(باخبر سوات ڈاٹ کام) پاکستان میں تونائی بحران ہے اور ملک کا کوئی حصہ نہیں جہاں لوڈ شیڈنگ اور کم وولٹیج کی شکایت یا احتجاج نہ ہو، مگر سوات کی حسین ترین وادی کالام ملک کا وہ واحد علاقہ ہے جہاں بجلی کی لوڈ شیڈنگ نہیں ہوتی اور کم وولٹیج کی شکایت بھی نہیں۔ 2010ء سے پہلے کالام میں واپڈا کی بجلی تھی۔اس وقت وولٹیج انتہائی کم اور لوڈ شیڈنگ زیادہ ہوتی تھی۔ 2010ء کے سیلاب میں کالام سڑک اور اس کے کنارے کھڑے واپڈا کے کھمبے اور تار پانی میں بہہ گئے۔ سرحد رورل سپورٹ پروگرام نے یورپی یونین کے تعاون سے کالام میں 1.6 میگا وولٹ کے دو پن بجلی گھر بنائے۔پانی سے بجلی پیدا کرنے والے اس بجلی گھر سے دو سو سے زائد ہوٹلوں، تین سو سے زائد دکانوں اور اکیس سو سے زائد گھروں کو بلا تعطل بجلی کی فراہمی شروع کی۔ بجلی گھر، کھمبے، تار وغیرہ پر بجلی گھر کے انچارج موسیٰ خان کے مطابق تیس کروڑ روپے تک خرچہ آیا۔ کالام میں اس بجلی کا گھریلو یونٹ چار روپے اور کمرشل یونٹ بارہ روپے ہے، جو پاکستان میں سب سے سستی بجلی ہے۔ کالام میں پنکھے، اے سی نہ ہونے کی وجہ سے گھریلو صارفین کے بل دو سو سے تین سو اور ہوٹلوں کے بل ایک ہزار سے دس ہزار روپے تک آتے ہیں۔ موسیٰ خان کے مطابق بلوں سے جمع ہونے والی رقم اس بجلی گھر اور مرمتی کام پر لگائی جاتی ہے۔ کالام میں سرِ شام جب ہوٹلوں، دکانوں اور گھروں میں برقی قمقمے روشن ہو جاتے ہیں تو علاقہ کی رونق بڑھ جاتی ہے۔ آنے والے سیاح اب کراچی کی جگہ کالام کو ”روشنیوں کا شہر“ کہتے ہیں۔
Swat
