Swat

پھیپھڑوں کی بیماری میں مبتلا بخت کمال عزم و ہمت کا پیکر ہیں، خصوصی رپورٹ

(باخبر سوات ڈاٹ کام) ضلع شانگلہ کا پیدائشی اور سیدو شریف کا رہائشی 45سالہ بخت کمال جس کے پھیپھڑے کوئلہ کی کانوں میں کام کرنے سے خراب ہوگئے ہیں، اس بیماری کی حالت میں وہ پرائے شخص کا رکشہ چلاتا ہے۔ حالیہ لاک ڈاؤن کی وجہ سے ان کے گھر میں فاقوں اور مصیبتوں نے ڈیرے ڈال دیے ہیں۔ بخت کمال کے مطابق ان کے گھر میں تین بچے عمر بھر کی معذوری کا شکار ہیں۔ بخت کمال کا کہنا ہے کہ انہوں نے کبھی کسی کے آگے ہاتھ نہیں پھیلایا۔ ہمیشہ مزدوری کی اور اب کسی کا رکشہ چلاتا ہے۔ جب حالات ٹھیک تھے، تو مالک رکشہ کو دینے والے پیسوں کے علاوہ انہیں پانچ سے چھے سو روپے کی بچت ہوتی تھی، جس سے گھر کا خرچہ اور اپنے اور معذور بچوں کے لئے ادویہ خریدتا تھا۔ بخت کمال کے مطابق ان کے پھیپھڑے بہت زیادہ خراب ہیں۔جب وہ رکشہ چلاتے ہیں، تو کچھ دیر بعد آرام کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان کے چار معذور بچوں میں ایک انتقال کرگیا ہے۔ تین زندہ لاشوں کی طرح پڑے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میں چودہ سال کی عمر میں اپنے بھائیوں کے ساتھ کوئلہ کے کان میں کام کرنے گیا تھا۔دو بھائی اس مرض سے جاں بحق ہوچکے ہیں۔بخت کمال نے کہا کہ جب وہ ادویہ نہیں لیتے، تو ان کو خون کی الٹیاں آنا شروع ہو جاتی ہیں۔ آج کل لاک ڈاؤن کی وجہ سے وہ ادویہ نہیں خرید سکتے۔ بخت کمال کے مطابق ان کے چاروں معذور بچے صحت مندپیدا ہوئے تھے۔بعد میں پہلے ان کو پولیو ہوگیا۔ اس کے بعد کسی موذی مرض سے ا ن کے ہاتھ پاؤں بھی معذور ہوگئے۔ انہوں نے کہا کہ بچے تو بات نہیں کرسکتے، لیکن تکلیف کی وجہ سے چیختے ہیں۔ میں بچوں کی تکلیف برداشت نہیں کرسکتا اور اکثر اس وجہ سے چھت پر کھلے آسمان تلے سوتا ہوں۔ بخت کمال کے تینوں معذور بچے8سال سے خیبر پختون خوا کے محکمہ سوشل ویلفئیر اور سپیشل ایجوکشن کے ساتھ2009ء سے نمبر848/152،850/153اور851/154پر رجسٹرڈ ہیں۔ تینوں بچوں کو معذوری کا سرٹیفکیٹ جاری کیا گیا ہے۔ گیارہ سالوں میں اس محکمے نے ان تین معذور بچوں کی ادویہ، نگہداشت اور خوراک کے لئے صرف1966روپے دیے ہیں جس کا تمام ریکارڈ بخت کمال کے ساتھ موجود ہے۔ بخت کمال کا کہنا ہے کہ انہوں نے منتخب نمائندوں سے لے کر پشاور کے دفاتر تک چکر لگائے ہیں، لیکن ان کو درخواست کے ساتھ کاغذ کے علاوہ کچھ نہیں دیا گیا۔ بخت کمال نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ انہیں ماہانہ ڈاکٹروں کی تجویز کردہ ادویہ دی جائیں، تاکہ ان کی صحت کچھ بہتر رہے اور وہ رکشہ چلا سکیں۔

اشتہار / Advertisement
اس تحریر کو شیئر کریں:

⭐ آپ کو یہ تحریر کیسی لگی؟ (درجہ بندی کریں)

براہ کرم اس تحریر کو 1 سے 5 ستاروں کے درمیان ریٹنگ دیں

اوسط ریٹنگ: 0 / 5 (0 ووٹ)

اپنا تبصرہ تحریر کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کی نشاندہی * سے کی گئی ہے۔