کالم نگاری

ایک چھوٹی سی درخواست

ماجد اللہ خان

✍️ کالم نگار: ماجد اللہ خان

اشتہار / Advertisement

سوات ایک سیاحتی علاقہ ہے…… جہاں ملک بھر سے نہیں بلکہ دنیا بھر سے لوگ آتے ہیں اور اس کی فطری خوب صورتی سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔
سوات کو ایشیا کا سوئٹزر لینڈ بھی کہا جاتا ہے۔ ملکی سیاحوں کی کوشش ہوتی ہے کہ رمضان سے پہلے ایک چکر سوات کا لگ ہی جائے۔ کیوں کہ آج کل سوات کا موسم نہایت خوش گوار ہوا کرتا ہے۔ سوات کی خوب صورتی کے ساتھ یہاں کے لوگ بھی مہمان نواز ہیں…… اور اپنے مہمانوں کا بڑی خوش اسلوبی سے خیر مقدم کرتے ہیں۔
اس طرح سوات پولیس انتظامیہ بھی ان کی مہمان نوازی میں کوئی کثر نہیں چھوڑتی…… جس سے سیاح خوشی خوشی اور اچھی یادیں لے کر لوٹتے ہیں، یوں پوری دنیا کے سامنے سوات کا ’’سافٹ امیج‘‘ سامنے آتا ہے۔
اور اگر معاملہ اس کے برعکس ہو، تو سیاح یہاں سے مایوس ہوکر لوٹیں گے اور پھر کبھی سوات آنے کا نہیں سوچیں گے۔ ایسے کچھ واقعات میری آنکھوں کو سامنے بھی ہو گزرے ہیں۔
پچھلے دنوں میرا اپنے دوست ذاکر کے ساتھ اسلام آباد جانا ہوا۔ صبح روانہ ہوئے، تو راستے میں دیکھتے ہیں کہ لاہور سے کچھ کوسٹرگاڑیاں پہنچی ہیں…… جن پر نصب شدہ بورڈ کو پڑھ کر اندازہ ہوا کہ یہ گاڑیاں لاہور کے کسی میڈیکل کالج سے آئے ہوئے طلبہ و طالبات مہمانوں کی ہیں۔ اور مہمان سوات کی طرف جا رہے ہیں۔ اس پر مجھے اطمینان کا احساس ہو رہا تھا کہ اتنے ڈھیر سارے مہمان سوات تشریف لارہے ہیں۔ یہ تقریباً 30 گاڑیاں تھیں۔ اتنے میں دیکھتے ہیں کہ ان میں سے ایک کوسٹر کو ٹریفک پولیس نے روک کے رکھا تھا اور چالان کاٹ رہا تھا…… جو مجھے ذاتی طور ناگوار گزرا۔ اُس وقت مَیں یہ سوچ رہا تھا کہ یہ بے چارے ابھی سوات داخل ہی نہیں ہوئے…… اور ان کا چالان بھی کٹ گیا۔
اس کے ساتھ ایک اور مسئلہ بھی قارئین کے گوش گزار کرتا چلوں کہ جب بھی کچھ دکان دار، ہوٹل انتظامیہ یا تفریحی مقامات کی انتظامیہ باہر سے آئے ہوئے مہمانوں کو دیکھتی ہے، تو سب یہی سوچتے ہیں کہ ’’آگیا بکرہ قصائی کی چھری کے نیچے!‘‘ سب اپنی اپنی جگہ اپنی سروسز اور اشیا کی قیمتوں میں اضافہ کرلیتے ہیں۔
قارئین! سوچنے کا مقام ہے کہ جب یہ لوگ واپس جائیں گے، تو کیا تاثر لے کر جائیں گے؟ ایسے واقعات مَیں کئی بار دیکھ چکا ہوں۔ مَیں یہ نہیں کہہ رہا کہ سب اس میں حصہ دار ہیں…… بلکہ ان میں زیادہ تر لوگ ایسے بھی ہیں جو اپنی مہمان نوازی کا ثبوت دیتے ہیں۔ سیاح سوات کی خوب صورتی اور اس کے لوگوں کے بارے میں سن کر یہاں آتے ہیں کہ یہ لوگ کافی مہمان نواز ہیں اور مہمانوں کی خاطر داری ہوا کرتی ہے۔ اگر ہم ان سیاحوں کے ساتھ اچھا برتاؤ نہیں کریں گے، تو اس سے پوری وادی کا امیج کیا جائے گا؟ کہیں ایسا نہ ہو کہ ہماری حالت بھی مری جیسی ہوجائے۔ میرا پولیس انتظامیہ، ہوٹل مالکان، دکان داروں اور بالخصوص ڈپٹی کمشنر سوات ’’جنید خان‘‘ سے یہی درخواست ہے کہ ان مسایل پر خصوصی توجہ دیں…… تاکہ مہمان جب بھی سوات آئیں، تو اچھی یادیں ساتھ لے کر جائیں۔
خدا ہمارا حامی و ناصر ہو!

اشتہار / Advertisement
اس تحریر کو شیئر کریں:

⭐ آپ کو یہ تحریر کیسی لگی؟ (درجہ بندی کریں)

براہ کرم اس تحریر کو 1 سے 5 ستاروں کے درمیان ریٹنگ دیں

★ ★ ★ ★ ★
اوسط ریٹنگ: ⭐ 0 / 5 (0 ووٹ)

اپنا تبصرہ تحریر کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کی نشاندہی * سے کی گئی ہے۔