(باخبر سوات ڈاٹ کام)سوات میں بسنے والی مسیحی برادری نے ان کے لئے قبرستان نہ ہونے کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا۔ مظاہرین جن میں خواتین بھی شامل تھیں، نے کچہری چوک سے پریس کلب تک احتجاجی ریلی نکالی۔اس موقع پر برادری کے رہنماؤں سیمسن پطرس اور شکیل صدیق نے مشرق سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ سوات میں مسیحی برادری کے160 خاندانوں کے 8 سو سے زائد افراد آباد ہیں۔ ان کے لئے کوئی قبرستان۔ گذشتہ دو ماہ میں ان کی برادری کے چار افراد کا انتقال ہوا جن کو ملاکنڈ، مردان، اٹک اور دیگر علاقوں میں سپردِ خاک کیا گیا۔ اب ملاکنڈ اور دیگر علاقوں کی مسیحی برادری نے بھی مردے وہاں دفنانے سے منع کردیا ہے۔ کیونکہ ان کے قبرستانوں میں جگہ کم ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے ہر حکومت سے مسیحی قبرستان کے لئے درخواست کی، لیکن شنوائی نہیں ہوئی۔ اب اگر ان کی برادری میں کسی کا انتقال ہوا، تو وہ لاش ڈپٹی کمشنر کے دفتر کے سامنے رکھیں گے۔ کیونکہ ہم اپنے مردوں کو جلا سکتے ہیں اور نہ دریا ہی میں پھینک سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم بھی انسان ہیں، پاکستانی ہیں، سواتی ہیں، اس لئے وزیر اعلیٰ فوری طور پر ہمارے لئے قبرستان کا بندوبست کریں۔ اس سلسلے میں انتظامیہ کا موقف جاننے کے لئے ڈپٹی کمشنر سوات جنید خان سے رابطہ کیا گیا، تو انہوں نے مشرق کو بتایا کہ مسیحی برداری کا سوات کے مختلف شعبوں میں اہم کردار ہے۔ حکومت اور انتظامیہ ان کو اچھے شہریوں کی نظر سے دیکھتی ہے۔ حکومت نے ان کے قبرستان کے لئے زمین پر سیکشن فور لگایا ہے۔ اس سلسلے میں انتظامیہ، محکمہئ اوقاف کے ساتھ بھی رابطہ میں ہے۔ جلد مسیحی برادری کے قبرستان کے لئے زمین خریدی جائے گی۔
- کمنٹس
- فیس بک کمنٹس
