(باخبر سوات ڈاٹ کام) باغات اور آبی زرعی جائیداد کی ایکویزیشن پی ایچ سی مینگورہ بنچ میں چیلنج کردی گئی۔ میاں کوثر حسین ایڈووکیٹ نے دلائل دیتے ہویے کہا کہ سوات سب سے بہترین آڑو پیدا کرنے والا علاقہ ہے۔ باغات اور قلیل آبی زمینوں کی ایکویزیشن زرعی اقتصادی پالیسی 2002ء اور موسمیاتی تبدیلی کی پالیسی 2012ء کے خلاف ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ کوئی معیار/ گائیڈ لائن/ معیاری طریقہئ کار/ قانون برائے انتخاب/ مختص کرنے اراضی موجود نہیں بلکہ تمام اختیارات پٹواری اور سیاستدانوں کو سونپے گئے ہیں جو اختیارات کے ناجائز استعمال کا سبب بن رہے ہیں۔ انہوں نے دلیل دی کہ جگہوں کے الاٹمنٹ کے لیے سول تنظیموں سمیت تمام متعلقہ محکموں پر مشتمل ایک مناسب کمیٹی تشکیل دی جانی چاہیے۔ آبی زمینوں اور باغات کے بجائے غیر مزروعہ،بنجر زمینون کو ایکوایر کیا جائے۔ جسٹس اشتیاق ابراہیم کی سربراہی میں ڈویژن بنچ نے باقاعدہ سماعت کے لیے رٹ کو منظور کرتے ہوئے، متنازعہ املاک/باغات میں مداخلت کے حوالے سے حکومت کے خلاف عبوری حکم امتناعی جاری کیا۔
Swat
