Swat

سوات کے بدھا پرویش شاہین کے اعزاز میں تقریب، خصوصی رپورٹ

سوات   (باخبر سوات ڈاٹ کام)    سوات کے89 سالہ مؤرخ، ادیب،علاقائی زبانوں کو تحفظ دینے والے 65کتابوں اور سیکڑوں مقالوں کے مصنف، بدھ مت کی تاریخ پر عبور رکھنے والے پرویش شاہین کا تعلق مینگورہ کے نواحی گاؤں منگلور سے ہے۔ سوات، پاکستان اور دنیا کے مختلف ممالک میں ان کو ”علم کا خزانہ“ اور ”علم کے پہاڑ“ کے نام سے پہچانا جاتا ہے۔ پرویش شاہین نے پشتو، اردو، تاریخ اور ایجوکیشن میں ماسٹر کی ڈگری حاصل کی ہے۔ ساتھ میں ایم ایڈ بھی کیا ہے۔ پرویش شاہین پر مقالہ لکھنے والے ڈاکٹر محمد طاہر بوستان خان کے مطابق پرویش شاہین کو بیس سے زائد زبانوں پر عبور حاصل ہے۔انہوں نے علاقائی زبانوں پر کئی سالوں تک کام کیا۔ پرویش شاہین نے زندگی کا زیادہ حصہ تحقیق اور لکھنے میں گزارا۔ ان کو ”بدھ مت“ کی تاریخ پر عبور حاصل ہے جس کی وجہ سے ان کو سینگا پور، جرمنی، جاپان، امریکہ، افغانستان، چین، بھارت اور نیوزی لینڈ کے علاوہ دیگر ممالک نے اپنے ہاں بلایا اور ان سے بدھ مت کی تاریخ کے بارے میں سنا۔ پرویش شاہین کی سوات پر لکھی گئی کتاب ”مشرق کا سوئٹزر لینڈ“ کو یہ اعزازحاصل ہے کہ یہ کتاب ہزاروں کی تعداد میں کئی بار شائع اور فروخت ہوچکی ہے۔ پرویش شاہین کی وادی کیلاش پر لکھی گئی کتاب ”کافرستان“ بھی کئی دفعہ شائع ہوئی اور کیلاش یا کافرستان پر ایم فل یا پی ایچ ڈی کرنے والے طالب علم آج بھی اس کتاب سے استفادہ کرتے ہیں۔ ان کی ایک اور کتاب ”د پختنو ژوند او ژواک“میں انہوں نے پشتو کی تاریخ، رسم و رواج، حجرہ، غم و خوشی کے بارے میں تفصیل سے لکھا ہے جس کی وجہ سے ان کی اس کتاب کو پاکستان میں ”سی ایس ایس“ اور افغانستان کی جلال آباد یونیورسٹی میں نصاب کے طور پر شامل کیا گیا ہے۔ سفر نگار مستنصر حسین تارڑ اپنی ایک کتاب میں لکھتے ہیں کہ پرویش شاہین سیاحت کا پیغمبر ہے۔ چین کے ایک مصنف ایل یو چی اپنی کتاب میں لکھتے ہیں کہ پرویش شاہین واحد شخص ہے جس نے ”بدھ مت“ پر جامع کتاب لکھی ہے۔ اتنی تاریخ بدھ مت والوں کے پاس اپنے مذہب کے بارے میں نہیں جتنی پرویش شاہین کو ہے۔ سال1998ء میں پرویش شاہین کو صدارتی ایوارڈکے لئے نامزد کیا گیا تھا، لیکن وہ ایوارڈ پھر سیاست کا شکار ہوگیا۔ پرویش شاہین کی ادبی خدمات پر ”نڑیوال ادبی تڑون“ اور ”ایس پی ایس کالج“ نے ان کے اعزاز میں ”جشنِ شاہین“ منایا جس میں صوبہ بھر سے ادیبوں، لکھاریوں، شاعروں، اساتذہ، طالب علموں اور سکول اور کالج کے بچوں نے شرکت کی۔ پرویش شاہین کو تقریب میں علامتی ”شاہی سواری“ میں لایا گیا۔ان پر پھول نچاور کیے گئے۔ پرویش شاہین نے باخبرسوات ڈاٹ کام سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ آج ان کی زندگی میں پہلی دفعہ ان کی تحریری خدمات کا کسی نے اعتراف کیا ہے۔ ”جشن شاہین“ میں مقررین نے ان کو ان کی ادبی اور علمی خدمات پر خراج تحسین پیش کیا اور حکومت سے مطالبہ کیا کہ ان کی خدمات کے نتیجے میں ان کو صدارتی ایوارڈ سے نوازا جائے۔ ”جشنِ شاہین“ میں سوات کے معروف شاعر ظفر علی نازؔ نے پرویش شاہین کو شعر کی زبان میں خراجِ تحسین پیش کیا۔ اُدھیڑ عمر کے ادیب پرویش شاہین کی 40 کتابیں شائع ہوچکی ہیں، 25اشاعت کے لئے تیار ہیں۔ انہوں نے باخبرسوات ڈاٹ کام کو بتایا کہ وہ اپنی پنشن سے کچھ رقم بچایا کرتے تھے، تاکہ باقی کتابیں بھی شائع ہو سکیں، لیکن ان کے پوتے کی بیماری پر ان کی جمع پونچی خرچ ہوئی، جس کی وجہ سے اب وہ باقی کتابیں شائع کرنے سے قاصر ہیں۔ سوات میں پانچ ہزار سال پرانی تاریخ اور خاص کر ”بدھ مت“ کی تاریخ پر انہوں نے بہت کام کیا ہے۔ بدھ مت کی تاریخ کے لئے انہوں نے سوات کا کونہ کونہ چھان مار کر تاریخ اکھٹی کی۔ سوات کے آثار قدیمہ پر پرویش شاہین کو عبور حاصل ہے جس کے لئے انہوں نے کئی سالوں تک محنت کی۔ پرویش شاہین کو پرانے نودرات رکھنے کا شوق ہے۔ انہوں نے اپنے حجرہ میں ان نودرات کا ایک چھوٹا سا میوزیم بھی بنا رکھا ہے۔ پرویش شاہین نے باخبرسوات ڈاٹ کام کو بتایا کہ شورش کے دوران ان کو اطلاع ملی کہ دہشت گرد ان کے گھر پر چھاپا مار کر میوزیم میں موجود نودرات کو لے کر جائیں گے، جس کی وجہ سے انہوں نے ایک کھیت میں گڑھا کھود کر اس میں سارے نودرات کو دفن کیا۔ ان کے مطابق شدت پسند جب آئے، تو ان کے گھر میں نودرات نہیں ملے، جس کی وجہ سے انہوں نے پرویش شاہین کو تشدد کا نشانہ بنایا۔ ان کے گھر کے قریب پہاڑ پر بنایا گیا بدھا کا مجسمہ ہے جو اس وقت علاقے کا سب سے بڑا پتھر میں کندہ کیا جانے والا مجسمہ ہے جس کو شدت پسندوں نے بموں سے اڑانے کی کوشش کی تھی۔اس کی وجہ سے مجسمے کا چہرہ مسخ ہو گیا تھا۔ پرویش شاہین کہتے ہیں کہ جب ان کو اس کا علم ہوا تو وہ کئی راتوں تک سوئے نہیں۔ پرویش شاہین نے اپنے گھر کے ایک کمرہ میں اپنی لائبریری بنائی ہے، جس میں تیس  ہزار سے زائد کتابیں موجود ہیں۔ 80 سالہ پرویش شاہین کو کوئی بیماری لاحق نہیں۔ اس عمر میں بھی ان کی نظر ٹھیک ہے۔عام آدمی کی طرح سنتے ہیں۔ باخبرسوات ڈاٹ کام نے جب ان سے اس عمر میں تندرستی کے حوالے سے پوچھا، تو انہوں نے کہا کہ وہ روزانہ اپنے گاؤں میں تین کلومیٹر واک کرتے ہیں۔ دن میں ایک وقت سبزی یا ساگ کھاتے ہیں اور ایک وقت ٹماٹر، ہری مرچ، پودینہ کی چٹنی (روائتی اصطلاح جگے) بنا کر کھاتے ہیں۔ وہ کوکنگ آئل اور مصالحہ جات کا استعمال نہیں کرتے۔ انہوں نے کہا کہ جب ان سے کوئی غلطی ہوتی ہے، تو اس پر وہ پشیماں نہیں ہوتے، لیکن وہ ایک بار ہونے والی غلطی کو نہیں دہرایا کرتے۔ یہی ان کی تندرستی کا راز ہے۔

اشتہار / Advertisement
اس تحریر کو شیئر کریں:

⭐ آپ کو یہ تحریر کیسی لگی؟ (درجہ بندی کریں)

براہ کرم اس تحریر کو 1 سے 5 ستاروں کے درمیان ریٹنگ دیں

اوسط ریٹنگ: 0 / 5 (0 ووٹ)

اپنا تبصرہ تحریر کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کی نشاندہی * سے کی گئی ہے۔