(باخبرسوات ڈاٹ کام)سوات میں حالیہ لاک ڈاؤن اور سیاحوں کے داخلے پر پابندی سے سیاحت کے کاروبار سے وابستہ افراد کو اربوں روپے نقصان کا اندیشہ ہے۔ اس سے پہلے ہائی کورٹ مینگورہ بنچ کی جانب اسکی ریزارٹ میں داخلہ فیس نہ لینے کا حکم دیا تھا، جس کے بعد سیمسن گروپ نے اسکی ریزارٹ، چیئر لفٹ اور تمام پارک وغیرہ بند کئے تھے جو تاحال بند ہیں۔ سوات ہوٹلز ایسوسی ایشن کے صدر الحاج زاہد خان نے باخبر سوات ڈاٹ کام کو بتایا کہ پچھلے سال مارچ سے اگست تک لاک ڈاؤن کی وجہ سے سیاحت سے وابستہ افراد کو ساڑھے نو ارب روپے کا نقصان ہوا تھا جس کے بارے میں ان کی ایسوسی ایشن نے مکمل سروے کیا تھا۔ الحاج زاہد خان نے کہا کہ کوئی بھی بیمار شخص سیاحت کے لئے نہیں جاتا اور صحت مند لوگ ہی سیاحت کے لئے جاتے ہیں۔ وہ اپنی گاڑی میں جاتے ہیں اور اپنے کمرے میں رہتے ہیں۔ ان کی سیاحتی مقامات میں کوئی جان پہچان نہیں ہوتی جس کی وجہ سے ان کا ملاپ بہت کم ہوتا ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان نے کورونا کی وجہ سے اربوں ڈالر کی امداد لی ہے لیکن سیاحت سے وابستہ افراد کو اس امداد میں شامل نہیں کیا گیا جو اس شعبے سے انتہائی نا انصافی ہے۔
Swat
