کالم نگاری

جمعیتِ طلبۂ عربیہ پاکستان(اِک تعارف)

محمد قاسم منگلوری 

✍️ کالم نگار: محمد قاسم منگلوری 

اشتہار / Advertisement

قارئین، دینی مدارس اسلام کا گہوارہ ہیں۔ گذشتہ کئی صدیوں سے علمائے کرام کی بڑی تعداد ان مدارس سے فارغ ہوتی ہے۔ ان ہی علمائے کرام نے امتِ مسلمہ کی حقیقی راہنمائی فرمائی اور امت کو صراط مستقیم دکھائی۔
ایک وقت تھا جب مدارس فرقہ پرستی کے مراکز،مسلکی، لسانی اور گروہی تعصبات کے حوالے سے جانے جاتے تھے۔ طالبانِ علومِ نبوت کی ذہن سازی امت کے وسیع تر مفاد کی بجائے مسلک اور فرقے کے مقاصد کے پیشِ نظر کی جاتی تھی۔ فارغ التحصیل علمائے کرام اپنے مسلک اور مکتبِ فکر کی چاردیورای میں مقید ہوکر رہ گئے تھے۔ فروعی اختلافات میں شدت کے پہلو نے اصولی مسائل پر پردہ ڈال دیا تھا۔مساجد و مدارس اور منبر و محراب ایک دوسرے کے خلاف استعمال ہورہے تھے۔ خطباتِ جمعہ اور وعظ ونصیحت کے دوران میں دینی و اخلاقی مسائل کی بجائے مناظروں اور مذاکروں میں اپنی طاقت اور صلاحیت صرف کی جا رہی تھی۔’’قال اللہ و قال الرسول‘‘ کی بات کرنے والے اخوت و محبت کے پیغامِ ربانی کو بھول کر افتراق و انتشار کی بھول بھلیوں میں بھٹک رہے تھے۔ مسلمانوں کا اتحاد و اتفاق تارِ عنکبوت بن چکا تھا۔ ایسے میں جب ساری توانائیاں اور صلاحیتیں اپنے مسلک کو بالاتر تابت کرنے میں مصروف ہورہی تھیں، تو بلاشبہ فریضۂ دعوتِ دین پس منظر میں چلا گیا تھا۔ ان اسباب کی وجہ سے جہاں دینی مدارس اسلام کا صحیح تشخص اُجاگرکرنے میں ناکام ہورہے تھے، وہاں مسلمانوں کا عام طبقہ اسلام اورمدارس سے بدظن ہورہا تھا اور دینِ اسلام کے مخالفین کو مدارس کے خلاف بولنے کا موقع مل رہا تھا۔
انہی حالات کو دینی مدارس کے چند پاکیزہ صفت نوجوانوں نے محسوس کیا اور اس طوفان کو روکنے کے لیے باہمی فروعی اختلافات، تعصبات، لسانیت اور مسلکی بتوں کو توڑ کردینی مدارس کے نوجوانوں کو’’انماالمؤمنون اخوۃ‘‘ کا پیکر بنانے، فرقہ واریت کے خلاف طلبہ کو رواداری کے راستے پر گامزن رکھتے ہوئے باہم مل بیٹھنے کا درس دینے اور امتِ مسلمہ کو درپیش حالات اور چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے لیے 10 محرم الحرام 1395ھ بمطابق 13 جنوری 1975ء کو لاہور میں جمع ہوئے اور ’’جمعیت طلبۂ عربیہ‘‘ کا قیام عمل میں لایا، جس کی وجہ سے آج ہزاروں طالبانِ علومِ نبوت کی شکل میں اپنے مقاصد کے حصول کے لیے کوشاں ہیں۔
جمعیتِ طلبۂ عربیہ پاکستان کے دینی مأخذ قرآن و سنت ہیں، جن سے وہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہ اور سلف الصالحین کی تشریحات کی روشنی میں رہنمائی حاصل کرتے رہتے ہیں۔
طلبہ میں تحقیقی علم، انفرادیت کے مقابلے میں اجتماعیت اور اقامتِ دین کے جذبے کو فروغ دینے کے علاوہ پاکستان سے فرقہ واریت کے تدارک اور ملک میں لادین عناصر کی روک تھام کرتے ہوئے اسلامی نظامِ تعلیم کے لیے کوشش کرنا جمعیت کے مستقل اہداف میں شامل ہے۔
جمعیتِ طلبۂ عربیہ اپنے کارکنان کے اندر تعلیمی و تحریکی شعور پیدا کرنے اور ہمہ پہلو تربیت کے لیے مختلف النوع تربیتی پروگرامات جیسے اجتماع عام، دعوتی وفود، استقبالیے، تربیت گاہوں اور مہمات کا اہتمام کرتی ہے جب کہ طلبہ کی پوشیدہ صلاحیتوں کو فروغ دینے کے لیے تقریری و تعلیمی اور تحریری مقابلے بھی اسی سلسلے کی کڑیاں ہیں۔
’’قرآن و سنت کی روشنی میں اپنی اور بندگانِ خدا کی زندگی کی تعمیر کرتے ہوئے رضائے الٰہی کا حصول‘‘ جمعیتِ طلبۂ عربیہ کا نصب العین ہے۔ اسی نصب العین کے حصول کی خاطر سرگرم کارکنان کی ہمہ پہلو تربیت کے لیے ان کو تربیت کے مختلف مرحل سے گزارتی ہے۔
ہر وہ طالب علم جو جمعیتِ طلبۂ عربیہ کی دعوت سے متاثر ہو اور اس کی سرگرمیوں سے اتفاق رکھتا ہو، تو وہ جمعیت کا حامی بن سکتا ہے۔
ہر وہ طالب علم جو جمعیت کے نصب العین اور طریقۂ کار سے صدقِ دل سے متفق ہونے کے ساتھ ساتھ قرآن وسنت کی روشنی میں ان شرعی تقاضوں کو پورا کرے اور اپنی عملی زندگی میں جمعیت کے نصب العین کے حصول کی جدوجہد کرے، تو وہ جمعیت کا رفیق بن سکتا ہے۔
ہر وہ طالب علم جو شعور کی پختگی کے ساتھ جمعیت کے نصب العین اور طریقۂ کا کو اپنی زندگی کا نصب العین قرار دے اور اس کا عمل اس کی تائید کرتا ہو، جمعیت کے قواعد و ضوابط کا مکمل پابند ہو، دینی فرائض کی پابندی کرتا ہو اور کبائر سے اجتناب کرنے والا ہو اور کسی ایسی تنظیم سے وابستہ نہ ہو جس کے اغراض و مقاصد جمعیت کے طریقۂ کا ر و نصب العین سے متصادم ہوں، تو وہ طالب علم جمعیت کا رکن بن سکتا ہے۔
برادرانِ عزیز! ہم ان سطور کے ذریعے آپ کو دعوتِ خاص دیتے ہیں کہ بحیثیت طالب علم آپ کے ساتھ جتنے دن باقی ہیں، وہ جمعیت کے زیرِ سایہ گزاریں، تاکہ آپ کی تنظیمی، تحریری، تقریری اور تعلیمی صلاحیتوں میں نکھار پیدا ہوسکے۔
جاتے جاتے اس حوالہ سے ایک شعر پیشِ خدمت ہے کہ
تنظیم بڑی چیز ہے اے اہل گلستان
بکھرے ہوئے تنکوں کو نشیمن نہیں کہتے

اشتہار / Advertisement
اشتہار / Advertisement
اس تحریر کو شیئر کریں:

⭐ آپ کو یہ تحریر کیسی لگی؟ (درجہ بندی کریں)

براہ کرم اس تحریر کو 1 سے 5 ستاروں کے درمیان ریٹنگ دیں

اوسط ریٹنگ: 0 / 5 (0 ووٹ)

اپنا تبصرہ تحریر کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کی نشاندہی * سے کی گئی ہے۔