Swat

دل نما جھیل ”سری کالام“ توجہ کا مرکز بن گئی

(باخبر سوات ڈاٹ کام)سوات کے پہاڑوں میں کثیر تعداد میں قدرتی جھیلیں ہیں۔ ان میں اب تک ایک سو سے زائد وہ جھیلیں جہا ں جانے والوں نے تصاویر یا ویڈیوز بنائی ہیں، دریافت ہوئی ہیں۔ دریافت ہونے والی جھیلوں میں سے ایک دل نما اور منفرد و تاریخی جھیل ”سری کالام“ کے نام سے بھی مشہور ہے۔ سری کالام جھیل سطح سمندر سے12086 فٹ اونچائی پر واقع ہے۔ یہ جھیل قدرتی طور پر ”دل“ کی شکل لیے ہوئی ہے۔ جھیل جانے کے لئے مہو ڈنڈ جھیل سے پیدل سات تا آٹھ گھنٹوں کی پیدل مسافتہے۔ جھیل کو جانے والے راستے میں حسین مناظر، پگھلنے والے برف سے بھری ندیاں، اونچائی سے تیزی کے ساتھ گرنے والی آبشاریں اور قدرتی چشمے ہیں۔ راستے میں سنڑا پنغالے جھیل، جانو سبزہ زار اور ڈونچار آبشار کے علاوہ، آدھ درجن آبشاریں دیکھنے کو ملتی ہیں۔ سری کالام بلند ی پر واقع سوات کی جھیلوں میں سے ایک ہے، جہاں جولائی کے مہینے میں بھی آس پاس پرف پڑی رہتی ہے۔ سری کالام جھیل کے آس پاس ہموار زمین بھی ہے جہاں کیمپنگ کی جاسکتی ہے۔ سری کالام جھیل کا شمار پاکستان کی تاریخی جھیلوں میں ہوتا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ گیارہویں صدی عیسوی میں جب سوات میں ہندو شاہی دور آخری سانسیں لے رہا تھا۔اس وقت یہاں کا بادشاہ راجہ گیرا تھا۔ محمود غزنوی کی فوج نے اس وقت سوات پر حملہ کیا۔اوڈیگرام کے راستے ”گیرا“ پہاڑی پر جب فوج حملہ آور ہوئی، تو راجہ گیرا، اس کی فوج اور علاقہ کے بیشتر لوگ سیدو شریف کے راستے فرار ہوگئے، سری کالام جھیل کے آس پاس قیام کیا، جہاں موسمِ سرما میں شدید برف باری کے بعد سخت سردی کی وجہ سے راجہ گیرا، اس کی فوج اور نوے فیصد آبادی ہلاک ہوگئی۔ باقی دس فیصد لوگ واپس آکر مٹلتان میں آباد ہوئے۔ سری کالام جھیل وادئی کالام کا آخری علاقہ ہے جہاں سے ایک راستہ گلگت بلتستان اور دوسرا چترال کو جاتا ہے۔ اس راستے سے ٹریکر گروپ کی شکل میں چترال اور گلگت جاتے ہیں۔ سوات میں سیاحوں کی آمد پر پابندی اٹھنے کے بعد سیاح اس جھیل کو جاسکتے ہیں۔ سری کالام جانے کے لئے مٹلتان اور مہو ڈنڈ میں ان کو گائیڈ مل سکتے ہیں، جو تین ہزار روپے کے عوض گروپ کے ساتھ جاتے ہیں، اور پھر سیاحوں کو واپس لے کر آتے ہیں۔

اشتہار / Advertisement
اس تحریر کو شیئر کریں:

⭐ آپ کو یہ تحریر کیسی لگی؟ (درجہ بندی کریں)

براہ کرم اس تحریر کو 1 سے 5 ستاروں کے درمیان ریٹنگ دیں

اوسط ریٹنگ: 0 / 5 (0 ووٹ)

اپنا تبصرہ تحریر کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کی نشاندہی * سے کی گئی ہے۔