Swat

ہر سال پانچ ہزار سے زائدبچے تھلیسیمیا سے جاں بحق ہوتے ہیں، خصوصی رپورٹ

سوات    (باخبر سوات ڈاٹ کام)      پاکستان میں ہر سال پانچ ہزار سے زائدبچے تھلیسیمیا کے مرض سے جاں بحق ہوتے ہیں۔ تھلیسیمیا کے عالمی دن کے موقع پر الفجر فاونڈیشن کے کوآر ڈی نیٹر رحمان علی سائل نے باخبر سوات ڈاٹ کام کو بتایا کہ اس مرض میں وجود معیاری خون تیار کرنے کے قابل نہیں رہتا اور مریض کو ہر ماہ تازہ خون کی بوتل چڑھانی پڑتی ہے۔ ان کے مطابق اس وقت پاکستان میں اس مرض میں مبتلا بچوں کی تعداد ایک لاکھ سے زائد ہے۔ ہر سال پانچ ہزار سے زیادہ پیدا ہونے والے بچے اس مرض میں مبتلا ہوتے ہیں۔ ان کے مطابق اس مرض میں مبتلا بچوں کی تعداد سب سے زیادہ بلوچستان سے ہے اور دوسرے نمبر پر خیبر پختون خوا ہے۔ اس مرض میں مبتلا ایک سے چار سال کی عمر کے بچوں کو ہر ماہ، 8سال کے بچوں کو ہر ماہ دو سے تین بار اور 15سالہ مریض کو چار سے پانچ مرتبہ ہر ماہ تازہ خون کا انتقال کیا جاتا ہے۔ تھیلیسیمیا ہے کیا چیز؟ اس حوالے سے ڈاکٹر فوزیہ سعید اپنے ایک تحقیقی مقالے ’تھیلیسیمیا سے کیسے بچا جاسکتا ہے؟‘ میں لکھتی ہیں کہ ’تھیلیسیمیا خون کے اس مرض کو کہتے ہیں جس میں معیاری خون ناکافی بنتا ہے۔ یہ خون میں ہیموگلوبن کا پیدائشی نقص ہے۔ اس کی 3 اقسام ہیں۔تھیلیسیمیا مائنر،تھیلیسیمیا انٹر میڈیا اورتھیلیسیمیا میجر۔ھیلیسیمیا مائنرکے بارے میں ڈاکٹر فوزیہ سعید تھیلیسیمیا مائنر کے حوالے سے لکھتی ہیں کہ ’جو لوگ والدین میں سے ایک سے نارمل اور ایک سے ابنارمل جین حاصل کرتے ہیں، ان کو تھیلیسیمیا مائنر کہتے ہیں۔ ان میں بیماری کی کوئی علامت نہیں ہوتی۔ لیکن یہ ابنارمل جین اپنے بچے کو منتقل کرسکتے ہیں۔تھیلیسیمیا انٹر میڈیا کے حوالے سے ڈاکٹر فوزیہ رقم کرتی ہیں کہ ’یہ تھیلیسیمیا کی درمیانی قسم ہے، جس میں ہیموگلوبن 7 سے G9 تک رہتی ہے اور تھیلیسیمیا میجر کے مقابلے میں اس میں مریض کو خون لگوانے کی ضرورت کم پڑتی ہے۔ تاہم اس میں ’سائیڈ افکیٹس‘ آسکتے ہیں اور پیچیدگیاں پیدا ہوسکتی ہیں۔تھیلیسیمیا میجر کے حوالے سے ڈاکٹر صاحبہ لکھتی ہیں کہ ’یہ خون کی خطرناک بیماری ہے۔ اس مرض میں مبتلا مریض کو بروقت خون نہ دیا جائے تو اس کی جان کو خطرہ لاحق ہوسکتا ہے۔ کروناوائرس کی وجہ سے ملک بھر میں لاک ڈاؤن کی وجہ سے ان مریضوں کے لئے خون کی عطیات میں کمی آئی ہے۔ اس مرض میں مبتلا بچوں کو مفت خون دینے والے اداروں کا کہنا ہے کہ لاک ڈاؤن سے پہلے ان بچوں کے لئے لوگ وافر مقدار میں خون کے عطیات دیتے ہیں لیکن لاک ڈاؤن کی وجہ سے ان عطیات میں کمی آئی ہے۔ تھیلیسیمیا کی تاریخ سکندرِ اعظم سے شروع ہوتی ہے۔ اس بات پر مہرِ تصدیق ڈاکٹر اندرولا الیفتھیریو اپنی انگریزی کتاب میں ثبت کرتے ہیں جس کا اردو ترجمہ ڈاکٹر جویریہ منان ’جانیے تھیلیسیمیا‘ کے صفحہ نمبر 8 پر کچھ اس انداز میں کرتی ہیں کہ ’تھیلیسیمیا ایک یونانی لفظ ’تھیلس‘ سے ماخوذ ہے جس کا مطلب سمندر ہے۔ چونکہ یہ بحیرہ روم کے ارد گرد پایا جاتا تھا اور امریکی ماہرِ اطفال تھامس کولی نے ڈاکٹر پرل لی کے ساتھ مل کر پہلی بار 1927ء میں اس کی خصوصیات بیان کیں، جو اٹلی کے مریضوں میں مشاہدہ کی گئیں۔مذکورہ کتاب کے صفحہ 118 پر درج ہے کہ ‘آغاز میں تھیلیسیمیا ایک خطے کی بیماری سمجھی جاتی تھی، لیکن اب یہ دنیا کے ہر خطے میں موجود ہے۔ یہ جنوب یورپ میں پرتگال سے اسپین، یونان اور وسطی یورپ کے علاوہ روس کے کچھ علاقوں میں بھی موجود ہے۔ وسطی ایشیا میں یہ ایران، پاکستان، بھارت، بنگلہ دیش، تھائی لینڈ، ملائشیا، انڈونیشیا اور شمالی چین کے علاوہ افریقہ کے جنوبی ساحل اور جنوبی امریکہ میں بھی موجود ہے۔حوصلہ افزا بات کتاب کے صفحہ 119 پر کچھ یوں درج ہے:’اٹلی، یونان اور سائپرس جیسے ممالک نے کامیاب قومی روک تھام کے منصوبوں سے یہ ثابت کر دکھایا ہے کہ تھیلیسیمیا میجر پر قابو پایا جاسکتا ہے۔ تھیلیسیمیا ایک موروثی بیماری ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ والدین سے جینز کے ذریعے بچوں میں منتقل ہوتی ہے۔ یہ بیماری مریض سے انتقالِ خون، ہوا، پانی، جسمانی یا جنسی تعلق سے منتقل نہیں ہوسکتی اور نہ خوراک کی کمی یا طبی بیماری سے۔ اس حوالے سے الفجر فاؤنڈیشن کے کو آر ڈی نیٹر رحمان علی ساحل کہتے ہیں کہ ‘اگر ماں باپ میں سے کسی ایک کو تھیلیسیمیا مائنر ہو، تو بچے کو بھی تھیلیسیمیا مائنر ہی ہوگا۔ اگر خدا نخواستہ ماں باپ دونوں کو تھیلیسیمیا مائنر ہو تو ان کے ملاپ سے جنم لینے والا بچہ تھیلیسیمیا میجر ہوگا۔ اس لیے ضروری بات یہ ہے کہ اگر خاندان کے اندر شادی ہونے جا رہی ہو، تو لڑکا لڑکی دونوں کے ٹیسٹ کرائے جائیں۔ اگر مائنر بیماری دونوں میں پائی جائے، تو شادی روک دی جائے۔ اس طرح باآسانی تھیلیسیمیا کا راستہ روکا جاسکتا ہے۔ رحمان علی ساحل کے بقول تھیلیسیمیا کی بیماری پورے ملک میں سب سے زیادہ پشتون بیلٹ میں دیکھنے کو ملتی ہے۔ وہ بتاتے ہیں کہ ’پاکستان میں اس وقت ایک لاکھ سے زائد بچے تھیلیسیمیا سے متاثر ہیں۔ صوبہ خیبرپختونخوا اور بلوچستان کے وہ علاقے جہاں پشتون زیادہ تعداد میں آباد ہیں اور وہ خاندان کے اندر شادیوں کو ترجیح دیتے ہیں، ان کی نسل میں تھیلیسیمیا کی شرح زیادہ ہے۔ اس موذی مرض کا راستہ روکنے کے لیے سب سے پہلے یہ کرنا ہوگا کہ خاندان کے اندر ہونے والی شادیوں کی حوصلہ شکنی کرنی ہوگی۔ اگر ایسا کرنا کچھ خاندانوں کے لیے مشکل ہو، تو پھر چاہیے کہ شادی کے بندھن میں بندھنے سے پہلے لڑکا اور لڑکی دونوں کے ٹیسٹ کرائے جائیں۔ تھیلیسیمیا کا ٹیسٹ سرکاری ہسپتال میں 50روپے اور نجی لیبارٹریوں میں دو سو روپے میں کیا جاتا ہے۔ سندھ حکومت نے2013ء میں ایکٹ کے ذریعے قانو ن سازی کی تھی جس کے تحت کوئی نکاح خواں اس وقت تک کسی لڑکے، لڑکی کا نکاح نہیں پڑھوائے گا، جب تک ان کا ٹیسٹ نہ ہو جائے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر حکومت قانون سازی کرلیں، اور ٹیسٹ کے بغیر لڑکا لڑکی کا نکاح اس وقت تک نہ پڑھائیں جب تک ان کا ٹیسٹ نہ ہوا ہو، تو پاکستان میں اس بیماری پر مکمل قابو پایا جاسکتا ہے۔

متعلقہ خبریں

تبصرہ کریں