(باخبر سوات ڈاٹ کام) سوات میں سرکاری سکول کے استاد اور ان کے رضا کار شاگردوں نے ماہِ رمضان کے لئے 26 سو خاندانوں میں خوراکی پیکیج تقسیم کردئیے۔ محمد عالم اور ان کے سیکڑوں شاگرد ایک عرصہ سے انسانیت کی خدمت میں سال کے بارہ مہینے مصروف رہتے ہیں۔ وہ مریضوں کا علاج اور غریبوں کی امداد بھی کرتے ہیں۔ اس سال ماہِ رمضان میں مستحق افراد کو راشن پہنچانے کے لئے انہوں نے رمضان سے دو ماہ قبل مینگورہ شہر کے نو یونین کونسلوں کے 26 سو مستحق خاندانوں کی نشان دہی کی، جس کے لئے ہر محلہ میں ان کے شاگرد رضاکاروں کو محلہ کا کوآرڈی نیٹر مقرر کیا گیا، جنہوں نے اپنے محلوں میں مستحق افراد کی لسٹیں تیار کیں۔ پھر دوسرے رضاکاروں کی مدد سے ان کی تصدیق کی گئی۔ ان26 سو خاندانوں کے لئے خوراکی پیکیج تیار کئے گئے جس میں آٹا، چینی، گھی، چائے، چاول، مختلف قسم کی دالیں اور دیگر خوراکی اشیا شامل تھیں۔ محلہ کے کوآرڈی نیٹر نے پیکیجز کو رات کے اندھیرے میں مستحق خاندانوں کو ان کے گھر پہنچایا۔ محمد عالم کا کہنا ہے کہ اندھیرے میں راشن پہنچانے کا مقصد یہ تھا کہ کسی پڑوسی یا محلے دار کو پتا نہ چلے کہ اس گھر کو راشن دیا گیا ہے۔ اس کارِ خیر کے لئے محمد عالم کے رشتہ داروں، دوستوں، شاگردوں اور مخیر حضرات نے ان کو نقد اور خوراکی اشیا کی شکل میں 60 لاکھ روپے سے زائد رقم دی۔ محمد عالم کے سیکڑوں شاگردوں اور دوستوں نے ان اشیا کی پیکنگ میں ان کی مدد کی۔ ان کے ایک شاگرد محمد عباس نے باخبر سوات ڈاٹ کام کو بتایا کہ وہ مالی امداد نہیں کرسکتے۔ اس لئے پیکنگ میں حصہ لیکر اس کارِ خیر میں شامل ہو رہے ہیں۔محمد عالم جس سکول میں استاد ہے، کئی سالوں سے وہ خالی کلاس میں جاکر شاگردوں کو ایک گھنٹا ”انسانیت“ اور انسانوں کی مدد پر لیکچر دیتے ہیں، جس کی وجہ سے ان کے وہ شاگرد جو اب کالج یا یونیورسٹی میں پڑھتے ہیں، یا فارغ ہوچکے ہیں، اپنے رشتہ داروں اور دوستوں سے مل کراپنے علاقوں میں دکھی انسانیت کی خدمت کرتے ہیں۔ان کے ایک شاگرد ثناء اللہ جو سوات یونیورسٹی میں قانون کا طالب علم ہے نے باخبر سوات ڈاٹ کام کو بتایا کہ ان کے استاد نے ان کو انسانیت کی مدد کرنا سکھایا اور اب وہ دوسرے انسانوں کی مدد کی کوشش کرتا ہے جس کی وجہ سے ان کو سکون ملتا ہے۔پچھلے سال کورونا کی وجہ سے لاک ڈاؤن کے دوران استاد اور ان کے شاگردوں نے 6 ہزار سے زائد خاندانوں کو خوراکی اشیا ان کی دہلیز پر مہیا کیں، جس کے لئے لوگوں نے ان کو ایک کروڑ 40 لاکھ روپے سے زائد رقم نقد اور سامان کی شکل میں دی تھی۔ اس سال عید کے موقع پر مستحق افراد اور خاص کر ان کے بچوں کے لئے کپڑے اور جوتے بھی فراہم کئے تھے۔ استاد اور ان کے شاگرد ہر رمضان میں یکم رمضان سے عید تک ہر شام مینگورہ شہر کی سڑکوں پر مسافروں میں افطاری بھی تقسیم کرتے ہیں۔ شہر میں وہ افراد جو افطاری کے وقت بازار میں ہوتے ہیں۔ گاڑی کے ڈرائیور اوران میں موجود مسافر جو اذانِ مغرب کے وقت شہر میں ہوں، ان کو پیک خوراک، کھجور، پکوڑے اور شربت دیتے ہیں۔ افطاری کے وقت اس کام میں بھی شاگرد ان کی مدد کرتے ہیں۔ مذکورہ استاد اور شاگرد رمضان میں گھر میں نہیں بلکہ سڑک پر افطاری کرتے ہیں۔ مخیر حضرات ان کو تیار خوراک، کھجور، پکوڑے اور شربت مہیا کرتے ہیں۔
- کمنٹس
- فیس بک کمنٹس
