Swat

ملک بھر میں تیزی سے مشہور ہوتے سوات کے آلوچے

(باخبر سوات ڈاٹ کام)قدرتی حسن، فصلوں اور میٹھے پھلوں کے لئے مشہور سوات کے آلوچے کی پیدوار تیار ہوکر ملک بھر کی منڈیوں میں ترسیل ہورہے ہیں۔ اس وقت سوات میں آڑو کی پیدوار کے ساتھ آلوچے کی پیدوار بھی تیار ہے۔ سوات میں کئی اقسام کے آلوچے پیدا ہوتے ہیں لیکن ان میں ”ریڈ بیوٹی“ نامی آلوچہ ملک بھر میں پسند کیا جاتا ہے۔ پھلوں کے گھر سوات کے مختلف علاقوں میں لذت بھرے آلوچے کے باغات لگ گئے ہیں۔ان باغوں میں آلوچوں کو درختوں سے توڑ کر پیٹیوں میں پیک کیا جاتا ہے اور پشاور سے کراچی تک کی منڈیوں میں سپلائی کیا جاتا ہے۔ آڑو کے مقابلے میں آلوچے کی عمر زیادہ ہوتی ہے اور سوات کا آلوچہ بیس سے تیس دنوں تک خراب نہیں ہوتا، جس کی وجہ سے سوات کا آلوچہ ملک کے کونے کونے میں پہنچ جاتا ہے۔ آلوچے کی ایک پیٹی میں دو سے ڈھائی کلو آلوچہ آتا ہے اور منڈیوں میں اس کی قیمت چار سو سے سات سو روپے ہیں۔سوات میں سب سے زیادہ باغا ت آڑو کے ہیں لیکن سوات کے مختلف علاقوں میں دو ہزار ایکٹر زمین پر آلوچے کے باغات ہیں۔ ہر سال ان باغات سے پانچ ہزار ٹن سے زیادہ آلوچہ کی پیدوار ہوتی ہے۔ سوات کی اپنی پیدوار کی وجہ سے یہاں آلوچہ انتہائی سستے قیمت پر فروخت ہوتا ہے اور سوات کے بازار میں آلوچہ کی ایک کلو کی قیمت پچاس روپے سے اسّی روپے تک ہے۔سوات میں مختلف اقسام کا آلوچہ پیدا ہوتا ہے جن میں ریڈ بیوٹی، فضل منانی، لیٹ فضل منانی، آلو بخارا کو زیادہ پسند کیا جاتا ہے۔ ملک میں سوات کے آلوچے میں سب سے زیادہ ”ریڈ بیوٹی“ کو پسند کیا جاتا ہے جس کا سائز بڑا ہوتا ہے اور یہ اندر سے مکمل سرخ اور میٹھا ہونے کے ساتھ اس میں رس زیادہ ہوتا ہے۔ فضل منانی کو بھی پسند کیا جاتا ہے لیکن آلو بخارا کے چھوٹے سائز اور زیادہ میٹھاس کی وجہ سے مقامی لوگ آلو بخاری نامی آلوچہ کو زیادہ پسند کرتے ہیں۔آلوچے کی پیدوار میں اضافہ اور منافع بخش ہونے کی وجہ سے سوات میں آلوچے کے باغات میں اضافہ ہورہا ہے۔ سوات کے آلوچے کے زمینداروں کو منڈیوں میں پچھلے کئی سالوں سے زیادہ قیمت ملنے کے بعد اب آڑو کے ساتھ ساتھ آلوچے کے باغات میں بھی اضافہ ہورہا ہے۔ آڑو کے ساتھ لوگ زیادہ آلوچے کے باغات لگا رہے ہیں اور امکان ہے کہ دو سے تین سال بعد سوات میں آلوچے کے باغات اور پیدوار میں مزید اضافہ ہوگا۔آلوچے کے زمینداروں میاں رحم دل، سمیع اللہ اور امجد علی نے با خبر سوات کو بتایا کہ اگرمحکمہئ زراعت زمینداروں کی مزید رہنمائی کرے تو سوات میں آلوچے کی پیدوار میں سو فیصد اضافہ کیا جاسکتا ہے۔

اشتہار / Advertisement
اس تحریر کو شیئر کریں:

⭐ آپ کو یہ تحریر کیسی لگی؟ (درجہ بندی کریں)

براہ کرم اس تحریر کو 1 سے 5 ستاروں کے درمیان ریٹنگ دیں

اوسط ریٹنگ: 0 / 5 (0 ووٹ)

اپنا تبصرہ تحریر کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کی نشاندہی * سے کی گئی ہے۔