Swat

طالبان رہنما ملا فضل اللہ امریکی ڈرون حملے میں ہلاک

سوات (باخبر سوات ڈاٹ کام)  افغانستان کے علاقہ کنڑ میں امریکی ڈرون حملے میں ساتھیوں سمیت ہلاک ہونے والے کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے سر براہ ملا فضل اللہ 1974میں سوات کی تحصیل کبل میں دریائے سوات کے کنارے آباد علاقہ مام ڈھیرئی میں مقامی زمیندار بیلادر کے گھر میں پیدا ہوا ۔ فضل اللہ نے ہائی سکول تک تعلیم گورنمنٹ ہائی سکول ڈھیرئی کانجو سے حاصل کی اور پھر گورنمنٹ جہانزیب کالج میں ایف اے میں داخلہ لیا۔ کالج کے دور میں وہ پیپلز سٹوڈنٹس فیڈریشن کا سرگرم رکن اور رہنما تھا ۔ اس دوران وہ فضاگٹ سے مام ڈھیرئی تک دریائے سوات پر لگے چئیر لفٹ میں آپریٹر بھی رہا ۔ ایف اے کے بعد اس کا رجحان دینی تعلیم کی جانب ہوا اور مختلف دینی مدارس کے بعد اس نے ضلع دیر کے علاقہ میدان میں ملا صوفی محمد کے مدرسے میں داخلہ لیا ۔ اس دوران فضل اللہ کا شمار صوفی محمد کے خاص شاگردوں میں ہونے لگا جس پر صوفی محمد نے اپنی بیٹی کا نکاح فضل اللہ سے کرایا ۔ ملا فضل للہ کا ایک بھائی فضل احد ڈمہ دوملہ باجوڑ میں مدرسہ پر ڈرون حملہ میں جاں بحق ہوا تھا، جس کے بعد فضل اللہ نے اپنی بیوہ بھابھی سے دوسری شادی کی ۔ اکتوبر2001میں افغانستان پر امریکی حملے کے بعدوہ اپنے سسر ملا صوفی محمد کے ساتھ امریکہ کے خلاف لڑنے کے لئے افغانستان گیا اور 2005میں واپسی پر پاکستانی سرحد پر فورسز نے اس کو گرفتار کرلیا اور چند ماہ جیل میں گزارنے کے بعد رہائی کے ساتھ ہی سوات آکر اس نے غیر قانونی ایف ایم ریڈیو کھول دیا۔ جس کے بعد اس نے ساتھیوں کی مدد سے مام ڈھیرئی میں لوگوں کے چندہ سے مدرسہ اور اپنے لئے ہیڈ کواٹر تعمیر کیا ۔ 2006کے آخر میں اس کے ساتھیوں کی تعداد سیکڑوں تک پہنچ گئی تھی اور اس نے اپنے ساتھیوں کو اسلحہ اٹھانے کا حکم دیا۔ جس کے بعد 2007سے2009تک سوات میں آگ و خون کا کھیل شروع ہوا ۔ 35سے زائد خودکش دھماکوں ، سیکڑوں دھماکوں ، ٹارگٹ کلنگ میں تین ہزار سے زائد عام لوگ اور 550سے زائد سیکورٹی فورسز کے اہلکار اس میں جاں بحق ہوئے ۔ اس دوران فضل اللہ کے ساتھیوں نے چار سو سے زائد سکولوں ، سیکڑوں سرکاری و نجی عمارتوں ، پلوں کو بموں سے اڑایا یا نذر آتش کردیا ۔ مئی2009میں سوات سے لاکھوں افراد کی نقل مکانی کے بعد فوج نے یہاں طالبان کے خلاف آپریشن شروع کیا جس کے دوران فضل اللہ اپنے اہم ساتھیوں سمیت افغانستان فرار ہوگیا اور اس کی ہلاکت کی خبر تک وہ افغانستان کے علاقہ کنڑ میں مقیم تھا اور وہاں سے پاکستان میں دہشت گری کی کارروائیاں کرتا تھا ۔ 19اکتوبر2012کو فضل اللہ کے حکم پر نوبل ایوارڈ یافتہ ملالہ یوسفزئی اور ان کی ساتھی طالبات پر حملہ کیا گیا ۔ 2013میں حکیم اللہ مسعود کی ہلاکت کے بعد فضل اللہ کو تحریک طالبان پاکستان کا سربراہ چن لیا گیا ۔2014میں آرمی پبلک سکول پر حملہ جس میں معصوم بچوں سمیت 148افراد شہید ہوئے تھے، کا ماسٹر مائنڈ بھی فضل اللہ تھا ۔ امریکہ نے فضل اللہ کو عالمی دہشت گردوں کی لسٹ میں شامل کرکے اس کے سر کی قیمت 50لاکھ امریکی ڈالرز مقرر کی تھی اور حکومت پاکستان نے بھی اس کے سر پر انعام مقرر کیا تھا ۔ ملا فضل اللہ کی ہلاکت کی خبر سوات میں جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی اور لوگ ان کی ہلاکت کی خبر سن کر خوشی کا اظہار کر رہے تھے

اشتہار / Advertisement
اس تحریر کو شیئر کریں:

⭐ آپ کو یہ تحریر کیسی لگی؟ (درجہ بندی کریں)

براہ کرم اس تحریر کو 1 سے 5 ستاروں کے درمیان ریٹنگ دیں

اوسط ریٹنگ: 0 / 5 (0 ووٹ)

اپنا تبصرہ تحریر کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کی نشاندہی * سے کی گئی ہے۔