کالم نگاری

بچو، خوش آمدید!

روح الامین نایاب

✍️ کالم نگار: روح الامین نایاب

اشتہار / Advertisement

  24مئی کو جب میں سنگوٹہ پبلک سکول میں تقریباً دس بجے صبح داخل ہوا، تو ہر طرف چہل پہل دکھائی دے رہی تھی۔ چھوٹے چھوٹے بچے سکول یونیفارم پہنے اِدھر اُدھر دوڑ رہے تھے۔ چہچہارہے تھے۔ سکول کا تمام عملہ معمول کے مطابق کام کررہا تھا۔ سامنے ایک بڑا خوب صورت بینر بچوں کو خوش آمدید کے لیے لگا ہوا تھا۔ گیٹ پر پولیس گارڈ مستعد اور چاق و چوبند کھڑے تھے۔ میں پُرسکون لمحات کے احساس میں رفتہ رفتہ محترمہ پرنسپل صاحبہ کے دفتر کی طرف بڑھا۔ پرنسپل صاحبہ سے خوش گوار ماحول میں ملاقات ہوئی۔ وہ دوبارہ سکول کھلنے پر انتظامیہ کی شکر گزار تھی۔ اگرچہ 16 مئی کے ناخوش گوار واقعے پر رنجیدہ تھی، مگر اپنی معصوم شاگرد اور سکول کی چھوٹی طالبہ کی شہادت پر اور اس حادثاتی ناخوش گوار واقعے کا بار بار ذکر کرتی رہی۔ دکھ اور افسوس کا اظہار کررہی تھی۔
انھوں نے کہا کہ آج دوبارہ سکول کھلنے کا پہلا دن ہے، لیکن پانچ زخمی بچیوں میں سے 3سکول آئی ہیں، جب کہ شہید عائشہ کی بڑی بہن ریشہ بھی سکول آگئی ہے، جو چوتھی جماعت میں پڑھ رہی ہے۔
قارئین! سنگوٹہ پبلک سکول کے دوبارہ کھلنے کے لیے مقامی انتظامیہ نے بروقت اور جلد مناسب اقدام کرکے حالات معمول پر لائے ہیں۔ اس ظالم پولیس گارڈ کے خلاف کارروائی بھی ہوچکی ہے۔ وہ گرفتار ہوکر جیل جاچکا ہے اور جلد اپنے انجام کو پہنچ جائے گا۔
سکول کو 24 عدد پولیس گارڈ دیے جاچکے ہیں، جس میں دو عدد سینئر حوالدار انچارج شامل ہیں۔ متعلقہ پولیس افسروں نے ذمے داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے جلد از جلد معاملات کو معمول پر لانے کی کوشش کی ہے۔
جناب ڈپٹی کمشنر کے خاص طور پر شکر گزار ہیں۔ بہ قولِ پرنسپل صاحبہ ’’ڈپٹی کمشنر صاحب نے اسسٹنٹ کمشنر جناب منیر احمد صاحب کے ذریعے یہ پیغام ارسال کیا تھا کہ سکول کو جلد از جلد کھولا جائے۔ اگر کوئی مسئلہ ہو، تو میں خود آکر گیٹ پر کھڑے ہونے کو تیار ہوں۔‘‘
منیر صاحب کے ساتھ ڈی ایس پی عطاء اللہ صاحب بھی موجود تھے۔ پرنسپل صاحبہ نے انتظامیہ کا خصوصی شکریہ ادا کیا کہ انھوں نے ہر موقع پر بھرپور ساتھ دینے کا مظاہرہ کیا ہے، اور میرے مطالبے پر خاطر خواہ پولیس گارڈ مہیا کیے ہیں اور ہر بار مجھے میری معروضات اور شکایات سننے کا موقع فراہم کیا ہے۔
اس دلخراش واقعے سے جو ڈر اور خوف پورے علاقے میں پھیل گیا تھا، علاقے کے عوام میں بالعموم اور بچوں کے والدین میں بالخصوص، اب رفتہ رفتہ حالات معمول پر آ رہے ہیں۔ سکول انتظا میہ کے ساتھ علاقے کے عوام اور بچوں کے والدین انتظامیہ سے یہ اُمید اور توقع رکھتے ہیں کہ یہ ناخوش گوار اور دردناک واقعہ آخری واقعہ ثابت ہو، دوبارہ کسی بچے یا بچی کے ساتھ یہ ظلم نہ ہو۔
سنگوٹہ پبلک سکول جیسے حساس تعلیمی ادارے کو مکمل تحفظ دینے کے لیے ہر قسم کے ممکنہ اقدامات کیے جائیں گے۔ کسی بھی سکیورٹی گارڈ کو بھیجتے ہوئے اُس کی پوری چھان بین کی جائے گی۔ کسی بھی مشکوک پولیس گارڈ کی اس سکول پر ڈیوٹی نہیں لگائی جائے گی۔ ڈی پی او صاحب سے خاص درخواست ہے کہ وہ ذاتی طور پر سکول کے سکیورٹی معاملات میں دلچسپی لیں۔ کیوں کہ علاقے کے انتظامی اور سکیورٹی حوالے سے ایسی غفلت اور غلطی کی ایک بار گنجایش ہوتی ہے۔ حالیہ آس پاس کچھ ایسے واقعات رونما ہورہے ہیں جس سے پورے علاقے میں خوف و ہراس پھیل رہا ہے۔
انتظامیہ با خبر رہے کہ عوام امن کے حوالے سے حساس ہیں، بیدار ہیں اور جاگ اُٹھے ہیں۔ سوات کے عوام اپنی پولیس پر اعتماد کرتے ہیں اور انھوں نے ہر فورم پر، ہر چوک چوراہے پر اور ہر احتجاج میں دہشت گردی کے خلاف امن کے قیام کے لیے صرف سوات پولیس پر اعتماد کا اظہار کیا ہے۔ وقت کا تقاضا ہے کہ اس اعتماد کو کسی بھی قیمت پر ٹھیس نہ پہنچائی جائے۔ کیوں کہ سوات میں امن کے قیام کے حوالے سے اگر ’’اولس اور پولس‘‘ (عوام اور پولیس) میں ایک بار بھی بے اعتمادی پیدا ہوگئی، تو یہ پورے علاقے کے لیے سخت تشویش کی بات ہوگی۔ حالات ایسے ڈگر پر پہنچ جائیں گے کہ اس سے واپسی ناممکن ہوگی۔ کیوں کہ امن اور سکیورٹی کے حوالے سے تمام ادارے رفتہ رفتہ اپنا اعتماد کھورہے ہیں۔ عوام اپنے آپ کو غیر محفوظ سمجھتے ہیں۔ ہر طرف خوف پھیل رہا ہے۔ سیاست میں تشدد، بدکلامی، گالم گلوچ کا کلچر پروان چڑھ رہا ہے۔ برداشت کا مادہ ختم ہورہا ہے۔ سیاسی اختلاف کو انتقام کی شکل دی جارہی ہے۔ جمہوری روا داری ختم ہورہی ہے۔ نظریاتی سیاست کی جگہ شخصیت پرستی کی سیاست ہورہی ہے۔ تشدد کی سیاست کو ہر گز اجازت نہیں دینی چاہیے۔ تشدد کی سیاست کرنے والوں کو ہر گز معاف نہیں کرنا چاہیے اور ایسے عناصر کو قرار واقعی سزا دینی چاہیے۔ سوات کو بلکہ پورے پختونخوا کو صرف اور صرف امن کی ضرورت ہے، جو بھی امن کو نقصان پہنچائے گا…… وہ اس علاقے اور اس علاقے کے عوام کا اور بچے بچے کا دشمن تصور کیا جائے گا، اُسے ہر گز معاف نہیں کیا جائے گا۔ امن نہ صرف سب کا مطالبہ ہے بلکہ سب کی ضرورت بھی ہے۔

اشتہار / Advertisement
اس تحریر کو شیئر کریں:

⭐ آپ کو یہ تحریر کیسی لگی؟ (درجہ بندی کریں)

براہ کرم اس تحریر کو 1 سے 5 ستاروں کے درمیان ریٹنگ دیں

★ ★ ★ ★ ★
اوسط ریٹنگ: ⭐ 0 / 5 (0 ووٹ)

اپنا تبصرہ تحریر کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کی نشاندہی * سے کی گئی ہے۔