کالم نگاری

کووڈ نائن ٹین اور نئے ابھرتے چیلنجز

ایڈووکیٹ نصیراللہ خان

✍️ کالم نگار: ایڈووکیٹ نصیراللہ خان



اشتہار / Advertisement
ایڈووکیٹ نصیراللہ خان ہائی کورٹ پشاور اور سوات کی زیریں عدالتوں کے ممتاز قانون دان، کالم نگار اور قانونی ماہر ہیں۔ آپ سول و تجارتی قوانین، معاہدی تنازعات، جائیداد کے مقدمات، ریکوری امور اور کاروبار و تجارت سے متعلق قانونی چیلنجز کے حل میں وسیع تجربہ اور منفرد مہارت رکھتے ہیں۔ باخبر سوات میں آپ کے کالمز آئینی، قانونی اور معاشرتی اصلاحات پر مبنی ہوتے ہیں۔

یہ حقیقت اظہر من الشمس ہے کہ کورونا وائرس (COVID-19) کی وبائی بیماری نے دنیا میں کسی فرد اور ادارے کو بغیر کسی اثر کے نہیں چھوڑا ہے۔ درحقیقت یہ وبا بہت ساروں کی زندگی پر دوزخ کی طرح اثر انداز ہوئی ہے۔ کچھ اندازہ ہے کہ سب کچھ تبدیل ہوا ہے اورمزید ہونے جا رہا ہے۔ خواہ اس بیماری سے موت ہو یا دیگر امراض، خاندانی زندگی ہو یا عائلی اور معاشرتی زندگی، تعلیم ہو یا ثقافتی امور، مذہبی امور ہوں یا دنیاوی لین دین، سیاسی آزادی ہو یا مقامی معاملات، قومی اور عالمی معاشی زندگی میں زبردست ہلچل اور تبدیلی بلکہ تباہی آئی ہوئی ہے۔ جمہوری معاشروں میں عوامی صحت کو چیلنج درپیش ہے۔ کہی ادویہ اور ٹیسٹنگ کٹس کی کمی ہے، تو کہیں ڈاکٹری حفاظتی کٹس کی کمی کا سامنا ہے۔ جمہوری معاشروں میں جہاں بنیادی آزادیوں کی ضمانت دی گئی ہے، وہاں یہ وبا ایک سخت ترین بحران سے کم نہیں۔ اس بحران میں آمرانہ طاقتوں اور ایگزیکٹو حکام کا غیر متناسب رویہ اور ایسی دیگر معاشی پالیسیاں جو عدم مساوات پر مبنی ہیں، غربت اور انسانی حقوق کی پامالیوں کو بڑھاوا دے رہی ہیں۔
میرا خیال ہے کہ یہ وائرس صرف بیماری اور موت کی وجہ نہیں، بلکہ یہ جبر کا ایک نیا سلسلہ اور ظلم بھی پیدا کررہا ہے۔خاص طور پر ایک طرف وائرس کی وجہ سے حکومتیں سنسرشپ اور سیاسی اختلافات کی بڑھوتری کا سبب بن رہی ہیں، تو وہاں دوسری طرف سائنسی توجیہات کو بری نظر سے دیکھا جانے لگا ہے۔ ایسے میں جب معلومات تک رسائی نہ ہو، تو مرض مزید پیچیدگی پیدا کرتا ہے۔ بادی النظر میں غلط معلومات، افواہیں اور پروپیگنڈا ناکامی اور نامرادی کا سبب بنتا ہے۔ مَیں سمجھتا ہوں کہ وائرس کا علاج صرف سائنسی طریقہئ کار کے ذریعے ممکن ہوسکتا ہے۔ وائرس سے ایک طرف ا گر مذہبی عبادات اور میلانات میں کمی آئی ہوئی ہے، تو دوسری طرف مذہب کو بطورِ ہتھیار اور پروپیگنڈا استعمال کیا رہا ہے، جو کہ ایک گھناؤنا عمل ہے۔ اپنیعقیدوں کا پرچار اور پیوند کاری کی جاتی ہے۔ توہمات کا ایک نہ تھمنے والہ سلسلہ ہے جو کہ مزید بڑھتا چلا جا رہا ہے۔ سائنس اور عقل کو مذہب سے متصادم قرار دیا جار ہے۔ تدبیر اورعلاج کے بجائے انسانوں کی زندگی سے کھلواڑ کیا جار ہا ہے۔ کون ہیں یہ لوگ جو ایسی صورتحال کے ذمہ دار ہیں؟
دراصل معلومات کی کمی، غلط معلومات، پروپیگنڈا، غیر تصدیق شدہ میڈیا ئی غلط بیانی، ملکی ایگزیکٹیوز کی بروقت معلومات کی غیر فراہمی، میڈیا جرنلسٹوں پر بے جا قدغن، غیر جانبدار مکالمہ کا فقدان، توہماتی اور خیالی سازشی نظریات، میڈیکل سائنس کی غلط تشریحات، کیمیکل ویپن، فائیو جی اورنینو ٹیکنالوجی جیسے خرافات، سازشی تھیوریاں بیک وقت اس وائرس کے خلاف دنیا کے مشترکہ محاذ کو کمزور بنا رہی ہیں، تو دوسری طر ف یہ جمہوری حکومتوں کو بھی کمزور کر رہی ہے۔ قانون اور انصاف کا میزان الگ سے ڈگمگا رہا ہے۔ کہیں لاک ڈاؤن، تو کہیں ایمرجنسی نافذ، اور کہیں جگہوں پر تو لاک ڈاؤن کو مذاق سمجھا جا رہا ہے۔معاشی کمزوری کا مسئلہ الگ سے کھڑا کیا جا رہا ہے۔ حقیقت یہ ہے اور جہاں تک میرا خیال ہے کہ جب تک معاشرے کے تمام اسٹیک ہولڈرز اپنی ذمہ داری کا مظاہرہ نہیں کریں گے۔ اس وقت تک ممکن نہیں ہے کہ اس وبائی صورتحال کا مقابلہ کیا جاسکے۔
مَیں سمجھتا ہوں کہ پاکستانی حکومت کو وائرس کے مقابلے میں اپنے بنیادی ہیلتھ کئیر سسٹم کو فعال کرکے اس پر فوکس کرنا ہوگا۔ اصل حقائق کو با اختیار اہلکاروں، ایگزیکٹوز کے ذریعے روزانہ کی بنیاد پر میڈیا پر نشر کرنا ضروری ہے۔ دانستہ طور پر وائرس یا دوسری معاشی اسکیم کو خفیہ رکھنا خود حکومت کے لیے بھی نقصان کا سبب بنے گا اور دوسری طرف عوام بھی متاثر ہوں گے۔ سادہ سی بات ہے کہ جب حکومت اپنا ایجنڈا اور منصوبہ عوام کے ساتھ شیئر کرتی ہے، تو اس پر مکالمہ ہوتا ہے۔ تائید اور تنقید ہوتی ہے، جس سے منصوبے میں بہتر ی کے امکانات پیدا ہوتے رہتے ہیں۔ اس ساری صورتحال میں اب جب کہ وائرس کا ویکسین دریافت نہیں ہوا، حکومت کو ڈبلیو ایچ او کے فراہم کردہ فارمولے پر سختی سے عمل کرنا ہوگا کہ ا س کے علاوہ کوئی چارہ نظر نہیں آتا۔ میڈیا سنسر شپ کے بجائے حکومت کو ذمہ داری کا ثبوت دینا چاہیے۔ رائے اور اظہار کو قانونی پابندی او ر پالیسی کے تابع نشر کرنے کی اجازت دینا اس مسئلے کو کم کرنے میں کردار ادا کرسکتا ہے۔ اس مد میں رائے اور اظہا ر کا احترام کیا جانا چاہیے۔عوام اپوزیشن نہیں۔ اس کو اپنے ساتھ لے کر اس وبا سے نمٹا جاسکتا ہے کہ یہی ایک آپشن باقی ہے۔ یہ و ہ وقت ہے کہ جہاں میڈیا اور جر نلسٹوں پر غیر ضروی پابندیاں ختم ہونی چاہئیں، تو دوسری طرف آزاد اور غیر جانب دار مکالمہ کے لیے راہ نکالنی چاہیے۔ عوام کو ساتھ ملاتے ہوئے اس وبائی صورتحال کو اپنے حق میں بہتر کرنے کے مواقع کو ہاتھ سے نہیں جانے دینا چاہیے۔ میڈیا کو بغیر کسی پابندی کے عوام کے جذبا ت کا خیال رکھتے ہوئے ان کے مسائل متعلقہ فورم پر اٹھانے چاہئیں۔ بلاشبہ یہ وبائی بیماری پاکستان کے عوام کے لیے باالخصوص اور حکمرانوں کے لیے بالعموم سخت اور کٹھن وقت ہے۔ بنیادی معیشت دگرگوں ہے۔ حکومتِ پاکستا ن کو نئے ابھرتے چیلنجز کا بھی سامنا ہے، لیکن اس وقت جب وبا اپنے جوبن پر ہے، کسی نئے محاذ کا کھولنا نہ صرف حکومت پاکستان کے لیے مناسب نہیں ہے، تو دوسری طرف وبا پر کنٹرول کرنے میں بھی دقت کا سامنا ہوسکتا ہے۔ مَیں سمجھتا ہوں کہ اس وقت اتحاد و اتفاق کی ضرورت ہے۔ بنیادی ہیلتھ کئیر سسٹم کو فعال بنانے کی ضرورت ہے۔بجٹ میں صحت کے لیے وافر حصص رکھنے کی ضرورت ہے۔ جہاں بجٹ میں دفاعی اور غیر ضروری معاشی ترقی میں خاطر خواہ کمی کی ضرورت ہے، تو وہاں ایسے اقدامات بھی اٹھانا ہوں گے کہ اس ملکِ خداداد میں غربت اور بے روزگاری کا قلع قمع کیا جاسکے، و ما علینا الا البلاغ!

اشتہار / Advertisement
اشتہار / Advertisement
اس تحریر کو شیئر کریں:

⭐ آپ کو یہ تحریر کیسی لگی؟ (درجہ بندی کریں)

براہ کرم اس تحریر کو 1 سے 5 ستاروں کے درمیان ریٹنگ دیں

★ ★ ★ ★ ★
اوسط ریٹنگ: ⭐ 0 / 5 (0 ووٹ)

اپنا تبصرہ تحریر کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کی نشاندہی * سے کی گئی ہے۔