلیمی ایمرجنسی کا پول کھل گیا

سوات (بیورو رپورٹ) سوات میں پی ٹی آئی حکومت کی تعلیمی ایمرجنسی کا پول کھل گیا۔ تحصیل بریکوٹ لڑکیوں کا پرائمری اسکول بوڑی کئی ماہ سے بند پڑا ہے۔ استانیوں کا گھر بیٹھ کر تنخواہ لینے کا انکشاف ہوا ہے۔ تعینات استانیوں کو ضلعی سربراہ نے برطرف کردیا، تو دو ماہ بعد انہیں پشاور کے ڈائریکٹریٹ نے دوبارہ بحال کردیا۔ حکومت ختم ہونے سے قبل ہی ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر زنانہ شمیم اختر کا تبادلہ بھی سوات سے کردیا گیا۔ محکمۂ تعلیم سوات سے ملنے والی دستاویزات کے مطابق محکمۂ تعلیم سوات کی ضلعی آفیسر نے ڈیوٹی نہ دینے پر گورنمنٹ گرلز پرائمری سکول بوڑئی میں تعینات دو استانیوں کو 28 فروری 2018ء کو چٹھی نمبر 1126-30 نوکری سے برخاست کردیا، تاہم بعدازاں ڈائریکٹریٹ پشاورکے ڈائریکٹر نے انہیں 11 اپریل 2018ء کو چٹھی نمبر2215-19 کے تحت دوبارہ انکوائری کراکے بحال کردیا۔ یہی پر بس نہیں اور 23 مئی 2018ء کو ڈی ای او زنانہ سوات شمیم اختر کا سوات سے مردان تبادلہ کردیا گیا ہے۔ مقامی لوگوں کے مطابق اسکول کئی مہینوں سے بند ہے اور بحالی کے باوجود دونوں استانیاں اسکول نہیں آرہی ہیں۔ اسکول میں تعلیمی سرگرمیاں معطل ہیں جس کے باعث بچیوں کا تعلیمی مستقبل تباہ ہورہا ہے۔

اشتہار / Advertisement
اس تحریر کو شیئر کریں:

⭐ آپ کو یہ تحریر کیسی لگی؟ (درجہ بندی کریں)

براہ کرم اس تحریر کو 1 سے 5 ستاروں کے درمیان ریٹنگ دیں

اوسط ریٹنگ: 0 / 5 (0 ووٹ)

اپنا تبصرہ تحریر کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کی نشاندہی * سے کی گئی ہے۔