سوات (باخبرسوات ڈاٹ کام) ملک میں رواں مہینے کی 15 سے 27 اکتوبر تک ہونے والے12 روزہ انسدادِخسرہ مہم کے دوران خیبر پختونخوا میں48 لاکھ بچوں کو خسرہ کے ٹیکے لگائے جائینگے۔ سوات میں بھی اس مقصد کیلئے تمام انتظامات مکمل کر لئے گئے ہیں۔ باالخصوص دور افتادہ پہاڑی دیہات کے بچوں تک رسائی پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔ تاکہ اس موذی مرض کی مؤثر بیخ کنی کی جاسکے۔ مہم کے دوران اتوار کی چھٹی بھی نہیں کی جائے گی۔ پختونخواریڈیوایف ایم 98 اورمحکمہ اطلاعات سوات بھی مہم میں بڑھ چڑھ کر شریک ہوگی اورخصوصی آگاہی پروگرام پیش کئے جائیں گے۔ ماہرین کے مطابق خیبرپختونخوا کے 98 فیصد حصے کو اس بیماری سے خطرہ لاحق ہے۔ ای پی آئی ڈائریکٹراکرم شاہ نے سیدوشریف میں ایک آگہی سیمینار کے دوران اظہارخیال کرتے ہوئے بتایاکہ صوبے میں پھول بچوں کو خسرہ سے بچانے کیلئے انتظامات آخری مراحل میں ہیں۔ پچھلے سال خسرہ کے خطرے کو جانچنے سے یہ پتا لگاکہ صوبہ خیبر پختونخوا کا 98 فیصد حصہ اس مرض سے متاثر ہو سکتاہے۔ اس مرض کے پھیلنے کا زیادہ خطرہ مارچ سے مئی اورستمبرسے نومبرکے مہینوں میں ہوتا ہے۔ گلے میں خراش اور درد، تیزبخار، ناک کا بہنااور آنکھوں میں درد اس بیماری کے نشانات ہیں۔ 9 مہینوں سے 5 سال تک کے 48 لاکھ بچوں کو مختلف مراکز، آؤٹ ریچ ٹیموں اور موبائل ٹیموں کے ذریعے ویکسین دیا جائے گا۔ اس مہم کیلئے صوبے میں 5300 ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں۔
Swat