سوات (باخبرسوات ڈاٹ کام) سوات کی تحصیل مٹہ کے علاقہ فتیما میں سکول کو مسمارکردیا گیا۔ عمائدین علاقہ نے شدید احتجاج کرتے ہوئے سکول کی ازسرنو تعمیر کے لیے ایک ماہ کی ڈیڈ لائن دے دی۔ سکول مقامی لوگوں کے چندوں سے خریدی گئی اراضی پر تعمیر ہوا تھا جسے ازسرنو تعمیر کے بہانے مسمار کردیا گیا۔ تین سو بچے تعلیم سے محروم ہوگئے ہیں۔ تعلیمی انقلاب کے نعرے لگانے والے بھی خاموش تماشائی کا کرداراداکررہے ہیں۔ سکول کو مسمار کرنے والوں کے خلاف کارروائی کی جائے اور سکول کی جلدازجلد تعمیر یقینی بنائی جائے۔ بصورت دیگر احتجاجی دھرنا دینے پر مجبورہوجائیں گے۔ اس حوالے سے تحصیل مٹہ کے علاقہ فتحماسے تعلق رکھنے والے عمائدین نے احتجاجی مظاہرہ کیا اور بعد ازاں مولانا سید فضل قدیرشاہ نے دیگر مشران کے ہمراہ سوات پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہاکہ علاقہ فتحما کے لیے 1983ء میں پرائمری سکول منظورہواتھا، جس کے بعد اہلِ علاقہ نے چندے جمع کرکے سکول کے لیے اراضی خرید ی تھی، جس پر سکول تعمیر ہوا،تاہم سال رواں کے ماہ اپریل میں سکول کو ازسرنو تعمیر کے بہانے مسمارکیاگیا جس کے بعد تین سوطلبہ گیراجوں میں بیٹھ کر علم حاصل کرنے پر مجبور ہوگئے ہیں۔
Swat
