Swat

کورونا، لاک ڈاؤن، بارش ور ژالہ باری سے آڑو کی پیداوار بری طرح متاثر

سوات   (باخبر سوات ڈاٹ کام)    کرونا وائرس، لاک ڈاؤن، بے وقت بارش اور ژالہ باری کی وجہ سے اس سال سوات میں سب سے زیادہ پیدواری پھل آڑوکو 80 فیصد تک نقصان پہنچا ہے اور مزید بھی پہنچنے کا خدشہ ہے۔ سوات زرعی ریسرچ سینٹر کے ڈاریکٹر ڈاکٹر محمد ایاز خان کے مطابق سوات میں 2018ء کے اعداد و شمار کے مطابق ضلع سوات میں 40 ہزار ایکٹرسے زائد زمین پر ہر سال چار ہزار ٹن (چار کروڑ کلو گرام) آڑو کی پیداوار ہوتی ہے۔ سوات میں آڑو کی مختلف اقسام کی پیدوار مئی کے دوسرے ہفتے سے شروع ہوکر ستمبر کے پہلے ہفتے تک ہوتی ہے۔ اس عرصہ میں سوات کا آڑو ملک کے مختلف علاقوں میں پہنچایا جاتا ہے۔ زرعی ریسرچ سنٹر کی ڈاکٹر نادیہ بوستان نے باخبر سوات ڈاٹ کام  کو بتایا کہ اس سال بے وقت بارشوں سے باغات میں آڑو کو نقصان پہنچا ہے جس کی وجہ سے پیدوار میں کمی واقع ہوئی ہے۔ جب درختوں نے پھل دینا شروع کیا، تو ژالہ باری سے پھل کو نقصان پہنچا۔ پھل کم عمری میں ژالہ باری کی وجہ سے داغ دار ہوگیا۔ پھل کے سائز میں اضافے کے ساتھ داغ میں بھی اضافہ ہوتا گیا، جس کی وجہ سے زمینداروں کو کافی نقصان اٹھانا پڑا۔ سوات فروٹ ایسوسی ایشن کے صدر زمیندار رحمت علی خان نے باخبر سوات ڈاٹ کام کو بتایا کہ سوات میں تقریباً 90 ہزار خاندانوں کا کاروبار  آڑو کے باغات سے وابستہ ہے، تقریباً 8تا 9لاکھ افراد اس کی وجہ سے مصروف ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس سے پہلے سالوں میں آڑو کے سیزن میں سوات سے روزانہ دو سو تا  پانچ سو ٹرک آڑو لے کر ملک کے مختلف علاقوں کی منڈی میں جاتے تھے۔ ایک ٹرک میں 20 تا 25 ٹن آڑو ہوتا ہے۔  اس سال مذکورہ تعداد میں بہت کمی آئی ہے۔ ان کے مطابق موسم اور حالات کی وجہ سے آڑو کی پیدوار اس سال 80 فیصد کم ہوئی ہے، جس کی وجہ سے 90 ہزار خاندانوں کو کروڑوں روپے کا نقصان ہوگا۔ الہ آباد میں آڑو کے باغات کے ایک مالک محمد علی نے باخبر سوات ڈاٹ کام کو بتایا کہ کورونا وائرس کی وجہ سے اکثر علاقوں میں لاک ڈاؤن ہے۔  لوگ بازار کم نکلتے ہیں۔ بے روزگاری میں اضافے کی وجہ سے بھی لوگوں کی قوت خرید کم ہوگئی ہے جس کی وجہ سے پچھلے سالوں کی طرح آڑو کی منڈی میں فروخت کم ہوئی ہے، جس کا نقصان باغات کے مالکان کے علاوہ مزدوروں اور ٹرانسپورٹروں کو بھی ہورہا ہے۔ سوات میں ایک سیزن میں پندرہ سے زائد اقسام کا آڑو پیدا ہوتا ہے۔ یہاں کے آڑو کو نام کے بجائے نمبر سے پہچانا جاتا ہے۔ ان میں سب سے زیادہ پیداوار8 اقسام کے آڑو کی ہوتی ہے۔ زرعی ریسرچ سنٹر سوات کے ڈائریکٹر ڈاکٹر محمد ایاز خان نے باخبر سوات ڈاٹ کام کو بتایا کہ سوات میں مئی کے دوسرے ہفتے سے شروع ہونے والے آڑو کی پہلی پیدوار کو ”اَرلی“ کہا جاتا ہے۔ اس سیزن میں دو، تین اور چار نمبر آڑو کی پیدوار ہوتی ہے۔ اس سیزن کا آڑو زیادہ میٹھا نہیں ہوتابلکہ ترش ہوتا ہے، جس کی وجہ سے ذیابیطس کے مریض اسے زیادہ کھاتے ہیں۔ اس آڑو کی عمر تین سے چار دن تک ہوتی ہے۔ درمیانی سیزن ”مڈ“ میں چار، پانچ، چھے اور ساڑھے چھے نمبر کے آڑو کی پیداوار ہوتی ہے۔ ان آڑوؤں کا سائز بڑا اور ذائقے میں میٹھاس زیادہ ہوتی ہے۔ ان میں ساڑھے چھے نمبرآڑو مہنگا اور لوگوں کا پسندیدہ ہوتا ہے۔ اس سیزن کے آڑوؤں کی عمر سات سے آٹھ دن ہوتی ہے۔ آخری سیزن ”لیٹ“ میں سات اور آٹھ نمبر کے آڑو کی پیدوار ہوتی ہے جو ستمبر کے پہلے ہفتے تک ہوتی ہے۔ اس سیزن کے آڑو کی عمر پندرہ دن یا اس سے زیادہ ہوتی ہے۔ آخری”لیٹ“ سیزن کے آڑو کو دو ماہ تک کولڈ سٹور میں رکھا جاسکتا ہے۔زرعی ریسرچ سنٹر سوات کے ماہرین کا کہنا ہے کہ پہلے ملک بھر میں 85 فیصد آڑو کی پیداوار سوات میں ہوتی تھی، لیکن اب بلوچستان، سندھ، پنجاب اور خیبر پختون خوا کے مختلف علاقوں نے ان کے ریسرچ کردہ دو، تین اور چار نمبر آڑو کے باغات لگائے ہیں جو کامیاب ہوئے ہیں۔ یہ آڑو گرم موسم میں بھی پیداوار دیتا ہے۔ زمینداروں کو اس سے فائدہ پہنچتاہے جس کی وجہ سے اب سوات سے باہر کے علاقوں کے لوگ بھی اب آڑو کے باغات لگا رہے ہیں۔سوات کے زرعی ریسرچ سنٹر میں زرعی سائنس دانوں نے آڑو کی نئی قسم پندرہ پر بھی ریسرچ شروع کی ہے۔ امکان ہے کہ آڑو کی نئی اقسام جلد زمینداروں کو مل جائیں گی۔ زرعی سائنس دانوں کے مطابق ان کی کوشش ہے کہ نئی اقسام میں کیڑے مار دواؤں کا اسپرے کم ہوگا۔ آڑوکی عمر بڑھانے اور گرم علاقوں میں بھی اس کی پیداوار ممکن ہوسکے گی۔

اشتہار / Advertisement
اس تحریر کو شیئر کریں:

⭐ آپ کو یہ تحریر کیسی لگی؟ (درجہ بندی کریں)

براہ کرم اس تحریر کو 1 سے 5 ستاروں کے درمیان ریٹنگ دیں

اوسط ریٹنگ: 0 / 5 (0 ووٹ)

اپنا تبصرہ تحریر کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کی نشاندہی * سے کی گئی ہے۔