کالم نگاری

ہزار اشک بہے اور شبِ جدائی کی

عدنان باچہ

✍️ کالم نگار: عدنان باچہ

اشتہار / Advertisement

ہمارا یہ کامل ایمان ہے کہ یہ دنیا ایک دھوکاہے، یہ فانی ہے اور ایک دن اِسے ختم ہونا ہی ہے۔ پھر ہم کیوں دنیا کو ہی سب کچھ مان لیتے ہیں؟کیوں یہاں دل لگا بیٹھتے ہیں، کیوں یہ سوچتے ہیں کہ یہاں موجود ہر شے اپنی ہے اور تاقیامت رہے گی؟ یہاں موجود ہر رشتہ سے یہ اُمید لگائے رکھتے ہیں کہ اسے ہمیشہ برقرار رہنا ہے۔
قارئین! وہ لمحہ بہت تلخ ہوتا ہے جب سب سے پیارا رشتہ چھوٹ جاتا ہے۔ بقول احمد فواد
جب کوئی ساتھ چھوٹ جاتا ہے
آدمی ٹوٹ پھوٹ جاتا ہے
پھر اس بات کو ذہن قطعاً تسلیم نہیں کرتا کہ جو چلا گیا ہے، اب وہ کبھی لوٹ کر نہیں آئے گا۔ مگر وقت کے ساتھ ساتھ جب گمان یقین میں بدل جاتا ہے، تو خود کو یہ تسلی دیتے ہوئے زندگی گزارنا پڑتی ہے کہ دنیا میں نہ سہی بعد از موت، جنت میں اُن سے ملاقات ضرور ہو گی۔ اس کے ساتھ ہی ذہن میں عجیب سے خیالات اُمنڈ آتے ہیں کہ وہاں تو روزِ محشر نفسا نفسی کا عالم ہوگا۔ ہر کسی کو صرف اپنی فکر ہوگی، کیا وہاں وہ ہمیں جان پائے گا؟ کیا وہاں وہ ہم سے ملاقات کرپائے گا؟ کیا ہم اُنہیں یہ بتا پائیں گے کہ اُن کے جانے کے بعد ہم نے انہیں کتنا یاد کیا؟ ہم نے اُن کی یاد میں کتنے اشک بہائے؟ ہم اُن کے جانے کے بعد کتنے اکیلے پڑگئے؟ ہماری زندگی کس قدر ادھوری اور بے کیف ہوئی؟ کس قدر دنیا کے تلخ لمحات میں ہمیں اُن کا شدت سے احساس ہوا؟ جب کہیں مسئلہ درپیش ہوا، تو اُن کی رہنمائی کی ضرورت شدت سے محسوس ہوئی؟ کیا یہ سب ہم انہیں بتا پائیں گے؟ ہم اُن سے مل بھی پائیں گے؟کیا کبھی ایسا ممکن ہوگا؟
قارئین! میری اِن باتوں سے آپ مجھ پر ایک دیوانے اور پاگل کا گمان تو ضرور کر رہے ہوں گے، لیکن میری کیفیت شاید اُس دیوانے کی طرح ہی ہے، جو ناممکن کو ممکن کرنے کی ٹھان لیتا ہے۔ ہاں، مَیں اُس پاگل کی طرح ہو جاتا ہوں، جسے اس جہانِ فانی سے کوئی غرض نہیں، اور صرف اپنے ہی خیالات و احساسات کا اسیر بن کر رہ جاتا ہے۔ لیکن اس موقع پر وہ لوگ میری کیفیت سے بخوبی آشنا ہوں گے جن کا کوئی سب سے عزیز، سب سے قریب شخص بچھڑ گیا ہو، وہ انسان جس کے ہونے سے سب کچھ ممکن نظر آتا ہو، پل بھر میں دور چلا جائے، اتنا دور کہ جہاں سے واپسی ممکن نا ہو، تو آدمی ٹوٹ پھوٹ جاتا ہے۔ ایک ایسا رشتہ ٹوٹ جائے کہ جس میں ساتھ دینے والے کا ہاتھ کاندھے پر ہو، تو پوری دنیا کو مسخر کرنا بھی چھوٹا سا کام لگتا ہو، جب اس کا ساتھ چھوٹ جائے، تو سانسوں کی ڈور ٹوٹتی ہوئی محسوس ہوتی ہے۔ پھر انسان اپنوں کے ہوتے ہوئے بھی تنہا سا رہ جاتا ہے۔
قارئین، وہ انسان جو مشکل سے مشکل وقت میں آپ کو لڑنے کا حوصلہ دیتا ہو، جو آپ کو ہمت دیتا ہو، جو آپ کو بولنا، اٹھنا بیٹھنا اور سب سے بڑھ کر یہ کہ دنیا سے لڑنا سکھاتا ہو، جو آپ کو یہ کہہ کر ہمیشہ تسلی دیتا ہو کہ ’’بیٹا! جاؤ، لڑو، ڈرو مت، میں ہوں ناں!‘‘ جب ایک ایسا رشتہ ساتھ چھوٹ جاتا ہے، تو انسان اکیلا نہیں بلکہ بے بس و لاچار سا رہ جاتاہے۔
قارئین، اس میں کوئی شک نہیں کہ ماں کے پاؤں تلے جنت ہے، لیکن یہ کہنا بھی درست ہے کہ باپ وہ ہستی ہے جس کی بدولت انسان اُس جنت کو حاصل کرسکتا ہے۔
میرے والدِ محترم مرحوم دل فروز باچا وادئی سوات کے مینگورہ شہر میں حاجی نوروز کے گھر پیدا ہوئے۔ ان کے بارے میں لوگوں سے جتنا بھی سنا، اس کا لب لباب یہ ہے کہ وہ زندہ دل، شفیق، ملنسار اور زندگی سے پیار کرنے والے انسان تھے۔ جب اُن کی جد و جہد اور زندگی جینے کے طریقے کا غور سے جائزہ لیتے ہیں، تو یہی اخذ کرتے ہیں کہ ’’دنیا میں آئے ہو، تو جی کے دکھاؤ۔‘‘ ایسا نہ صرف ہمارے والدِ محترم کہا کرتے تھے بلکہ خود اس فلسفے کے قائل بھی تھے۔
وہ زندگی کو ہر زاویے سے دیکھنے والے انسان تھے۔کبھی ہمیں کسی چیز کی کمی محسوس نہ ہونے دی۔ انہیں یہ غم نہ کھاتا کہ آنے والے دور میں کیا ہوگا؟ بس وہ زندگی جیا کرتے اور ہمیں بھی یہی درس دیتے کہ ’’بیٹا، دنیا میں جینے کے لیے آئے ہو، تو اپنی زندگی جیو، نفع نقصان کی فکر مت کرو۔ اوپر والا ہے۔ وہی رکھوالا اور وہی دینے والا ہے۔‘‘ انہوں نے نہ صرف ہمیں جینا سکھایا بلکہ ہمیشہ ہمیں یہی درس دیا کہ اس دنیامیں سب سے بڑا اور نیکی کاکام کسی ضرورت مند کے کام آنا ہے۔ دوسروں میں خوشیاں بانٹنا ہے۔ دوسروں کی تکلیف دور کرنا ہے اور یہ نہ صرف انہوں نے ہمیں بتایا بلکہ خود کر کے بھی دکھایا۔
میرے والدِ محترم ہر کسی سے اچھے خطوط پر تعلقات استوار کرنے والی شخصیت تھے۔ بچوں کے ساتھ بچے بن جاتے، جوانوں کے ساتھ اُن کی زبان میں بات کرتے اور اپنے ہم عصر حضرات کے ساتھ ان کے انداز میں محفل جما لیتے۔ مجھے وہ بات اب بھی یاد ہے جب میرے خالہ زاد بھائی ذیشان اُن کے لیے رمضان کے مہینے میں تربوز لے کر آئے تھے۔ تربوز نہ صرف شکل و صورت سے کمزور لگ رہے تھے بلکہ چھوٹے بھی تھے اور اس کی تعداد بھی کم تھی۔ جب میرے والد نے تربوز دیکھے، تو ذیشان کو چھڑانے لگے کہ تم نے تو حد ہی کر دی۔ اتنے بڑے تربوز کہاں سے خریدے اور یہ لائے کیسے؟ کیا ٹرک میں بھر کر لائے ہوانہیں ؟ وہ بات وہ آخر تک نہیں بھولے اور جب بھی ذیشان سے ملتے، تو تربوز کا تذکرہ ضرور کرتے۔
ہماری زندگی ایسے ہی ہنسی خوشی گزر رہی تھی۔ میرے والد کی بیماری جس کا علم انہیں بہت پہلے ہو چکا تھا، لیکن ہمیں تکلیف نہ ہو، ہم ان کے لیے پریشان نہ ہوں، اس لیے ہم سے چھپائے رکھی۔جب ان کی بیماری ان کے جسم میں پوری طرح پھیل گئی، تو ہی ہمیں علم ہوا،لیکن تب تک دیر ہو چکی تھی۔ وہ ایک عرصہ تک اپنی بیماری سے لڑتے رہے، یہاں تک کہ زندگی کی بازی ہار بیٹھے۔
11 مارچ 2019ء ہمارے پورے خاندان کے لیے ایک تلخ دن ثابت ہوا، جب میرے والدِ محترم شدید علالت کے بعد اس جہانِ فانی سے رحلت کرگئے۔ یقین جانیے، اُن کے جانے سے ہماری زندگی میں ایک ایسا خلا پیدا ہوگیا ہے، جو کبھی نہ بھر سکے گا۔ اُن کی طرح کوئی اور ہو ہی نہیں سکتا۔ مجھے یاد ہے جب آخری بار اُن سے ملاقات ہوئی، تو وہ کڈنی اسپتال سنگوٹہ میں بسترِ مرگ پر پڑے اپنی آخری سانسیں گن رہے تھے۔ مَیں نے اُن کا ہاتھ تھام رکھا تھا، اور وہ بھی میرے ہاتھوں کو مضبوطی سے پکڑے ہوئے تھے۔ اُس وقت بھی اُن کی آنکھوں میں مجھے خوشی دکھائی دے رہی تھی، اور شاید یہ خوشی اُس تکلیف دِہ بیماری سے نجات کی تھی۔ آنکھوں میں اُن کی ایک عجیب سی چمک تھی۔ اُمید کی چمک، ایک بہتر کل کی چمک۔ شاید وہ مجھ سے کچھ کہنا چاہ رہے تھے لیکن زبان ان کا ساتھ نہیں دے رہی تھی۔ وہ آنکھوں ہی آنکھوں میں مجھے کچھ کہنے کی کوشش کر رہے تھے۔ مجھے یقین ہے کہ اُن کے الفاظ یہ تھے کہ ’’بیٹا، میں نے تو اپنی زندگی جی لی، جو کرنے آیا تھا وہ بخوبی کرلیا، اب تمہاری باری ہے، جو سکھایا ہے وہی کرنا، کسی کو تکلیف نہیں دینا، ہر طرف خوشیاں ہی بکھیرنا اور سب سے اہم بات جی بھر کر زندگی جینا جیسا کہ میں جی چکا ہوں۔‘‘
اس وقت اُن کی آنکھوں میں مجھے وہ یقین بھی نمایاں نظر آرہا تھا کہ میرے جانے کے بعد میرے بیٹے اپنے قول و فعل سے مجھے زندہ رکھیں گے۔ میری دی ہوئی تعلیمات پر عمل کریں گے۔ میرا نام ہمیشہ روشن رکھنے کی کوشش کریں گے اور یہی میری سب سے بڑی جیت ہوگی۔
اُن کے انتقال پر نہ صرف ہمیں بلکہ سب کو صدمہ پہنچا۔آج تک ہم اس صدمے سے باہر نہیں نکل پائے ہیں۔ اُن کے جانے پر ہر آنکھ اشک بار تھی۔ دوست و احباب تعزیت کے لیے آتے تو ہمارا حوصلہ بڑھانے کے ساتھ ساتھ انہوں نے ہمارے والد محترم کی اچھائیاں ہی بیان کیں اور انہیں دعائیں دیتے رہے کہ اللہ انہیں اپنے جوارِ رحمت میں جگہ دے۔
قارئین، آج وہ ہمارے درمیان نہیں، سب کچھ روکھا سوکھا اور بے کیف ہے۔ بس ان کی یادیں ہی ہیں، جو ہمارا سب سے بڑاسہارا ہیں، اور اُن کی تعلیمات ہی ہیں جو آنے والی زندگی میں ہماری رہنمائی کاذریعہ ہیں۔
داجی! اللہ آپ کو جنت میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے، آپ سکون سے رہیں۔ آپ خوش رہیں۔ مجھے فخر ہے کہ میں آپ کا بیٹا ہوں۔ صرف میرا ہی نہیں میرے بھائیوں کے بھی سینے فخرسے چوڑے ہوجاتے ہیں جب کوئی ہمیں آپ کے نام سے پکارتا ہے۔ آپ نے ہمیں جو زندگی دی اور اُس زندگی کو جینے کاجو سلیقہ سکھایا،یقیناًوہ ہمارے لیے کسی نعمت سے کم نہیں۔ آج ہم جو بھی ہیں، آپ ہی کی بدولت ہیں۔
داجی، اگر آپ مجھے سن سکتے ہیں، مجھے محسوس کرسکتے ہیں، تو صرف اتنا ہی کہنا چاہوں گا کہ شدت سے آپ کی یاد آتی ہے۔ آپ کا پیار، آپ کا غصہ، آپ کا ہمارے ساتھ رویہ، ہمارے ساتھ دوستوں کی طرح محفل جمانا،وہ سب آج بھی ذہن میں نقش ہے اور تا قیامت رہے گا، کیا آپ کو معلوم ہے کہ آج بھی جب شام ہوتی ہے، تو ہرایک دروازے کی طرف دیکھتا رہتا ہے کہ شاید آپ سیڑھیاں چڑھتے ہوئے اوپر آجائیں، گھر کے بچے آج بھی آپ کے انتظار میں بیٹھے رہتے ہیں اور آپ کی راہ تکتے ہیں۔آج بھی آپ ہی کے سکھائے ہوئے اُصولوں پر گھر کا نظام چل رہا ہے۔ سب کچھ ویسا ہی ہے جیسا آپ چاہتے تھے۔۔۔ سب کچھ ویسا ہی ہے ۔۔۔بس، ایک آپ نہیں ہیں!
بقولِ شاعر:
حضورِ یار میں آنکھوں نے لب کشائی کی
ہزار اشک بہے اور شبِ جدائی کی

اشتہار / Advertisement
اشتہار / Advertisement
اس تحریر کو شیئر کریں:

⭐ آپ کو یہ تحریر کیسی لگی؟ (درجہ بندی کریں)

براہ کرم اس تحریر کو 1 سے 5 ستاروں کے درمیان ریٹنگ دیں

اوسط ریٹنگ: 0 / 5 (0 ووٹ)

اپنا تبصرہ تحریر کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کی نشاندہی * سے کی گئی ہے۔