Swat

سوات،مختلف سرکاری محکموں میں سیکڑوں بھوت ملازمین کا انکشاف

(باخبر سوات ڈاٹ کام)سوات میں مختلف سرکاری محکموں میں بھرتی ہونے والے سیکڑوں کی تعداد میں بھوت ملازمین کا انکشاف ہوا ہے جو ایک عرصے سے بغیر ڈیوٹی کے گھر پر تنخواہ وصول کر رہے ہیں۔ ان افراد کو پچھلے پانچ سال میں بھرتی کیا گیا ہے اور یہ افراد بغیر ڈیوٹی کی تنخواہ وصول کر رہے ہیں ا ور ایک دن بھی ڈیوٹی پر نہیں گئے۔ ان افراد میں بیشتر تحریک انصاف کے عہدیدار بھی ہیں اور حالیہ پُرتشدد واقعات میں بھی ملوث رہے۔ ان میں سے ایک زاہد اللہ ولد عنایت اللہ ساکن کوزہ باما خیلہ جو انجینئرنگ یونیورسٹی میں گریڈ 17 کا آفیسر ہے، جو ایک دن بھی ڈیوٹی پر نہیں گیا اور گھر بیٹھے تنخواہ وصول کر رہا تھا۔ زیادہ وقت تحریک انصاف کے جلسوں میں گزارتا تھا، جس کو گذشتہ روز مٹہ پولیس نے 9 مئی کے ہنگاموں میں انسدادِ دہشت گردی کی دفعات کے تحت گرفتار کیا گیا۔ انصاف یوتھ ونگ مینگورہ کا صدر عامر خان جو محکمہ ورکس اینڈ سروس میں ملازم تھا، کبھی ڈیوٹی پر نہیں گیا۔ اس کو محکمہ نے چھٹی نمبر3245 پر برطرف کردیا۔ یہ بھی انکشاف ہوا ہے کہ پچھلی حکومت میں ملم جبہ روڈ پر جہان آباد میں بدھا کے مجسمے کی دیکھ بھال کے لئے تحصیل مٹہ کی ایک مسجد کے امام کو چوکیدار بھرتی کیا گیا ہے، لیکن وہ بھی ایک دن ڈیوٹی پر نہیں گیا۔ محکمہ آرکیالوجی میں سوات میوزیم میں درجنوں کی تعداد میں ملازمین کو بھرتی کیا گیا ہے، جو گھر بیٹھے تنخواہ وصول کر رہے ہیں۔ سوات کے مختلف ہسپتالوں میں بھی سو سے زائد افراد کو بھرتی کیا گیا، وہ بھی ڈیوٹی سے غیر حاضر ہیں۔ سوات سٹیڈیم کے قریب گورنمنٹ لیڈیز فٹنس کلب میں بھی پچاس سے زائد ملازمین کو بھرتی کیا گیا ہے۔ یہ تمام افراد بھی ڈیوٹی سے غائب ہیں۔ سپورٹس ڈیپارٹمنٹ سوات کے دفتر میں بھی درجنوں افراد کو بھرتی کیا گیا ہے، جن میں ایک درجن کے قریب ”مالی“ ہیں۔ مزے کی بات یہ ہے کہ سپورٹس ڈیپارٹمنٹ کے دفتر میں نہ تو گراس ہے اور نہ گملوں میں پودے۔ محکمہ جنگلات میں بھی تین سو سے زیادہ افراد کو بھرتی کیا گیا ہے، جو ڈیوٹی سے غائب ہے۔ محکمہ ماہی پروری میں مردوں کے ساتھ خواتین واچر کو بھرتی کیا گیا ہے، جو بھی گھر بیٹھے تنخواہ وصول کر رہی ہیں۔ محکمہ اطلاعات سوات میں کئی سالوں سے ایسے افراد بھرتی کئے گئے ہیں جنہوں نے ایک دن بھی دفتر میں حاضری نہیں لگائی۔ باوثوق ذرائع کا کہنا ہے تمام سرکاری محکموں میں مزید سیکڑوں افراد کو بھرتی کیا گیا ہے جو صوبائی خزانے سے تو تنخواہ لیتے ہیں، لیکن ڈیوٹی پر نہیں جارہے۔ ایک متعلقہ سرکاری آفیسر نے نام شائع نہ کرنے کی شرط پر اس خبر کی تصدیق کی اور کہاں کہ بھوت ملازمین کے خلاف اب سرکاری محکموں نے کارروائی شروع کردی ہے۔

اشتہار / Advertisement
اس تحریر کو شیئر کریں:

⭐ آپ کو یہ تحریر کیسی لگی؟ (درجہ بندی کریں)

براہ کرم اس تحریر کو 1 سے 5 ستاروں کے درمیان ریٹنگ دیں

اوسط ریٹنگ: 0 / 5 (0 ووٹ)

اپنا تبصرہ تحریر کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کی نشاندہی * سے کی گئی ہے۔