کالم نگاری

یادوں کے جھروکے

مظفر خان ظفر

✍️ کالم نگار: مظفر خان ظفر

اشتہار / Advertisement

زندگی میں اُتار چڑھاؤ آتا ہی رہتا ہے۔ ایسے ہی 2012ء میں تعلیمی سطح پر ہر پرائمری سکول میں ’’انقلاب‘‘ سے پہلے ہیڈ ٹیچر کسی بھی سینئر استاد کو مقرر کیا جاتا تھا۔ 2013ء میں سینئر اساتذہ کو سکیل پندرہ دے کر ہیڈ ماسٹر بنا دیا گیا اور یہ کارنامہ نیشنل عوامی پارٹی نے انجام دیا۔ سینیارٹی کی بنیاد پر سکیل 12 سے اساتذہ کو اَپ گریڈ کرتے ہوئے چودہ اور پندرہ سکیل سے نوازا گیا۔ ساتھ میں یہ شرط رکھی گئی کہ پندرہ سکیل کا حامل مدرس سکول میں صرف ایک ہوگا اور سکول کے تمام مسائل و امور کا وہی ذمہ دار ہوگا۔
جب پہلی مرتبہ یہ آرڈرز جاری ہوئے، توراقم سرکل کبل میں ایک ٹریننگ میں مصروف تھا۔ جب ایک ساتھی آرڈر کاپی لے کر آیا، تو ہر ٹیچر اس میں اپنے اپنے سکول کے نئے ہیڈ ماسٹر تلاش کرنے میں جت گیا۔ ایک دوست نے بتایا کہ آپ کے سکول میں ’’غلام جیلانی‘‘ نامی کسی ٹیچر کو بطورِ ہیڈ ماسٹر تعینات کیا گیا ہے۔ یہ اجنبی سا نام سن کر میں حیرت میں پڑ گیا۔ میرے ذہن میں کسی ایسے شخص کا خاکہ بن گیا جس کے سرپر بڑی پگڑی، ہاتھ میں تسبیح اور مولوی ٹائپ کے لباس میں ملبوس تھا۔ میں زیرِ لب مسکرایا۔ جیلانی اور گیلانی کے الفاظ میرے ذہن میں گڈ مڈ ہونے لگے۔ ایسا نام کم از کم میری اساتذہ برادری میں مفقود تھا۔ قصہ مختصر، تین چار روز بعد موصوف سے میری ملاقات اپنے پہاڑی سکول میں ہوئی۔ میرے ذہن میں ان کا جو خاکہ بنا تھا، وہ اُس سے یکسر مختلف تھے۔ خاموش، سنجیدہ اور اپنے خیالات میں ڈوبی ایک منفرد شخصیت۔ میں دل میں ڈر سا گیا کہ ہیڈ ماسٹر صاحب کی سنجیدگی کہیں خطرناک ثابت نہ ہو۔ کیوں کہ کہا جاتا ہے کہ خاموش لوگوں کی شخصیت بہت گہری ہوتی ہے۔ تقریباً ہر محکمے کے ما تحت ملازمین یہ خواہش رکھتے ہیں کہ ’’باس‘‘ نرم دل اور خوش گفتار ہو۔ میں دل ہی دل میں سوچنے لگا کہ اب اس خاموش طبع شخصیت کے ساتھ نبھانا ہی ہوگا ۔
وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ جیلانی صاحب کی شخصیت پیاز کے چھلکے کی طرح تہ در تہہ ہم پر کھلنے لگی۔ کہا جاتا ہے کہ برتن کی آواز سے پتا چلتا ہے کہ ٹوٹا ہے یا صحیح سلامت حالت میں ہے۔ اسی طرح ہماری آپس کی گفتگو نے مجھے غلام جیلانی صاحب سے گہری محبت اور عقیدت کا اسیر بنا دیا۔ وہ مجھے بہت اچھے لگے۔ مذہبِ اسلام کے مطابق کسی کے بارے میں اچھی یا بری رائے اُس وقت تک قائم نہیں کرنی چاہیے، جب تک آپ کے اُس کے ساتھ معاملات نہ آئیں۔ میں ان سطور میں کسی کی خوشامد نہیں کرنے جا رہا، نہ اس کی ضرورت ہی ہے۔ کیوں کہ اب ہم الگ الگ سکولوں میں ہیں۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ میں نے جب اُن کی ذات کا بغور جائزہ لیا اور اُن کے بارے میں جانتا گیا، تو اپنی کم علمی کے باوجود کہوں گا کہ میں نے اُن سے ایک طرح سے زندگی گزارنے کا ڈھنگ سیکھا۔
اللہ پاک نے آپ کو ڈھیر ساری خوبیوں سے نوازا ہے۔ میں اُن کے ہمراہ ایک ہی سکول میں پانچ سال تک رہا ہوں۔ خداگواہ ہے کہ ہم نے کبھی ایک دوسرے سے زبانی گلہ تک نہیں کیا۔ خاص کر ایسے ماحول میں جب چھے کلاسز کو پڑھانے کے لیے صرف دو مدرس ہوں اور گھر سے بیس کلومیٹر دور پہاڑوں میں دونوں تعینات ہوں۔
میرے دل میں کبھی یہ نہیں آیا کہ موصوف ہیڈ ماسٹر ہیں اور نہ ہی جیلانی صاحب نے کبھی مجھے اس بات کا احساس ہی دلایا کہ میں اُن کا ماتحت ہوں۔ بس ایک دوستانہ ماحول تھا جس میں درس و تدریس کا مقدس سلسلہ جاری رہا۔ اگر چہ وہ مجھ سے عمر میں بڑے تھے، مگر ہر راز میں مجھے شریک کیا اور جو بھی کام کرتے اُس سے پہلے مجھ سے مشورہ ضرور کرتے۔ میں تو یہ کہوں گا کہ انہوں نے مجھے ایک باپ کی سی محبت اور شفقت سے نوازا ہے۔ ہر مقام پر میری رہنمائی اور تربیت کی ہے۔ میں اُنہیں اپنے استاد کا درجہ اس لیے دیتا ہوں کہ آج اگر مجھ میں کچھ صلاحیت ہے، تو اس میں جیلانی صاحب کا خلوص اور ان کی محنت شامل ہے۔ وہ ایک جادوئی شخصیت کے حامل انسان ہیں، اُن کی ہر بات موقع کے لحاظ سے مدلل ہوتی ہے۔ میٹھی اور فلسفیانہ زبان بولتے ہیں۔ اُن کی شخصیت میں عاجزی اور برد باری کا عنصر نمایاں ہے۔ اُن کا دل ایک گہرے سمندر کی مانند ہے، جس میں لفظوں کے موتی جا بجا بکھرے ہوتے ہیں اور جب وہ ان موتیوں کو گویا ہار کی شکل میں پروتے ہیں، تو شاہکار تحاریر تخلیق ہوتی ہیں۔ کسی بھی موضوع پر قلم اٹھانا اور حق تحریر ادا کرنا موصوف کے بائیں ہاتھ کا کھیل ہے۔ آپ کے مضامین روزنامہ آزادی کے ادارتی صفحہ پر گاہے گاہے چھپ چکے ہیں۔ قارئین میں سے بیشتر انہیں جانتے ہوں گے۔ اس کے علاوہ ان کے مضامین مختلف ویب سائٹس پر بھی چھپتے رہتے ہیں۔
قارئین، مجھے اُن کی بے شمار خوبیوں کو دیکھ کر رشک آتا تھا کہ کاش، میں بھی اُن کی طرح بن جاؤں، مگر بہرحال یہ تو اللہ کی تقسیم ہے کہ جسے چاہے جیلانی صاحب جیسا نوازے۔ مختصراً یہ کہا جاسکتا ہے کہ میں انہیں اپنا استاد مانتا ہوں اور شاگرد جتنا بھی قابل ہو، استاد کے مرتبے کو نہیں پہنچ سکتا۔ اس موقع پر پشتو کا ایک ٹپہ کوٹ کرنا چاہوں گا جو شائد میرے جذبات کی ترجمانی کر نے میں کامیاب ہو:
ستا دَ خائست گلونہ ڈیر دی
جولئی می تنگہ زہ بہ کم کم ٹولوومہ
ٍ جیلانی صاحب گذشتہ تین عشروں سے طالب علموں کے سینوں کو علم کے نور سے منور کرنے میں جتے رہے اور بالآخر کچھ ذاتی مسائل اور مجبوریوں کی وجہ سے درس و تدریس کے پیشے سے سبک دوش ہونے پر مجبور ہوئے۔مجھے وہ دن بھی یاد ہے جب سکول میں اُن کا آخری دن تھا۔ میں وہ پورا دن اُن کے ساتھ رہنا چاہتا تھا، اس لیے اُن کے سکول جا پہنچا۔ میں سوچ رہا تھا کہ اس دن محکمۂ تعلیم سوات کا ایک درخشاں ستارہ ڈوبنے کے قریب تھا اور یہ سوچتے ہوئے میرا دل بھی ڈوبا جا رہا تھا۔ اس دن اُن کے چہرے پر کچھ زیادہ ہی سنجیدگی چھائی ہوئی تھی اور چہرہ کچھ مغموم سا بھی تھا۔ شائد اتنے لمبے سفر کے بعد اور اتنے گہرے تعلق کو چھوڑنے کا دن، اپنوں سے بچھڑنے کا دن، یہ سب مل کر اُن کو افسردہ کررہے تھے۔ اس دن طلبہ بھی مجھے افسردہ سے نظر آ رہے تھے۔ اُس مخصوص دن واپسی پر سکول کے چوکیدار کے والد صاحب جنہیں ہم تعظیماً ’’بدادا‘‘ کے نام سے پکارتے ہیں، ہم سے بغل گیر ہوئے اور بچوں کی طرح پھوٹ پھوٹ کر رونے لگے۔ جیلانی صاحب نے بہت کوشش کی، مگر غم کے آنسو اُن کی آنکھوں سے اُمنڈ ہی آئے۔
جاتے جاتے میری دعا ہے کہ اللہ پاک جیلانی صاحب کو تادم آخر صحت مند زندگی اور عزت کی روٹی عطا فرمائے، آمین!
مشہور پشتو غزل کا یہ شہرہ آفاق شہر کہنا آپ کے نام کرنا چاہوں گا کہ
اسی پہ خولہ وایم چی خہ تیریگی
بغیر لہ تا وختونہ نہ تیریگی

اشتہار / Advertisement
اشتہار / Advertisement
اس تحریر کو شیئر کریں:

⭐ آپ کو یہ تحریر کیسی لگی؟ (درجہ بندی کریں)

براہ کرم اس تحریر کو 1 سے 5 ستاروں کے درمیان ریٹنگ دیں

اوسط ریٹنگ: 0 / 5 (0 ووٹ)

اپنا تبصرہ تحریر کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کی نشاندہی * سے کی گئی ہے۔