(باخبر سوات ڈاٹ کام) پشاور ہائی کورٹ مینگورہ بنچ کے جسٹس اشتیاق ابراہیم اور جسٹس وقار احمد پر مشتمل ڈویژن بنچ نے ایک مقدمہ میں شدت پسند کمانڈر نور محمد المعروف کمانڈر عباس ولد خان محمد ساکن گیشاڑ ملم جبہ سوات کو جرم ثابت نہ ہونے پر بری کردیا۔ وکلا کے دلائل مکمل ہونے پر عدالت نے پولیس کی خراب تفتیش اور کمزور شہادت پر برہمی کا اظہار کیا اور جرم ثابت نہ ہونے پر ملزم کو بری کردیا۔ اس مقدمہ میں ملزم پر الزام تھا کہ اس نے 22 فروری 2014ء کوضلع بونیر کے علاقہ شلتالو تنگے گوکند روڈ پر بم دھماکا کرایا تھا، جس میں عدالت خان ایڈووکیٹ ولد شیر بہادر خان ان کے ساتھی عبید اللہ، مستقیم خان جاں بحق اور ان کا سیکورٹی گارڈ محمد یاروز اور محمد امین زخمی ہوئے تھے۔ تھانہ ڈگر میں ملزم کے خلاف دفعات 302,324,PPC,7ATA,3/4ESA کے تحت مقدمہ درج ہوا تھا۔ واضح رہے کہ ملزم کو سی ٹی ڈی پولیس نے ایک کارروائی میں ضلع بونیر کی پہاڑی علاقہ ایلم سے گرفتار کیا تھا۔ ملزم کے خلاف تھانہ سی ٹی ڈی کبل سوات میں بھی دیگر مقدمات میں بھی ایف آئی آر درج ہے۔
Swat
