کالم نگاری

ہماری سیاحت اور حکومتی عدم توجہی

محمد سجاد لالہ گل

✍️ کالم نگار: محمد سجاد لالہ گل

اشتہار / Advertisement

کچھ دن پہلے دوستوں کے گروپ کے ساتھ سوات کے پرفضا مقام کالام اور مہوڈنڈ جانے کا اتفاق ہوا۔ایڈونچر کا شوق اور دوستوں کا گروپ ہو تو مزا دوبالا ہوجاتا ہے۔ سو ،سب دوستوں کے مشورے سے ٹور کیلئے بائیکس پر جانے کا اتفاق ہوا۔ہم سات دوست چار بائیکس پر اپنے گاؤں الہ ڈھنڈ ڈھیرئی سے دوپہر بارہ بجے نکلے۔ یہاں یہ بتاتا چلوں کہ ہمارے گاؤں سے کالام تک سفر ایک سو ستر کلومیٹر بنتا ہے۔ کم رفتار کے ساتھ مختلف تفریحی مقامات پر تھوڑی دیر رکتے رکتے سفر جاری رہا۔ ویسے بھی سوات کو ایشیاکا سوئٹزرلینڈ کہا جاتا ہے۔مدین اور بحرین سے کالام میں داخل ہوتے ہی قدرت کے جو شاہکار حسین مناظر دیکھنے کو ملتے ہیں، وہ واقعی قابل دید ہوتے ہیں۔ بحرین کے بازار میں داخل ہوکر عصر کا وقت تھا۔ ہلکی بارش، سیاحوں کا رش اورہر طرف گہما گہمی دل کو عجیب سروردے رہی تھی۔بحرین کے بازار سے نکل کر جگہ جگہ سیاح آسمان کو چھوتی بلند پہاڑوں کے ساتھ سیلفیاں بنانے میں مصروف تھے۔ دریائے سوات پہ بنے لکڑیوں اور رسیوں کے پلوں پر سیاح تصاویر بنانے میں مصروف تھے۔ہم سہانے موسم اور دلفریب نظاروں سے لطف اندوز ہوتے رہے۔ سلیفیاں اور تصاویر بناتے رہے مگر شومئی قسمت کہ جیسے جیسے آگے بڑھتے گئے،بحرین تا کالام کھنڈرات کی شکل میں موجود شاہراہ عبور کرتے رہے۔
ہچکولے کھاتے انتہائی سست رفتاری اور بے حد احتیاط سے چلتے رہے کیونکہ کسی سڑک کی موجودگی کے کوئی آثار نظر آرہے تھے نہ کوئی حفاظتی پشتہ تھا۔بہت عرصے سے سنتے چلے آرہے ہیں کہ کالام روڈ خراب ہے۔ لیکن یہ اندازہ کبھی نہیں تھا کہ اس قدر خراب ہوگی۔جگہ جگہ تالاب نما گڑھے، تنگ اور پرخطر راستے سے گزرتے ہوئے سیاحوں کو اپنی سواریوں سے زیادہ جان کی فکر لاحق ہوتی ہے۔کئی جگہوں پر روڈ اس حد تک تنگ ہے کہ ایک سائیڈ والی گاڑیاں جب تک نہ گزریں، دوسری سائیڈ والے انتظار کرتے ہیں۔جو رش میں ایک تکلیف دہ عمل ہے۔بحرین سے کالام اس پگڈنڈی نما راستے پر جاتے ہوئے مجھے بار بار یہ خیال آتا رہا کہ ہماری حکومت سیاحت کے فروغ میں دلچسپی کیوں نہیں لے رہی؟ بحرین سے کالام تک تیس پینتس کلومیٹر روڈ اتنے سالوں سے کیوں کھنڈرات کی شکل پیش کر رہا ہے؟ اگر یہ روڈ وفاقی حکومتی اداروں کے اختیارات میں ہے تو کیوں لاپروائی بھرتی جارہی ہے؟ کیا باقی صوبوں کے سیاحی مقامات کا یہ عالم ہے؟ پرستان جیسا علاقہ اتنے سالوں سے کیوں نظر اندازکیا جارہا ہے؟جہاں حکومت بڑے بڑے منصوبوں پر کروڑوں روپے خرچ کرتی ہے،وہاں ہزاروں لوگوں کے ذریعۂ معاش پر اثر انداز ہونے والے اس خوبصورت سیاحتی مقام اور لاکھوں سیاحوں کو حکومت کیوں نظر انداز کررہی ہے؟
کالام کے رہائشی دو تین مہینے کا سیزن گزارنے کے بعدمعاش کے لئے دوسرے شہروں کا رخ کرتے ہیں۔ اگر حکومت کالام سمیت ملحقہ علاقوں کی شاہراہوں اور سہولیات پر توجہ دے تو یہاں کے رہائشی دونوں سیزن غم روزگار سے آزاد ہوکر مستقل بنیادوں پر یہاں آباد ہوجائیں گے۔ہم اس خستہ حال روڈ پر کچھوے کی طرح چلتے رات دس بجے کالام پہنچ گئے۔ سارے راستے کی تھکن ایک طرف اور بحرین سے کالام تک کے تیس کلومیٹر کے سفر کی تھکاوٹ دوسری طرف۔کالام کے بازار میں رات کے وقت سیاحوں کے رش کی وجہ سے رونق تھی۔ضرویات زندگی کے سامان کے علاوہ لکڑی سے بنے شو پیس، ڈرائی فروٹس، سواتی شال اور دستکاری سے سجے کپڑوں اور چادروں میں سیاحوں کی دلچسپی کا اندازہ وہاں موجود دکانوں میں رش سے لگایا جاسکتا تھا۔
اگلے دن ہمیں مہوڈنڈ کے لئے نکلنا تھا۔رات کی ہلکی بارش نے کالام کی فضا خوشگوار بنادی تھی۔ صبح ناشتے کے بعد جب مہوڈنڈ کی طرف نکلیں تو جنگلات کا ایک سلسلہ شروع ہوا(کچھ مقامات پر درختوں کی کٹائی بھی ہوئی تھی، جس کی روک تھام کرنی چاہے)دیار کے اونچے اونچے درختوں مکے درمیان روڈ بحرین سے کالام تک کے روڈ سے بے حد بہتر تھا لیکن یہ روڈ بھی کچھ فاصلے کے بعد ختم ہوگیا ۔ ہمارے سامنے مہوڈنڈ تک کا سفر پتھریلے پہاڑی راستوں پر سے تھا۔راستے کے ساتھ بہتے دریا اور اونچے درختوں کے حسین نظاروں سے محضوظ ہونے رکتے اور روانہ ہوتے۔ ہم نے کئی مقامات پر سیاحوں کواپنی گاڑیوں سے اتر کرگاڑیوں کے پیچھے دھکے لگاتے دیکھا۔ خطرناک چڑھائیوں اور اترائیوں، ناہمور اورپتھریلے روڈ کے باوجود یہ سیاحت کا شوق ہے جو لوگوں کو یہاں آنے پر مجبور کردیتا ہے ۔
گذشتہ صوبائی حکومت نے بھی اپنے دور میں مہوڈنڈ جھیل، مٹلتان، اتروڑ، گھبرال اور دیگر سیاحتی علاقوں جیسے کمراٹ وغیرہ کی شاہراہوں پر توجہ نہیں دی، جو اس کی کارکردگی پر ایک سوالیہ نشان ہے۔صوبائی حکومت اگر اس طرف توجہ دیتی تو سیاحت کے فروغ میں مدد ملتی۔ ہزاروں لوگوں کو روزگار میسر ہوتا۔لاکھوں سیاح آتے اور صوبے کے علاوہ علاقے کی معیشت پر اچھا اثر پڑتا۔ کالام سے مہو ڈنڈ تک فاصلہ پینتس کلومیٹر ہے جو ہم نے بائیکس پر سست رفتاری اور انتہائی احتیاط سے سفر کے باعث تین گھنٹوں میں طے کیا۔پہاڑوں کے بیچ بنے قدرت کے عجوبے مہوڈنڈ جھیل ساری تھکن ختم ہونے کے لئے کافی ہے۔سرسبز ہرے گھاس، پہاڑوں سے نکلتے پانی اور ہر طرف اونچے اونچے پہاڑ وں کے بیچ میں واقع یہ جھیل سیاحوں کی توجہ کامرکز بنا ہوا ہے۔
بس ضرورت اس امر کی ہے کہ وفاقی اور صوبائی حکومتیں یہاں کی شاہراہوں اور سہولیات پر توجہ دیں اور یہاں کے مسائل ختم کریں۔ ساتھ ہی یہاں کے عوام کی معاش میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھنے والی انڈرسٹری ’’سیاحت‘‘ کو فروغ دیں۔

اشتہار / Advertisement
اشتہار / Advertisement
اس تحریر کو شیئر کریں:

⭐ آپ کو یہ تحریر کیسی لگی؟ (درجہ بندی کریں)

براہ کرم اس تحریر کو 1 سے 5 ستاروں کے درمیان ریٹنگ دیں

اوسط ریٹنگ: 0 / 5 (0 ووٹ)

اپنا تبصرہ تحریر کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کی نشاندہی * سے کی گئی ہے۔