Swat

سرکاری اور عوامی جلسہ کا فرق صاف ظاہر ہے، مریم نواز

(باخبر سوات ڈاٹ کام)مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز شریف نے کہا ہے کہ لاہور اور اسلام آباد میٹرو کو جنگلا بس کہنے والے نے پشاور میں 8 ارب روپے کی بی آر ٹی 124 ارب میں بنائی، جو تاحال مکمل نہیں ہوئی۔ ان کی بسوں میں کبھی آگ لگتی ہے تو کبھی یہ خراب ہوتی ہیں۔ پشاور کی بی آر ٹی بسیں بھی ایسی بے بس ہیں، جس طرح سلیکٹڈ وزیر اعظم بے بس ہیں۔ کرپشن سے بنی بے آر ٹی کی بسیں روزانہ سلیکٹڈ وزیر اعظم کے چہرے پر تھپڑ رسید کرتے ہیں۔ گراسی فٹ بال سٹیڈیم میں بڑے عوامی اجتماع سے اپنے خطاب میں انہوں نے کہا کہ نواز شریف کے بیانئے کے نیچے مسخرے کی حکومت دب چکی ہے۔ نواز شریف کی ایک تقریر نے ان کی نیندیں حرام کردی ہیں۔ پاکستان کی تمام بیماریوں اور مسائل کا ایک ہی حل ہے کہ اس کٹھ پتلی حکومت کو گھر بھیج دیں۔ صاف شفاف انتخابات کرائے جائیں۔ ہم اداروں سے نہیں ٹکراتے، اداروں کو بھی عوام سے نہیں ٹکرانا چاہیے۔ گلگت بلتستان میں دھاندلی کا جو پروگرام بنایا تھا، اس کے مطابق ن لیگ کو انہوں نے تین چار سیٹیں دینا تھیں، لیکن جب وہاں انہوں نے عوامی سمندر دیکھا، تو پھر فیصلہ کیا کہ اب تو سات آٹھ سیٹیں دینا پڑیں گی، لیکن میں دھاندلی کرنے والوں کو بتانا چاہتی ہوں کہ اگر دھاندلی کروگے، توپچھتاؤگے اور اگر دھاندلی نہیں کروگے، تو اس سے زیادہ پچھتاؤگے۔ یہ ایسی حکومت ہے کہ اس نے میرے کمرے میں کیمرے لگوانا چاہے، اگر کیمروں کا اتنا شوق ہے، تو نیب میں کیمرے لگوائیں، تاکہ قوم کو حقیقت کا پتا چل سکے۔ اگر میں وزیر اعظم ہوتی اور کوئی کسی عورت کے کمرے کا دروازہ توڑتا، تو میں کم از کم اسی وقت استعفا دے دیتی۔ اس وزیر اعظم کو تو اس واقعے کا پتا نہیں تھا، جو لوگ ملک چلا رہے ہیں۔ انہوں نے اس کٹھ پتلی کو بتانا بھی مناسب نہیں سمجھا۔ مریم نواز نے کہا کہ پختون عورتوں کے سروں پر چادر ڈالنا جانتے ہیں، لیکن سلیکٹڈ ایک باپ کے سامنے بیٹی کو گرفتار کرتا ہے، اور دروازہ توڑ کر عورت کے کمرے میں داخل ہوتا ہے۔انہوں نے کہا کہ چند روز قبل اسی گراؤنڈ میں سرکاری جلسہ کیا گیا، جو سب نے دیکھا۔ آج اس گراؤنڈ میں عوامی جلسہ ہے جس سے ان کو سرکاری اور عوامی جلسے کا پتا لگ گیا ہوگا۔ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس وقار احمد سیٹھ کے بارے میں انہوں نے کہا کہ آج ملک ایک دلیر اور انصاف پسند جج سے محروم ہوگیا۔ اُن کو صدیوں یاد رکھا جائے گا۔ نواز شریف نے اس ملک سے مہنگائی ختم کی، لوڈ شیڈنگ ختم کی، دہشت گردی ختم کی، جس کی ان کو سزا دی گئی۔ آج ان لوگوں نے مہنگائی کی، معیشت کو تباہ کیا، لوڈ شیڈنگ شروع کی اور سب سے بڑھ کر یہ دہشت گردی شروع کی۔ عوام کو ایک بار پھر اندھیروں میں دھکیل دیا۔ یہ حکومت روزانہ 18ارب روپے کا قرضہ لے رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جلسوں میں جو کہتا تھا کہ خان صاحب کی حکومت آئے گی، تو ہم دو سو ارب ڈالر آئی ایم ایف کے منھ پر ماریں گے۔ انہوں نے کہا کہ کدھر ہے آج کل وہ بندہ۔ اب تو آئی ایم ایف روزانہ آپ کے منھ پر تھپڑ رسید کرتا ہے۔انہوں نے کہا کہ اس صوبے میں دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اے این پی اور خاص کر بلور خاندان اور میاں افتخار حسین نے بہت قربانیاں دی ہیں۔ ملک کا وزیر داخلہ کہتا ہے کہ ہم تمہارے ساتھ وہی کریں گے جو اے این پی کے ساتھ کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ خیبر پختون خوا کے فنکاروں کا علاج ہم پنجاب میں کرتے ہیں۔ یہ حکومت تو خیبر پختون خوا میں ایک فرانزک لیبارٹری تک نہ بنا سکی۔ جب کوئی واقعہ ہوتا ہے، تو فرانزک کے لئے ٹیسٹ پنجاب بھجواتی ہے۔ مریم نے کہا کہ یہاں احتساب کمیشن کھولا گیا اور جب پتا چلا کہ چور تو سارے ان کی صفوں میں ہیں، تو احتساب کمیشن کو تالا لگادیا گیا۔ ملم جبہ اسکینڈل کا کیا ہوا، بلین ٹری سونامی میں دس پودے بھی نہیں لگائے گئے۔ جلسہ سے نواز شریف نے لندن سے ویڈیو لنک کے ذریعے بھی خطاب کیا۔صوبائی صدر امیر مقام نے بھی جلسہ سے خطاب کیا۔ سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی، احسن اقبال، پرویز رشید، صابر شاہ، میاں جاوید لطیف، طلال چوہدری، مریم اورنگزیب اور مرتضیٰ جاوید عباسی بھی جلسہ میں موجود تھے۔لیگی رہنما مریم نواز اوردیگر قائدین اسلام آباد سے بائے روڈ سوات پہنچے۔ چکدرہ کے مقام پر کارکنوں نے ان کا استقبال کیا۔ سیدو شریف پہنچنے پر انہوں نے مقامی ہوٹل میں کچھ دیر قیام کیا اور کھانا کھایا۔ اس کے بعد وہ جلسہ گاہ روانہ ہوئے۔ جلسہ کے بعد واپس بائے روڈ اسلام آباد کے لئے روانہ ہوئے۔ مریم نواز شریف نے اجتماع میں زیادہ لوگوں کو دیکھ کر اپنے سمارٹ فون سے خود اجتماع کی ویڈیو بنائی۔ اس وقت ”تھینک یو سوات“ کے کیپشن کے ساتھ سوشل میڈیا پر شیئر کی۔ مریم نواز نے اپنے خطاب کے آغاز پر پشتو میں کہا: ”زما رونڑوں، خویندوں، راغے راغے شیر راغے، تاسو سنگہ ئی۔ نواز شریف درتہ یادیگیی۔“ ن لیگ سوات کے جلسہ میں چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ وقار احمد سیٹھ کی وفات پر ان کے بلند درجات کے لئے اجتماعی دعا کی گئی۔ صوبائی صدر امیر مقام نے کہا کہ آج ہم لوگ ایک بہادر جج سے محروم ہوگئے، لیکن ان کے فیصلے ان کو ہمیشہ یاد رکھیں گے۔

اشتہار / Advertisement
اس تحریر کو شیئر کریں:

⭐ آپ کو یہ تحریر کیسی لگی؟ (درجہ بندی کریں)

براہ کرم اس تحریر کو 1 سے 5 ستاروں کے درمیان ریٹنگ دیں

اوسط ریٹنگ: 0 / 5 (0 ووٹ)

اپنا تبصرہ تحریر کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کی نشاندہی * سے کی گئی ہے۔