(باخبر سوات ڈاٹ کام)بچوں سے جنسی زیادتی ایک مرض ہے۔ اس مرض پر قابو پایا جاسکتا ہے۔ امریکہ میں مقیم ماہرِ نفسیات انجم خان نے باخبر سوات ڈاٹ کام کو بتایا کہ ہمارے معاشرے میں تیزی سے بڑھتی ہوئی ٹیکنالوجی کی وجہ سے مختلف قسم کے منفی اثرات لوگوں کی شخصیت پر اثر انداز ہو رہے ہیں۔ ان میں سے آج کل ہونے والے واقعات کو مدِ نظر میں رکھتے ہوئے معصوم بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی اور بعد میں ان کے قتل کے واقعات سرخیوں یا نیوز چینلوں پر بریکنگ نیوزمیں پیش کیے جاتے ہیں۔ جب ہمارے معاشرے میں کوئی ایسا واقعہ رونما ہوتا ہے، تو لوگ مذمت کرکے اور بعد میں میڈیا کے سامنے ملزم کو سخت سے سخت سزا دینے کا اعلان کرتے ہیں اور بس۔ جو لوگ اس طرح کے واقعات میں ملوث ہوتے ہیں، وہ باقاعدہ ایک مرض میں مبتلا ہوتے ہیں۔ یہ ایک ذہنی بیماری ہے جس کو ”پیڈو فیلیا“ ُ(Pedophilia)یا ”بچہ بازی“ کہا جا تا ہے۔ ہم سب کو چاہیے کہ ہم اس کی بنیادی وجہ معلوم کریں اور انفرادی یا اجتماعی طور پر اس پر مختلف زاویوں سے کام کرکے لوگوں میں آگاہی پھیلائیں، تاکہ اس معاشرتی برائی پر قابو پانے میں مدد حاصل ہو۔ نیز ایسے اقدامات کیے جائیں کہ اس سے نجات حاصل ہو۔ ایک رپورٹ کے مطابق پچھلے سال بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی اور قتل کے پونے چار ہزار واقعات رونما ہوئے۔ صرف پاکستان ہی میں نہیں دنیا بھر میں بچوں کے ساتھ جنسی تشدد اور قتل کی وارداتیں ہوتی ہیں، جس میں امریکہ اور دیگر ترقی یافتہ ممالک شامل ہیں۔ ”پیڈو فیلیا“ایک ایسی نفسیاتی بیماری ہے جس میں ایک بالغ شخص بچوں کی طرف جنسی رغبت رکھتا ہے اور ان سے لذت حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ وہ بچے جو ابھی بلوغت کو نہیں پہنچے ہوتے، ان کو ”پیڈوفائل“ (بچہ باز) جنسی لذت کے لیے اپنی طرف مائل کرتے ہیں۔ بچے مذکورہ فرد کے قریبی رشتہ دار یا پڑوسی ہوتے ہیں جن کی طرف اس کی رسائی آسان ہوتی ہے۔ یہ مرض ”پیرا فیلیا“ (Paraphila) کی ایک قسم ہے۔ پیرا فیلیا وہ جنسی خلا ہے جس میں کسی بھی انسان کی جنسی لذت اور اشتعال بے قاعدہ اور شدید طریقے سے سر اٹھاتی ہے۔ اس مرض میں مبتلا شخص کو کم از کم چھے مہینے تک شدید اور بار بار جنسی لذت محسوس ہوتی ہے۔ زیادہ تر کے خیالوں میں پانچ سے تیرہ سال کے بچے آتے ہیں۔ ایسے متاثرہ افراد میں بچہ بازی کے اثرات زیادہ ہوتے ہیں جس کی وجہ سے ایسے افراد بچے یا بچی کی طرف زیادہ مائل ہوتے ہیں۔ بچے نہ ملنے کی صورت میں ان کی طبیعت میں بے چینی اور چڑچڑا پن شروع ہو جاتا ہے اور جس شخص میں ایسی علامات ظاہر ہوں، تو ہم کہہ سکتے ہیں کہ اس شخص کو ”پیڈو فیلیا“ بیماری ہے۔ماہرِ نفسیات کا کہنا ہے کہمعاشرے میں اس بیماری سے مختلف زاویوں سے نمٹنا ضروری ہے۔ اس میں ضروری ہے کہ اول ہم اپنے بچوں کو ان کی حدود سمجھائیں۔ ان کو آگاہ کریں کہ اپنے ماں باپ، بہن بھائی، دادا دادی، نانا نانی کے علاوہ کسی کے قریب نہ پھٹکیں۔ اس حوالے سے ہمارے پاس سوشل میڈیا بھی ایک بہترین ذریعہ ہے جس پر خاکوں یا کارٹونوں کے ذریعے بچوں میں آگاہی پیدا کی جاسکتی ہے۔ سکول میں انتظامیہ بھی بچوں کے لیے ایک کلاس میں اس بارے آگاہی دے سکتی ہے۔ سب سے پہلے والدین کا فرض بنتا ہے کہ وہ بچوں کو اپنی نگرانی میں رکھیں اور ان کو اکیلے باہر جانے نہ دیں۔ ان کو سمجھائیں کہ کسی بھی بالغ شخص کی غیر رسمی حرکت کو والدین کے علم میں ضرور لائیں۔ ماہرِ نفسیات کے مطابق اگر ہم معاشرتی طور پر سوچیں، تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر ایک بندہ ”پیڈو فائل“ کیسے بنتا ہے؟ کیا وہ پیدائشی ایسے ہوتا ہے؟ جواب ضرور ”نہیں!“ ہوگا، بلکہ گرد و نواح میں پائی جانے والی آزادی، خاص کر سوشل میڈیا کے ذریعے ان کی جنسی شدت، شہوت کو اتنا بڑھاوا ملتا ہے کہ وہ اپنی جنسی لذت کو پورا کرنے کے لیے بچوں کو اپنی طرف مائل کرتے ہیں۔ہمارے معاشرے میں پھیلی ہوئی فحاشی و عریانی بھی اس کا ایک بڑا سبب ہے۔ کم عمر بچے آسانی سے ہاتھ آجاتے ہیں۔ اس لیے ان لوگوں کا شکار کم عمر بچے ہی ہوتے ہیں۔ یہ لوگ یا تو ہر وقت موقع ملتے ہی ان سے اپنی شہوت پورا کرتے ہیں یا پتا چل جانے کے خوف سے انہیں قتل کردیتے ہیں۔ ایسے بچے بڑے ہوکر خود بھی پیڈو فائل ہی بنتے ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ کسی بھی طرح اپنے بچوں کو سوشل میڈیا یا فحاشی و عریانی سے دور رکھا جائے۔ اس مرض میں مبتلا مریض کی پہچان کے بارے میں ماہر نفسیات نے باخبر سوات ڈاٹ کام کو بتایا کہمرض ”پیڈوفیلیا“ کا شکار شخص بظاہر ایک نارمل انسان ہوتا ہے، جس کی وجہ سے اس پر شک نہیں کیا جاتا۔ معاشرے میں اس مرض میں مبتلا لوگوں کی پہچان قدرے مشکل ہے، لیکن ان کی پہچان باآسانی ہوسکتی ہے۔اگر کوئی شخص بچوں کے ساتھ کوئی غیر معمولی یا غیر رسمی حرکت کرے، یا کوئی شخص بچوں کو غیر متوقع طرح سے گھور رہا ہو، یا بچے کو کسی بہانے سے اپنے ساتھ اکیلا کرنے کی کوشش کرے، تو اکثر ایسے افراد اس مرض میں مبتلا ہوتے ہیں۔ ایسے شخص پر نظر رکھنی چاہیے اور اس کے خاندان والوں کو آگاہ کیا جانا چاہیے کہ وہ اُس کو ماہرِ نفسیات کے پاس لے جائیں۔ ”پیڈو فیلیا“ مکمل طور پر کنٹرول نہیں ہوسکتا، لیکن ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ یہ قابلِ علاج مرض ہے، جس سے ادویہ یا کونسلنگ کے ذریعے نجات مل سکتی ہے۔ اس بیماری کی شدت میں کمی لائی جاسکتی ہے، تو اس لیے ضروری ہے کہ آس پاس یا رشتہ داروں میں اگر اس قسم کی حرکات کسی کو نظر آئیں، تو بجائے اس کے کہ اس سے تعلق ختم کیا جائے، اس کا علاج کیا جائے۔ کیوں کہ ایسا شخص تو آپ کے بچوں سے دور ہو جائے گا، لیکن وہ کسی دوسرے کے بچے کو شکار بنا لے گا۔ اس لیے ضروری ہے کہ اپنے بچوں پر نظر رکھیں اور اگر ان علامات کا کوئی شخص نظر آجائے، تو فوری طور پر اس کو ماہرِ نفسیات کے پاس لے جائیں، تاکہ بروقت اس کا علاج ہوسکے، اور پھول جیسے بچے اس کے شر سے محفوظ رہ سکیں۔
Swat
