کالم نگاری

دکھی انسانیت کے لیے برسرپیکار الفجر فاؤنڈیشن

مصطفی خان شاذلی

✍️ کالم نگار: مصطفی خان شاذلی

اشتہار / Advertisement

ہر شخص خوشی کی تلاش میں سرگرداں رہتا ہے، مگر خوشی دینے کی طرف متوجہ نہیں ہوتا۔ کسی کی اشک شوئی کرنا، زخموں پہ میٹھے بول کا مرہم رکھنا، طاقت ہونے کی صورت میں مالی معاونت کرنا، بے روزگاری کے عالم میں کسی کو روزگار فراہم کرانے میں مدد کرنا، کسی کی راہنمائی کرلینا وغیرہ ان تمام عوامل کے نتیجے میں جو خوشی ملتی ہے۔ اُسے سچی خوشی کہتے ہیں۔ کسی کو جائز امور میں خوش کردینا ہی اصل خوشی کہلاتی ہے۔
خدمتِ خلق ہی میں راحت ہے، سکون ہے، خوشی ہے۔ یہ خوشی روح تک کو سرشار کر دیتی ہے۔ آج میں خدمتِ خلق میں مصروفِ کار ایک ایسے ادارے کا ذکر کرتا ہوں جو ایک عرصے سے تھیلی سیمیا جیسے لاعلاج اور موذی مرض کے شکار افراد کو خون مہیا کر رہا ہے۔
تھیلی سمیا ایک ایسا مرض ہے جس میں انسانی جسم خود خون بنانے سے قاصر رہتا ہے۔ خون کی کمی کو پورا کرنے کے لیے خون کی بوتل چڑھانا پڑتی ہے۔ مذکورہ ادارہ اپنی مدد آپ کے تحت کام کررہا ہے۔ یہ چیئریٹی کے کندھے پہ محوِ سفر ہے۔
”الفجر فاؤنڈیشن سوات“ جسے 2003ء میں قائم کیا گیا ہے، اس کا بانی نے اپنا نام ظاہر کرنا مناسب نہیں سمجھتا۔ یہ ادارہ سوشل ویلفیئر آرگنائزیشن سے رجسٹرڈ ہے۔ اس میں آٹھ اہل کار اپنے فرائض سرانجام دے رہے ہیں، جن کی راہنمائی ”سرزمین خان“ بہ طورِ کوآرڈی نیٹر کررے ہیں۔ اس ادارے میں 370 سے زائد مریض رجسٹرڈ ہیں، اور علاج کروا رہے ہیں۔ ان میں چترال، ملاکنڈ، دیر، بونیر، سوات، بٹ خیلہ وغیرہ سے تعلق رکھنے والے مریض شامل ہیں۔ انہیں الفجر فاؤنڈیشن بقدرِ ضرورت خون فراہم کررہا ہے۔
الفجر ایک خود مختار ادارہ ہے۔ چندے اور مخیر حضرات کے بل پہ چل رہا ہے۔ ایس پی ایس کالج بھی اپنے فنڈ سے باقاعدگی کے ساتھ مدد کرتا ہے، مگر وسائل کم اور مسائل زیادہ ہیں۔
کوآرڈی نیٹر سرزمین کا کہنا ہے کہ اس ادارے میں ہیپاٹائٹس سی اور بی کے ٹیسٹ اور گردوں کی صفائی کے لیے مشینوں کی بھی ضرورت ہے۔ کیوں کہ ہم نے ان بیماریوں کے علاج کا تہیہ بھی کررکھا ہے، جب کہ ایک مشین کی قیمت بارہ لاکھ ہے۔ ادارے کو چار عدد مشینیں درکار ہیں۔ یہ چندے کے ذریعے ممکن بنائیں گے۔ کیوں کہ حکومت کے اپنے مسائل زیادہ ہیں اس لیے ہمیں توقع نہیں کہ وہ ہماری مدد کرے۔
الفجر فاؤنڈیشن واحد ادارہ ہے جو اس علاقے میں تھیلی سیمیا پر کام کررہا ہے۔ اس کی کوئی اور برانچ نہیں۔ یہ ادارہ معاشرے کو تھیلی سمیا بارے شعور بھی دے رہا ہے۔ یہ ایک جینیاٹک یعنی موروثی بیماری ہے۔ شادی سے قبل اس کا ٹیسٹ کروانا ضروری ہے، تاکہ یہ ایک نسل سے دوسری میں منتقل نہ ہو۔ شرحِ تعلیم کم ہونے کی وجہ سے اور لا علمی کی بنا پر اس قسم کے ٹیسٹ نہیں کرائے جاتے۔ جناب سرزمین خان کا کہنا ہے کہ یہاں انتقام اور منفی سوچ کا رواج ہے۔ مثبت سوچ اور آنے والی نسل کے لیے کوئی نہیں سوچتا۔
اس کے باوجود ہر سال 8مئی کو تھیلی سیمیا ڈے (عالمی یومِ تھیلی سیمیا) منایا جاتا ہے۔ اس موقعہ پہ والدین اور مریضوں کی حوصلہ افزائی کے لیے انعامات بھی تقسیم کیے جاتے ہیں، جنہوں نے بروقت علاج کیا ہوتا ہے، اور تفریح بھی کرائی جاتی ہے۔ مریضوں کو ہر سال کسی نہ کسی صحت افزا مقام کی سیر کرائی جاتی ہے۔ یہ کہ کم از کم دو دن پہ محیط ہوتی ہے۔
الفجربڑی ایمان داری سے چندے کی رقم ضرورت کے مطابق صرف کرتا ہے۔ حتیٰ کہ نوٹ تک تبدیل ہونے کی نوبت نہیں آتی۔ فاؤنڈیشن کے ڈائریکٹر کی طرف سے اہل کاروں کو مقررہ تنخواہوں کی ادائیگی کی جاتی ہے۔ یہاں علاج مفت ہوتا ہے۔ ٹیسٹ کی مد میں بھی کوئی فیس نہیں لی جاتی۔ فاؤنڈیشن کو کیمپ لگانے میں بعض اوقات بڑی تکلیف اور رکاؤٹوں کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے، مگر اس کے باوجود بڑی تن دہی سے خون کا تبادلہ جاری رہتا ہے۔ کیوں کہ یہ ایک بہت بڑی خدمت ہے۔ کسی ایک انسان کی جان بچالینا پوری انسانیت کی جان بچانے کے مترادف ہے۔
ادارہ میں ایک خاص قسم کے ریفریجریٹر میں ٹمپریچر پر خون کو اسٹاک کیا جاتا ہے، اور ضرورت مند مریضوں کو لگایا جاتا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق اس وقت ملاکنڈ ڈویژن میں دو تا تین ہزار تک تھیلی سیمیا کے مریض موجود ہیں۔ یہاں کوئی فعال ادارہ نہ ہونے کی وجہ سے لوگوں کو تکلیف کا سامنا تھا، اس مرض کی تشخیص نہ ہوپارہی تھی۔ لوگ خون کی کمی سے مر رہے تھے۔ ”الفجرفاؤنڈیشن“ نے بڑھ کر عوام کی مدد کا بیڑا اُٹھالیا۔ اب یہاں ہر قسم کی تفریق سے بالاتر ہوکر دکھی انسانیت کی خدمت ہورہی ہے۔ خدمت کا جذبہ اُبھاریئے، خدمت کیجئے، دوسروں کا دامن خوشیوں سے بھرنے کی کوشش کیجیے، آپ کو خود بہ خود خوشی ملتی رہے گی۔
الفجر فاؤنڈیشن میں یومیہ چار تا بارہ مریضوں کو خون مہیا کیا جاتا ہے۔ تھیلی سیمیا ایک ایسا موذی مرض ہے کہ اس کا بنیادی علاج ہی تازہ خون لگوانا ہے، اگر یہ کہا جائے کہ یہ ایک لاعلاج مرض ہے تو بے جا نہ ہوگا۔ یہ بیماری کی شدت پہ منحصر ہوتا ہے۔ کچھ مریض تین ماہ بعد خون کی کمی کا شکار ہوجاتے ہیں، کچھ دو ماہ، کچھ پندرہ دنوں میں نیا خون لگوانے پہ مجبور ہوجاتے ہیں۔
بلاشبہ تھیلی سیمیا ایک خطرناک مرض ہے۔ اس کا تدارک شادی سے پہلے ٹیسٹ کروانے سے ہی ممکن ہے۔ شادی کے بعد بھی کرایا جاسکتا ہے، تاکہ اگر میاں بیوی دونوں میں مائنر تھیلی سیمیا ہو، تو احتیاط کیا جائے، پھر یہ ممکن ہے کہ بچے میجر تھیلی سیمیا کا شکار ہوجائیں، تو احتیاط انتہائی ضروری ہے۔

اشتہار / Advertisement
اشتہار / Advertisement
اس تحریر کو شیئر کریں:

⭐ آپ کو یہ تحریر کیسی لگی؟ (درجہ بندی کریں)

براہ کرم اس تحریر کو 1 سے 5 ستاروں کے درمیان ریٹنگ دیں

اوسط ریٹنگ: 0 / 5 (0 ووٹ)

اپنا تبصرہ تحریر کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کی نشاندہی * سے کی گئی ہے۔