سوات (باخبر سوات ڈاٹ کام) پشاور ہائی کورٹ مینگورہ بنچ نے بھی اسپیشل پولیس اہلکاروں کو ریگولر کرنے کا حکم دیا تھا۔ سوات کے اسپیشل پولیس فورس کے اہلکاروں نے ریگولر ہونے کے لئے رٹ دائر کی تھی جس پر ڈویژن بنچ نے ان اہلکاروں کے حق میں فیصلہ دیتے ہوئے صوبائی حکومت کو حکم دیا تھا کہ ان کو ریگولر پولیس میں شامل کیا جائے۔ ہائی کورٹ کے حکم کے خلاف فنا نس ڈیپارٹمنٹ نے سپریم کورٹ میں اپیل کی تھی جہاں اب یہ کیس زیر سماعت ہے۔ ملاکنڈ ڈویژن میں تعینات اسپیشل پولیس فورس کے اہلکار احساس محرومی کا شکار تھے جس کی وجہ سے فورس کے بعض اہلکاروں نے خودکشی بھی کی۔ ان اہلکاروں کا کہنا تھا کہ وہ ریگولر پولیس کی طرح شب و روزمیں بارہ گھنٹے ڈیوٹی دیتے ہیں، لیکن ریگولر اہلکاروں کی تنخواہ ان سے ڈبل ہے۔ پنشن سمیت تمام مراعات لے رہے ہیں اور عارضی ملازمت میں یہی ڈیوٹی پندرہ ہزار روپے فیکسڈ تنخواہ پر کرتے ہیں۔ ہر سال ملازمت ختم ہونے کی تلوار ان کے سر پر لٹکتی ہے جس کی وجہ سے یہ اہلکار احساس محرومی کا شکار تھے اور ذہنی مریض بن گئے تھے۔
Swat
